وہ ایک سچا موتی

شہلا اعجاز  جمعـء 2 ستمبر 2022

یہ دنیا ہے، لوگ آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، کچھ خاموشی سے زندگی گزار کر اور کچھ اپنا نام ثبت کر جاتے ہیں، اس دنیا کی بے ثباتی پر یقین کرنا ہی پڑتا ہے، تب ہم چند دنوں میں ہی اپنے ہی اہم کام، کوئی واقعہ یا حادثہ یوں بھول جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، لیکن دلوں کی سچائی اور عقیدت بہت سے لوگوں کو بھولنے نہیں دیتی۔

ایسی ہی ایک شخصیت آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ہے، آپ 14 اگست 1917 میں ایک غریب کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے،آپ کا اصل نام عبدالکریم تھا۔ بچپن میں ہی والدہ دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ دادی نے ان کی پرورش کی۔ امرتسر سے ہجرت کرکے لاہور منتقل ہوئے، اس وقت انارکلی بازار کے دیو سماج ہائی اسکول کا طالب علم عبدالکریم بے حد شرمیلا اور کم گو تھا، لیکن بے حد ذہین ہونے کے باعث اساتذہ کی نظروں میں آگیا۔ کم زور معاشی حالات کے باعث بہ مشکل میٹرک کرسکے، لیکن علم حاصل کرنے کا جنون اور خداداد صلاحیتیں اس قدر آگے کی جانب بڑھاتی گئیں کہ بڑی بڑی ڈگریوں والے ان کی قابلیت کے سامنے کم تھے اور وجہ تھی مطالعہ۔

یہ وہ دور تھا جب علم و فراست ہی کی بنیاد پر آگے بڑھا جاسکتا تھا، گو فرنگی دور تھا لیکن پھر بھی اہل علم کو ان کی اہلیت کی بنیاد پر ہی پرکھا جاتا تھا، سراہا جاتا تھا۔ ’’زمیندار‘‘ مولانا ظفر علی خان کا اخبار تھا جس کا مطالعہ شورش کاشمیری بچپن سے ہی کرتے چلے آئے تھے اور یہی وہ دور تھا جب علم و ادب کے ساتھ شعر و شاعری سے بھی شغف پیدا ہوا اور پھر لوگوں نے ’’الفت‘‘ کے قلمی نام سے ایک نوجوان شاعر کو دیکھا۔

الفت سے شورش کاشمیری تک کا سفر طے کرنے میں ممتاز شاعر احسان دانش کا ہاتھ ہے ،جنھوں نے ان کے مزاج اور کلام کے اعتبار سے الفت کے بجائے شورش کاشمیری کا نام منتخب کیا اور پھر شورش کاشمیری نے اپنی خطابت اور سیاسی بصیرت کے ساتھ انگریز سامراج کے خلاف اپنی جنگ شروع کردی، قلم کی طاقت ہر دور میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ظلم اور تشدد کے خلاف تلوار سے زیادہ قلم کی کاٹ نے وار کیاہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا اخبار ’’الہلال‘‘ بھی اس وقت کے صحافتی میدان میں اپنا کردار بہ خوبی ادا کر رہا تھا، شورش کاشمیری بھی اسی صف میں کھڑے ہوگئے۔

1935 میں لاہور میں مسجد شہید گنج کے انہدام کا اذیت ناک واقعہ ظہور پذیر ہوا، اور حکمران وقت خوب جانتے تھے کہ مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل ہوگا اسی لیے تمام مسلمان قومی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔ یہ وقت بڑا پریشان کن تھا، سارے بڑے بڑے رہنما جیلوں میں قید تھے، اب کون تھا جو اس بڑے اذیت ناک اور حقیقی مسئلے کو تحریک بنا کر آگے بڑھے۔ ایک ایسا رہنما جو نڈر ہو، باشعور اور فن خطابت سے معمور ہو، ایسے میں اس نوجوان پر نظر رک گئی اور لاکھوں کے جلسے میں ایسی پراثر تقریر کی کہ اس مرد مجاہد کو بھی پابند سلاسل کردیا گیا۔مولانا ابوالکلام آزاد نے ان کی بااثر تقریر سن کر کہا تھا کہ اس نوجوان کی تقریر سنی تو زبان ہی سے نہیں بلکہ دل سے بھی دعا نکلتی ہے۔مولانا عطااللہ شاہ بخاری کا ان کے بارے میں کہنا تھا ’’الحمدللہ مطمئن ہوں کہ میرا بڑھاپا جوان ہو گیا ہے، میں برگد کا درخت تو نہیں کہ اس کے نیچے دوسرا کوئی اور پودا اُگ ہی نہیں سکتا، شورش میری مراد ہے۔‘‘

آزادی کا متوالا ایک مجاہد اور شعلہ بیاں ایسا کہ بات دل پر اثر کر جائے اور شاید یہی وجہ تھی کہ بار بار زنجیروں میں جکڑے جاتے، جیلیں کاٹیں اور اس قدر اذیت ناک سلوک روا رکھا جاتا تاکہ ان کے عزائم پست پڑ جائیں لیکن ان کے بلند ارادوں میں کوئی جھول نہ آیا، اسلام کے یہ بے تیغ سپاہی 1939 سے 1944 تک قید میں رہے۔

علی گڑھ یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر رشید احمد صدیقی نے شورش کاشمیری کے متعلق کہا تھا ’’پنجاب کو ناز کرنا چاہیے کہ اس نے اقبال ہی نہیں، شورش کاشمیری کو بھی پیدا کیا ہے۔‘‘شورش کاشمیری نے نعت، غزل، نظم سے ہی شروعات کی تھی لیکن سیاسی شاعری اور خطابت ان کا اصل میدان تھا اور پھر آقائے دو جہاں حضور اکرمؐ سے والہانہ عشق کو اپنے استاد مولانا عطااللہ شاہ بخاری کے بعد اس سفر کو جاری رکھا۔قیام پاکستان کے بعد بھی وطن عزیز دشوار راستوں سے الجھتا رہا ایسے میں بہت سے ایسے مقام بھی آئے جو اگر اس وقت سنبھال نہ لیے جاتے تو آج ہم نہ جانے کن کھائیوں کا شکار ہوتے۔

کراچی سے لے کر پشاور تک بچہ بچہ ایک ہی حرم کی پاسبانی پر لگے تھے، شورش کاشمیری ان دنوں بیماری کے باعث بہت کمزور ہو چکے تھے لیکن آپ کا جذبۂ ایمانی قابل تعریف تھا جو کسی جسمانی عذر کو قبول کرنے سے انکاری تھا اور آپ جت گئے۔ یہاں بہت سارے وہ لوگ بھی قابل تعریف ہیں جنھیں تاریخ پہچانتی بھی نہیں لیکن ان کے جذبات و احساسات قوم کو ایک دھارے پر لے کر آئے۔1973 کا ترمیمی آئین اسی حوالے سے یادگار اور محترم ہے۔

شورش کاشمیری ایک باضمیر، نڈر، ایمان دار صحافی جنھوں نے اپنی ساری زندگی سچ کی جنگ لڑنے میں گزاردی۔ ایسے قیمتی نگینے تو اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے جو اپنے قلم کی حرمت کی خاطر ہمیشہ آگے رہے اور جھکے نہیں۔ دکھ، تکالیف اور اذیتیں اس عظیم انسان پر سے گزرتی رہیں، لیکن موت کا تو وقت مقرر ہی تھا، سو 25 اکتوبر 1975 کو یہ اسلام کا عظیم مجاہد اور صحافی، شعلہ بیاں شاعر دل کا دورہ پڑنے سے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔ آپ کی مشہور کتابیں، اس بازار میں، اقبال اور قادیانیت، چہرے، دہلی چلو، میاں افتخار الدین، سید عطااللہ شاہ بخاری، حمید نظامی اور ’’چہ قلندرانہ گفتم‘‘ ہیں۔ آپ کا ایک شعر خود آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے:

شورش زمانہ ہم سے موافق نہ ہو سکا

ہم لوگ ہیں چمن میں پرانے خیال کے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔