پاکستان میں سیلاب نے خشکی پر 100 کلومیٹر وسیع جھیل بنادی، ناسا

ویب ڈیسک  جمعرات 1 ستمبر 2022
سندھ کے مرکزی علاقے کی تصویر میں نیلا رنگ بارش کے پانی کو ظاہر کررہا ہے جو 100 کلومیٹر علاقے پر پھیل چکا ہے (فوٹو:موڈس سیٹلائٹ)

سندھ کے مرکزی علاقے کی تصویر میں نیلا رنگ بارش کے پانی کو ظاہر کررہا ہے جو 100 کلومیٹر علاقے پر پھیل چکا ہے (فوٹو:موڈس سیٹلائٹ)

  واشنگٹن: ناسا نے اپنی سیٹلائٹ تصاویر کو دیکھ کر انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں موسلا دھار بارش اور سیلاب سے سندھ کے علاقوں میں دریا کا بہاؤ کناروں سے باہر آگیا اور اس نے وسیع ہوتے ہوئے وقتی طور پر ایک ایسی جھیل کی شکل اختیار کرلی جو 100 کلومیٹر وسیع ہے۔

اس سے ایک روز قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتیرس نے پاکستان میں سیلاب کی ہول ناک تباہی کو ’موسمیاتی سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر سے دستِ تعاون بڑھانے کی استدعا کی تھی۔

دوسری جانب ارضیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے یورپی سائنسی فورم ’کوپرنیکس‘ نے کہا ہے کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کی وجہ مون سون کا وہ نظام ہے جو اس سال کم ازکم 10 گنا زائد شدت اختیار کرچکا تھا۔

ناسا نے 28 اگست کو موڈس سیٹلائٹ سینسر سے لی گئی تصاویر جاری کی ہیں جس میں موسلادھار طوفانی بارشوں اور دریا کے بیرونی بہاؤ سے پانی کی وسیع مقدار ایک جھیل نما شکل اختیار کرچکی ہے اور سندھ کا ایک وسیع میدانی علاقہ اس کے زیرِ عتاب آگیا ہے۔

ناسا کے مطابق یہ تمام علاقہ ایک زخیز زرعی خطہ تھا جو شدید متاثر ہوا ہے۔ اب تک پاکستان میں سیلابی تباہ کاریوں سے 1150 کے قریب افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، پانچ لاکھ حاملہ مائیں آخری مرحلے پر مدد کی منتظر ہیں اور مالی نقصان کا اندازہ 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

ناسا کے مطابق 1961ء کے بعد سے پاکستان نے شدید ترین مون سون دیکھا ہے جس کی تصدیق محکمہ موسمیات نے بھی کی ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں معمول سے 500 فیصد زائد بارشوں نے آبادیوں اور دیہات کو نگل لیا ہے۔ فصلیں بہہ گئی ہیں اور عمارتیں مخدوش ہوچکی ہیں۔

موڈس کے اس ویب پیج پر سیلاب سے پہلے اور بعد کی تصویر سلائیڈر کی مدد سے دیکھی جاسکتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔