’’ٹھٹھہ غلام کا دَھروکا‘‘ گڑیوں کا گاؤں

ناصر ذوالفقار  اتوار 16 مارچ 2014
جرمن خاتون  ڈاکٹر سینٹا اینا ماریہ سِیلر کی محنت اور تیکنیک نے قدیم دست کاری کو جدید شکل دے دی۔ فوٹو: فائل

جرمن خاتون ڈاکٹر سینٹا اینا ماریہ سِیلر کی محنت اور تیکنیک نے قدیم دست کاری کو جدید شکل دے دی۔ فوٹو: فائل

یہ جنگ عظیم دوم کاکھٹن وقت تھا جب نازی جرمنی نے آسٹریا پر دھا وا بول دیا تھا۔ زندگی بچانے کے لے ویانا میں پید ا ہونے والی اس ہونہار بچی نے اپنے والدین کے ساتھ ملک سے ہجرت کی اور جرمنی میں پناہ گزین کے طور پر رہائش اختیار کرلی اور آج وہ بچی اس ملک کی ایک باوقار اور معزز خاتون کے طور دنیا بھرکی خواتین کے لیے رول ماڈل بن چکی ہے، جو کہ جرمنی کے لیے فخر و افتخار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

یہ ’’گڑیوں کی ماں ‘‘ (Mother of Dolls)  ڈاکٹر سینٹا اینا ماریہ سِیلر ہیں جنہوں نے پاکستان کے دیہی خواتین اور وہاں کی زند گی میں تبدیلی لانے کے اپنی زندگی کے 20 سال صرف کردیے۔ پاکستان کے لیے غیرمعمولی خدمات انجام دینے والی یہ جرمنی کی تیسری سب سے محترم اور قابل احترام خاتون ڈاکٹر ہیں جنہوں نے اپنی رضاکارانہ خدمات کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا ان خواتین میں سب سے پہلے مایہ ناز اسکالر ڈاکٹر این میری شمل کا نام آتا ہے، جنہوں نے فلسفہ، ادب اور تعلیم کے میدان میں جب کہ ڈاکٹر رتھ کیتھرین مارتھا نے طب کے شعبے میں پاکستان میں مثالی خدمات انجام دی ہیں۔ یہ تمام خواتین ان کچھ لوگوں میں سے ہیں جو دوسرے کے لیے جیتے ہیں، تاکہ ان کی زندگی کو بہتر سے بہتر اور بامقصد بنایا جاسکے۔ ان خواتین نے اپنی خدمات دیتے ہوئے عمر کا بڑا حصّہ ہمارے ملک میں بسر کیا۔ پاکستان کے عوام ان عظیم خواتین کے جذبے اور ایثار کا والہانہ اعتراف بھی کرتے ہیں۔ س مضمون میں ہم ’’ٹھٹھہ غلام کا دَھروکا‘‘ کے ’’آئیڈیل دیہات‘‘ کی منصوبہ ساز محترمہ سینٹا سلر کی شخصیت اور فن کارانہ کام کا تذکرہ کر رہے ہیں۔

٭ڈاکٹر سینٹاسِلر اور پاکستان میں مثالی ’’گڑیوں کا گائوں‘‘

گڑیوں کے گاؤں کے خیال نے اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت جنم لیا تھا۔ یہ منصوبہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گائوں ’’ٹھٹھہ غلام کا دَھروکا‘‘ میں کام کرنے والی مقامی فلاحی تنظیم ’’انجمن فلاح ِ عوام ‘‘ (AeFeA) نے شروع کیا جو کہ 1991 ء میں رجسٹرڈ ہوئی تھی۔ یہ تنظیم اب دیگر 6 مقامی وغیرملکی این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ یہ این جی اوز کراچی سے ہنزہ تک رسائی رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی مصروفِ عمل ہے۔ یہ اب دوسرے اہم تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی تعاون کررہی ہے، جن میں بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی (ملتان)، انڈس ویلی اسکول آف آرٹس (کراچی)، اسکول آف ویثرول آف آرٹ (لاہور) اور ایرٹ زرعی یونیورسٹی (راولپنڈی) شامل ہیں۔

اس منفرد منصوبے کی منصوبہ ساز ڈاکٹر سینٹا سلر اور ان کے دوسرے رضاکار جرمن ساتھی ہیں، جنہوں نے مقامی این جی اوز کے ساتھ مل کر اسے حقیقت کا روپ دیا۔ آخر یہ سب کیسے شروع ہوا؟

http://express.pk/wp-content/uploads/2014/03/Mother-of-dolls.jpg

’’ٹھٹھہ غلام کا دَھروکا‘‘ نامی اس گائوں کے ایک رہائشی امجد علی جرمنی میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ واپسی پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے جرمن اساتذہ کو اپنے گائوں کی دیہاتی زندگی دیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ چناںچہ انہوں نے ڈاکٹر سینٹا کو گائوں کے دورے کی دعوت دی۔ ڈاکٹر سینٹا نے اپنے ساتھ پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ پِنچ کو بھی لائیں۔ جب ان کے سامنے امجد علی نے ایک دیہاتی عورت کی بنائی ہوئی گڑیاں پیش کیں تو دونوں غیر ملکی مہمان انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہیں بنانے والی کی ہنرمندی کو بہت سراہا۔ ساتھ ہی وہ اس گاؤں کے قدرتی ماحول اور بے حد سادہ زندگی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ تب زرخیزذہن کی مالک ڈاکٹر سینٹا نے یہاں رہنے اور کام کرنے کی ٹھان لی۔ بظاہر سادہ سا نظر آنے والا یہ گائوں پاکستانی طرز کا ایک خوب صورت گاؤں ہے، جہاں نہ گیس اور ٹیلی فون کی لائنیں ہیں اور نہ ہی تارکول کی پختہ سڑکیں ! یہ ایک بالکل مختلف رہائشی مقام ہے جو خوب صورت گڑیوں اور دیگر دست کاری کے سازوسان کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے، جوکہ دیہاتی لوک ماحول اور ثقافت کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ گڑیا سازی کے کام کو جرمنی سے آنے والے رضاکاروں کی جدید تیکنیک اور کاوشوں نے مزید نکھار دیا ہے۔

ان گڑیوں کو آئس لینڈ کے مرکزی میوزیم اور پاکستان کی مختلف گیلریوں اور شورومز کی زینت بنایا گیا ہے۔ ٹی جی ڈی گائوں دیہی منصوبہ عالمی سطح کے 767 پروجیکٹس کا ایک حصہ ہے، جسے ’’ایکسپورٹ 2000 ء‘‘ کی نمائش میں ’تھیم پارک‘ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ یہ نمائش جرمنی کے شہر “Hannover” میں منعقد ہوئی تھی، جسے  اکیسویں صدی کی سوچ کی آئینہ دار کہا گیا تھا۔ اس سے قبل ہماری گڑیوں کی نمائش  Nuremberg کے ’’ٹوائے فئیر‘‘ میں ہوئی تھی۔ ان گڑیوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے سادہ سی ثقافتی آرٹ حقیقی سائنس کے ملاپ سے ایک شاہ کار کی تخلیق میں ڈھل جاتا ہے، جو یقینی طور پر لوگوں کے دل ودماغ پر اپنے اثرات چھوڑتی ہے۔ اس گائوں میں 150 کے لگ بھگ دیہی خواتین آرٹ اینڈ کرافٹ کے اس منصوبے سے وابستہ ہیں جس سے متاثر ہوکر ڈاکٹر سینٹا سیلر نے رفیع پیر تھیٹرورکشاپ کے تعاون سے کام کا آغاز کردیا تھا۔ اس گائوں میں 0.6  ملین کی امدادی رقم سے کام کیے جارہے ہیں ۔

17اکتوبر 1935 ء میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر سینٹا سلر نے اپنی اسکول کی تعلیم اسکول آف آرٹ۔ برلن سے مکمل کی تھی اس کے بعد انہوں نے ڈیزائنگ و السٹریشن کا اپنا ادارہ قائم کیا جسمیں انکی بنائی گئی دستکاری، بچوں کے دیدہ زیب کپڑوں، کھلونے اور کتابوں کی دل فریب ڈیزائننگ کو نمائشوں اور فئیرز میں پیش کیا جاتا تھا۔ اس طرح انہوں نے اپنی پہلی آمدنی اپنے فن و ہنر سے حاصل کی جس کے ساتھ ہی ڈیزائنگ اور آرٹ ان کا جنون بن گیا۔ انہوں نے آرکیالوجی، فلسفے اور تعلیم میں ماسٹرز کرنے کے بعد ’’ہسٹری آف آرٹس‘‘ میں یونیورسٹی آف برلن سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ابتدا میں انہوں نے سول سروس میں بھی کام کیا وہ برلن کے ایک آرٹ اسکول کی ’’ڈپٹی ہیڈ آف آرٹ‘‘ رہی ہیں، جہاں وہ کبھی لیکچرز دیا کرتی تھیں۔ 1965 میں جب وہ پاکستان پہلی بار تشریف لائی تھیں تو ایک ٹیکسٹائل کمپنی چلارہی تھیں اور اپنی سول سروس اور ڈیزائنر کے طور پر مشاورت سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوسری بار  1993 یہاں آئیں تو وہ اپنی مدد آپ کے بے مثال منصوبہ کی اعزازی منیجر تھیں، جن کی سرگرمیوں کا مرکزی اور اہم ملک پاکستان رہا ہے ۔

’’گڑیوں کی ماں‘‘ کہلانے والی ڈاکٹر سینٹا سلر کی تعمیری فتوحات کو جانچا جاسکتا ہے۔ یہاں گائوں میں ان کی کام یابی کا صلہ ہے کہ دوسرے ممالک سے بھی انہیں آنے کی دعوتیں دی گئیں اور آج وہ اس سے مشابہت رکھنے والے گڑیائوں کے نیٹ ورک کے کئی پروجیکٹس دنیا کے مختلف ممالک میں سپروائز کررہی ہیں، جن میں جرمنی کے علاوہ نمائیاں ہیں کیمرون، کولمبیا، آئس لینڈ، یونان اور گرین لینڈ شامل ہیں۔ کیمرون اپنے پیتل (براس) کے کام کے لیے جب کہ کولمبیا ’’Tagua‘‘آرٹ سے جانے جاتے ہیں۔ فلاحی تنظیم کی ان تخلیق کردہ گڑیوں اور کھلونے کی مقامی منڈیاں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہیں جب کہ دوسرے غیرملکی خریدار جاپان، دوبئی، امریکا، آسڑیلیا اور نیوزی لینڈ میں موجود ہیں۔ یورپ میں ان کی مانگ زیادہ ہے۔ یہاں کئی ممالک ہیں، جہاں دستی ہنرمندی اور سجاوٹ ان کے بازاروں کی رونق بڑھائی ہیں۔ اس منصوبے کی افادیت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹرسینٹا رضاکارانہ بنیاد پر دوسرے ساتھیوں کے اشتراک سے متعدد نمائشوں میں شریک ہوچکی ہیں، جن میں انہوں نے پاکستانی گڑیوں کی مصنوعات کو متعارف کروایا ہے۔ ان میں اینتھولوجیکل میوزیم آف “Leipzi” (کولون)، اسٹیوگراڈ، ویانا، برلن اور زیورخ جیسے بین الاقوامی نوعیت کے حامل شہر شامل ہیں۔

پاکستان کی گڑیاں مخصوص قبائل، برادریوں اور لوک موضوعات کی ترجمانی کرتی ہیں۔ گذشتہ 14سال کے دوران پاکستان کی یہ خوب صورت گڑیائیں دنیا کے 40 سے زاید مختلف ممالک میں گاہکوں کے سوٹ کیسوں میں سفر کرچکی ہیں۔ یہ اپنے ساتھ ہنرساز کے نام کی پلیٹ رکھتی ہیں، جس سے یہ فن کار کی فن کاری کی سفیر بھی بنتی ہیں، جہاں جہاں یہ گڑیاں جاتی ہیں، وہاں گڑیاسازوں کی دست کاری کا فن بھی رسائی حاصل کرتا ہے، جو کہ ہمارے لیے فخر اور خوشی کی بات ہے۔ گڑیاسازی پاکستان میں سب سے قدیم اور مقبول لوک فنون میں سے ایک ہے۔ اس کا سادہ سبب یہ ہے کہ یہ خالص طور پر دیہاتی بچوں کے بہلانے کے لیے ہوتی ہیں جہاں آج بھی لوگ بنیادی انسانی ضروریات کے حصول کے لیے ترستے ہیں اور کوشاں رہتے ہیں۔ قدیم گڑیاسازی اور ڈاکٹر سینٹا کی جرمن تیکنیک کی گڑیا سازی میں بنیادی فرق سائز اور ان کے زیب تن کپڑوں ہی کا ہے۔ ان کے کپڑوں کی تفصیلا ت کے ساتھ رنگارنگ لباس میں انواع واقسام کو متعارف کروایا جاتا ہے، جو مارکیٹ کی طلب و اہمیت کو دیکھتے ہوئے تیار ہوتی ہیں۔ یہ اعلیٰ معیار کے میٹریل کے ملائم کھلونے ہیں، جو تحفہ تحائف کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں اور مارکیٹ کی زینت بنتے ہیں۔

ڈاکٹر نوربرٹ اور ڈاکٹر سینٹا سلر نے نہ صرف اپنے کام کی تیکنیک و جستجو کو دیہی زندگی کا حصہ بنادیا ہے، بل کہ مختلف امداد فراہم کرنے والوں کے تعاون سے خواتین کا آرٹ سینٹر اور مردوں کے ووکیشنل مرکز کی ایک سادہ و کشادہ عمارت بھی کھڑی کردی ہے۔ یہاں 150 سے زاید 20 سے 40 سال کی خواتین ہیں، جو اس خواتین کے سینٹر میں گڑیوں کے لیے کام کرتی ہیں ، جہاں ان کے لباس بھی سلائی کیے جاتے ہیں، جن میں پاکستان کے تمام علاقائی لباس پنجابی، سندھی، پختون، بلوچی، کشمیری ہنزہ  اور کیلاش کی ثقافتوں کے لباس شامل ہیں۔ یہاں ہاتھ کی شالوں کی بنائی، کڑھائی کے لباس تیار ہوتے جب کہ گڑیوں کے علاوہ چھوٹے کھلونے بھی بنائے جارہے ہیں، جن میں اونٹ، جھولا، رکشا اور ٹرک نمایاں ہیں۔ یہ دیہی خواتین کی اپنی زندگی کو بہتر بنارہے ہیں، جس سے وہ آزادی و مساوات کی جانب گام زن دکھائی دیتی ہیں۔ اس دیہات میں اپنی مدد آپ کے سنہری اصول کے تحت گڑیاں اور کھلونے بنانے شروع کردیے گئے جس کا آج نتیجہ ہے کہ یہاں کے باشندے اس منصوبے سے عملی طور پر فیض یاب ہورہے ہیں۔ تاریخی نوعیت کی اہمیت کے حامل اس منصوبے کو ایک جامع منصوبے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے جو کہ ثقافتی دست کاری کے میدان میں ہمارے سامنے آیا۔ یہاں اس کے ساتھ میں تعلیم، سائنس، زراعت اور پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی بنائے گئے ہیں، جب کہ مناسب ٹیکنالوجی کا استعمال، صحتِ عامہ، معیشت وبازاری تقسیم، سیاحت و مواصلات کی بھی پریکٹسزاس منصوبے کے اہم مقاصد ہیں۔

مردوں کے تربیتی مرکز ٹی ٹی ٹی سی میں بہتر تیکنیک کا استعمال اور مناسب روزگار پر خاص توجہ دی جارہی ہے، جہاں بڑھئی اور لوہار کا کام بھی سکھایا جاتا ہے، تاکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔ اس جامع منصوبے کے تمام مقاصد میں سب سے زیادہ خواتین کو مدنظر رکھا گیا اور ان پر توجہ مرکوز رہتی ہے کہ ان کی خوداعتمادی وخودانحصاری کی بنیادوں پر پیشہ ورانہ تربیت دی جائے اور ان کی خواندگی کی شرح میں بھی اضافہ ممکن ہو۔ ڈاکٹر نوربرٹ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی دیہی ثقافتی ورثے کو نہ صرف محفوظ بنایا جاسکتا ہے اس کے ساتھ ہی مستقبل میں آمدنی کے مزید مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں، جس سے شہروں کی طرف منتقل ہونے والی آبادی کی روک تھام بھی ممکن ہے۔ ڈاکٹر سنیٹا 500 سے زاید نمائشوں، شوز اور آمدنی پیدا کرنے والے اجتماعات کے ایونٹس کو مُنظّم کرچکی ہیں، جن کا تعلق دیہی علاقوں کی خواتین اور ان کی زندگیوں سے ہے۔ ان کی کاوشوں کے ذریعے نچلی سطح سے غربت کو جانچتے ہوئے اور وہاں کی مقامی دست کاری اور آرٹ کی ہنرمندی کو استعمال کیا گیا ا ور روزگار کے مناسب ذرایع اختیار کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے، تاکہ مستقبل میں بھی یہاں کی مقامی آبادی کے لیے آمدنی میں مسلسل اضافہ کرنا ممکن ہوسکے۔ اس کے لیے موضوعاتی دست کاری کی پیداوار، ایکو ٹیکنالوجی کا استعمال اور آزادی کا مرکزی خیال انفارمیشن کا موثر استعمال، یہ وہ مواقع ہیں، جو کہ ہمارے دیہات کے لوگوں کو پاکستان کے روایتی امیر ثقافت کو شہری زندگی کے لوگوں کے قریب آنے میں مدد فراہم کررہے ہیں ۔

بطور ایک آرٹسٹ، سائنس داں اور آرٹ اسکول کی ڈائریکٹر ہونے کے علاوہ ٹیکسٹائل فیکٹری کی معاشی سرگرمیوں کو کام یابی سے چلانے کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی گھریلو زمین داروں سے کبھی منہ نہیں موڑا سینٹا سلر  نے ایک شفقت کرنے ماں کا فرض بھی خوب نبھایا ہے، جنہوں نے اپنی تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کی بہترین پرورش کی ہے اور انہیں اچھی تربیت دے کر انہوں نے گھریلو اور پیشہ ورانہ زندگی میں توازن قائم رکھا۔ ڈاکٹر سینٹا سلر اب  77 برس کی ہوچکی ہیں۔ انہیں اعزازی طور پر ’’گڑیوں کی ماں‘‘ کا لقب عطا کیا گیا ہے۔ انہیں ہالینڈ کی جانب سے اعلیٰ ایوارڈ ’’ Floriade‘  جرمن تخلیقی کھلونے بنانے والی انڈسٹری کی طرف سے “Gestaltetes Spielgut”ـ اور وفاقی جرمنی کی جانب سے اعلیٰ ترین سول اعزاز بندس وردینست کریوزـ “Bundesverdienstkreuz” سے نواز گیا ہے  اور تمام عمر کے لیے سول حکومت میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں دنیا کے دوسرے ممالک کے متعدد دوسرے اعزازات بھی دیے جاچکے ہیں۔ پاکستان کے مثالی گائوں میں ان کی 20 سالہ خدمات کے صلے میں صدارتی ایوارڈ برائے ’’حُسنِ ِکارکردگی‘‘ کے لیے نام زد گی بھی دی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی انسان دوستی، فرض شناسی اور فراخ دلانہ سادہ طبعیت کا اندازہ ان کے اس جواب سے بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے، جو کہ ان کی طویل خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے کی گئی تعریف پر انہوں نے دیا تھا،’’خدا  کی طرف سے مجھے جو زندگی عطا ہوئی ہے میں نے تو اس کا کچھ قرض چکانے کی کوشش کی ہے!‘‘

پاکستانیوں کی محسن دو اور جرمن خواتین

ڈاکٹر این میری شملِ(1922-2003)  :Annemarie Schimmel  

ذہین خاتون پروفیسر این میری شمل7 اپریل 1922 ء میں بون میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کی شخصیت کو پاکستانیوں میں بڑی پذیرائی حاصل رہی۔ انہوں  نے یہاں کے عوام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ این میری شمل نیِ 500 سے زاید کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے 19 سال کی عمر میں برلن یونیورسٹی سے اسلامی زبانوں اور تہذیب و تمدّن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ 23 سال کی عمر میں وہ جرمنی کی ماربرگ یونیورسٹی میں عربی و اسلامی مطالعے کی پروفیسر بن چکی تھیں اور اس دوران  انہوں نے ’’مذاہب کی تاریخ‘‘ میں دوسر ی بار ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرلی۔ 1954 ء میں ان کی زندگی میں اہم موڑ آیا جب انہیں ’’مذاہب کی تاریخ ‘‘ کے پروفیسر کے طور پر ترکی کی انقرہ یونیورسٹی میں بھیجا گیا، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے پانچ قیمتی سال گزارے۔ اس جامعہ میں پڑھاتے ہوئے انہیں ٹیچنگ کرتے ہوئے ترکوں اور ان کی ثقافت کے ساتھ صوفیانہ روایات کو قریب سے پرکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ وہ 1967 ء سے لے کر 1992 ء میں اپنے پروفیسر بننے اور بہ طور ایمریٹس کی ریٹائرمنٹ تک ہارورڈ یونیورسٹی کی فیکلٹی ممبر رہیں۔ وہ یونیورسٹی آف بون، جرمنی کی بھی اعزازی پروفیسر رہیں۔ ان کی  500کتابوں میں سے 50 سے زاید ان کے اسلام پر دیے گئے لیکچرز پر مشتمل ہیں۔

ڈاکٹر میری شمل نے پاکستان میں اقبالیات اور صوفی ازم پر بہت نمایاں کام کیا ہے۔ انہوں نے  فارسی، عربی، سندھی اور تُرک شاعری کا خوب صورت ترجمہ کرکے ان زبانوں کے کتنے ہی شاہ پاروں سے انگریزی اور جرمن زبانوں کے قارئین کو متعارف کرایا، جو ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ وہ 26 جنوری 2003 ء کو انتقال کرگئیں۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’ستارۂ امتیاز ‘‘ اور ’’ہلال ِپاکستان ‘‘ کے اعزازات سے نوازا گیا ہے۔

ڈاکٹر رُتھ کیتھرینا مارتھا فو (Dr. Ruth Katherina Martha Pfau)

ڈاکٹررُتھ کیتھرینا مارتھا جنہیں پاکستان میں عام طور سے ’’خاتونِ جزام‘‘  osyLady)ـLepr (کے نام سے پہچانا جاتا ہے،  1929 ء میں سابق مشرقی جرمنی کے شہر “Leipzing” میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے دوسری جنگ ِعظیم اپنے ملک سے ہجرت کرکے مغربی جرمنی میں سکونت اختیا ر کی۔ ڈاکٹر رُتھ جزام کے علاج کے لیے قائم کئے گئے اسپتال Marie Adelaide Leprosy Centre” ” کراچی کی بانی ہیں۔ طب کے حوالے سے وہ سرکاری طور پر حکومت کی مشیر خاص بھی رہیں۔ انہوں نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی جذام کے مرض کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اور مریضوں کی دیکھ بھال میں گزاری اور اس مشن کے لیے پاکستان میں مقیم رہیں، جب کہ انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بھی جذام کے مرض میں مبتلا لوگوں کی بحالی کے لیے کام کیا۔

اپنے کام کی ابتدا سے لے کر آج تک ڈاکٹر صاحبہ کا عزم و حوصلہ پہلے جیسا بھر پور رہا ہے اور کبھی ماند نہیں پڑا۔ 8 اکتوبر 2005 ء کے الم ناک زلزلے کے فوراً بعد ہی انہوں نے مظفرآباد اور دیگر متاثرہ پاکستانی علاقوں میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کردیا تھا اور اپنے فلاحی کاموں کو وہاں منتقل کیا۔ یوں  زلزلہ زدگان کی امداد اور بحالی ان کی تمام تر کاوشوں کا محور بن گئے۔ حکومت پاکستان نے ان کی گراں قدر طبی خدمات اور فلاحی کاموں کے صلے میں انہیں ’’ستارۂ قائداعظم‘‘ اور ’’ہلال ِپاکستان ‘‘ سے نوازا، جب کہ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈگری عطا کی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔