شہباز شریف کی شاخِ زیتون اور سیلاب زدگان

تنویر قیصر شاہد  جمعـء 9 ستمبر 2022
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

جب شہباز شریف وزیر اعظم ہاوس میں بیٹھے تو قومی خزانے میں واقعی معنوں میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ عالمی اقتصادی ادارے اور عالمی ساہو کار پاکستان پر اعتبار اور اعتماد نہیں کر رہے تھے۔شہباز شریف کو مگر یقین تھا کہ وہ اس گمبھیر معاشی صورتحال کو سنبھال لیں گے اور یہ کہ خان صاحب ملک کو جس معاشی دلدلوں میں پھنسا گئے تھے،وہ وطنِ عزیز کو ان دلدلوں سے بھی نکال لیں گے۔

نون لیگ کے چاہنے والے، جن کا خیال تھا کہ شہباز شریف کو حکومت کی زمامِ کار سنبھالنی نہیں چاہیے تھی،حیران تھے کہ میاں صاحب کے دلاسوں پر کیونکر یقین کیا جائے؟

جناب شہباز شریف کو برسر اقتدار آئے تقریباً پانچ ماہ ہو رہے ہیں۔اِس دوران مالی و معاشی مایوسیوں کے اندھیروں سے اب اُمید کی کچھ کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔آئی ایم ایف نے شہباز حکومت کو ڈیڑھ بلین ڈالرز سے زائد کاقرضہ دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ڈالر کا بھاؤ 250 روپے کی بلندیوں تک پہنچ کر 220روپے تک آ چکا ہے۔ سونے کے بھاؤ بھی گر رہے ہیں۔

پٹرول کی مصنوعات کی عالمی قیمتیں بھی کم ہو رہی ہیں۔ اِن کے مثبت اثرات بھی ہوں گے (لیکن گزشتہ روز ، بد قسمتی سے، ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت میں پھر اضافہ کر دیا گیا)کراچی اسٹاک ایکسچینج کا گراف بلند ہو کر کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہا ہے۔

ایسے میں معروف برطانوی ہفت روزہ جریدے (دی اکانومسٹ)نے اپنے تازہ شمارے میں ایک تفصیلی آرٹیکل لکھ کر اقرار و اعتراف کیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور اُن کے وزیر خزانہ کی معاشی پالیسیاں اور اقدامات رنگ لا رہی ہیں۔’’دی اکانومسٹ‘‘ ایسا مغربی دنیا کا معتبر جریدہ شہباز شریف کے معاشی اقدامات کی اگر کچھ تعریف کررہا ہے تو ہمیں بھی اس تعریف کو جینوئین سمجھ کر یقین کر لینا چاہیے۔

مکالمے اور مفاہمت کی طرف مائل شہباز شریف کی شدید آرزُو ہے کہ معاشی مسائل کے بھنور میں گھرے پاکستان کو وطنِ عزیز کے سب اسٹیک ہولڈرزاور سب چھوٹے بڑے سیاستدان مل کر باہر نکالیں۔ہم سب کو یاد ہے کہ جب جناب عمران خان وزیر اعظم منتخب ہوئے ہی تھے تو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں، خان صاحب کی موجودگی میں،شہباز شریف نے بطورِ قائدِ حزب ِاختلاف وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہُوئے عمران خان اور اُن کی حکومت کو یہ آفر کی تھی کہ ہم سب کو مل کر میثاقِ معیشت(Charter of Economy)کرنا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کی کشتی مطلوبہ آزادی اور فراواں توانائی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بڑھ سکے اورعوام کو مہنگائی و گرانی کے متنوع عذابوں سے نجات دلائی جائے سکے۔جناب عمران خان نے مگر شہباز شریف کی اس مخلصانہ آفر کو بُری طرح مسترد کر دیا۔اور یوں اتحاد و اتفاق کا ایک گولڈن چانس گنوا دیا گیا، محض اپنی اَنا کی تسکین اور ضد نبھانے کی خاطر۔خان صاحب نے شہباز شریف کی پیش کردہ شاخِ زیتون کا کوئی اور ہی مفہوم نکالا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے عمران خان اور دیگر پارٹیوں کو اب ایک بار پھر میثاقِ معیشت اور صلح کی پیشکش کی گئی ہے۔ ایک بار نہیں بلکہ ایک ماہ میں دو بار۔ مقصد اور مطلب یہ تھا کہ ملک میں عمران خان نے بوجوہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر درجہ حرارت کو جس ناقابلِ رشک مقام تک پہنچا دیا ہے۔

اس میں خاطر خواہ کمی کی جا سکے۔ شہباز شریف نے کہا: ’’لیڈر آف دی اپوزیشن کی حیثیت میں بھی مَیں نے حکومت کو میثاقِ معیشت کی پیشکش کی تھی اور آج وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت میں دوبارہ یہ آفر کررہا ہُوں۔‘‘ پی ٹی آئی اور خان صاحب نے شہباز شریف کی یہ آفر بھی ٹھکرا دی ہے۔

ٹھکرائی ہی نہیں بلکہ اس سنجیدہ پیشکش کا مذاق اور مضحکہ بھی اُڑایا ہے۔اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔مذاق اور مضحکہ اُڑانے کا آغاز عمران خان کے سابق وفاقی وزیر، فواد چوہدری، نے کیا ۔پچھلے دنوں انھوں نے خود بھی کہا تھا کہ ملکی سیاسی درجہ حرارت کو کم کیا جانا چاہیے تاکہ سیاسی مکالمے کے لیے فضا ہموار ہو سکے لیکن جب شہباز شریف نے شاخِ زیتون بڑھا کر پی ٹی آئی کو میثاقِ معیشت کی آفر کی تو فواد چوہدری کا مزاج بگڑ گیا ہے۔انھوں نے فرمایا:’’شہباز شریف کا میثاقِ معیشت ایک احمقانہ خیال ہے۔‘‘ تمہی کہو یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟ اب پھر شہباز شریف نے جب یہ کہا ہے کہ’’ وفاق اور صوبے مل کر سیلاب زدگان کی مدد کریں‘‘تو اس کا مطلب یہی ہے کہ انھوں چوتھی مرتبہ شاخِ زیتون عمران خان کی طرف بڑھائی ہے ۔خان صاحب کی زبان پر مگر ’’چور، چور‘‘ کی گردان بدستور جاری ہے ۔

شہباز شریف کی کوششوں سے معیشت میں رفتہ رفتہ جو بہتری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں، خدشہ ہے کہ عمران خان کی سیاسی سرگرمیاں، ضد اور میثاقِ معیشت میں ان کے عدم تعاون کا رویہ ان جملہ کوششوں کو بلڈوز نہ کردے۔اِس سے معیشت کو بھی دھچکا لگے گا کہ سرمایہ کسی بھی ملک کی عدم استحکام زدہ فضا میں قدم جمانے اور ٹکنے سے گریز کرتا ہے ۔شہباز شریف ملک میں سیاسی استحکام کو فروغ دینے کی پوری کوشش کررہے ہیں تاکہ غیر ملکی سرمایہ بھی یہاں قدم جما سکے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان پر اعتماد بھی بحال ہو سکے ۔

شہباز شریف نے خان صاحب سے یہ بھی کہا ہے کہ سیاست و مخالفت تو بعد میں بھی ہوتی رہے گی لیکن فی الحال ہم سب کو مل بیٹھ کر سیلاب زدگان کا ہاتھ تھامنا چاہیے ۔خان صاحب نے یہ پیشکش بھی ٹھکرا دی۔ دُنیا بھی یہ عمل دیکھ رہی ہے۔ خان صاحب کے عدم تعاون کے باوجود دُنیا کی طرف سے شہباز شریف کے لیے دستِ تعاون آگے بڑھ رہا ہے ۔ شہباز شریف کے لیے آئی ایم ایف کا تعاون دراصل عمران خان کی شکست ہے۔سعودی عرب اور قطر سے بھی پاکستان کی معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں آ رہی ہیں ۔ فرمانروا ئے سعودیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں ۔ قطر بھی پاکستان میں تین ارب ڈالرز کی نئی سرمایہ کاری پر راضی ہو گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے20طیاروں میں سیلاب زدگان کے لیے امدادی سامان بھجوانے کا مستحسن اعلان کیا ہے ۔

اگست کے وسط میں ’’ بلوم برگ‘‘ ایسے معتبر عالمی ادارے کے رپورٹر (میتھیو مارٹن) نے یہ خوش کن خبر دی تھی کہ سعودی عرب،پاکستان کو دیے گئے تین ارب ڈالرز کے ڈیپازٹس واپس لینے کے بجائے اِنہیں Renewکررہا ہے۔ اس عمل سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی عالمی مالی ساکھ وقیع اور مضبوط ہو جائے گی۔ ’’بلوم برگ‘‘ نے یہ بھی خبر دی کہ سعودی عرب اگلے 10 ماہ تک ہر ماہ پاکستان کو 10 کروڑ ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات، بطور ایڈیشنل سپورٹ، بھی فراہم کریگا۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ شہباز شریف اور اتحادی حکومت کی بڑی کامیابی ہوگی۔

گزشتہ روز سعودی عرب کے ولی عہد، شہزادہ محمد بن سلمان،سے بھی شہباز شریف کی فون پر ہیلو ہائے ہوئی ہے جس سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ بلوم برگ کی خبر بے بنیاد نہیں تھی۔بہتر ہوتی پاکستانی معیشت کے حوالے سے پاکستان میں تعینات چینی قونصل جنرل،لی بیجیان،نے بھی کہا ہے: ’’پاکستانی معیشت کو سری لنکا کی معیشت سے تشبیہ دینا درست نہیں ہے۔‘‘ اِسی دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیف اکانومسٹ، ڈاکٹر علی چوہدری، نے بھی کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کو درپیش مشکل مرحلے گزر چکے ہیں ۔ اِن دونوں بیانات سے یقیناً پاکستان کا بھلا چاہنے والوں کو اطمینان ہوا ہوگا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان کے بدخواہوں کے دلوں پر اِن بیانات سے اوس پڑ گئی ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔