گجرات میں فوج کے ریسکیو کیمپ پر دہشت گردوں کا حملہ،8جوان شہید،4زخمی

ایکسپریس اردو  منگل 10 جولائ 2012
 گجرات:فوجی اہلکار اس جگہ کا معائنہ کررہے ہیں جہاں دہشت گردوں کے حملے میں 8 اہلکار شہید ہوئے (فوٹو ایکسپریس)

گجرات:فوجی اہلکار اس جگہ کا معائنہ کررہے ہیں جہاں دہشت گردوں کے حملے میں 8 اہلکار شہید ہوئے (فوٹو ایکسپریس)

گجرات / اسلام آباد: گجرات میں دریائے چناب کے قریب سیکیورٹی فورسزکے کیمپ پرمسلح افرادکی فائرنگ سے8 اہلکار شہیداورچار زخمی ہوگئے، بعض کی حالت نازک ہے۔ دریائے چناب کے قریب لگائے گئے فوجی کیمپ پر پیرکی صبح ساڑھے پانچ بجے دہشت گردوںنے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں6 فوجی جوان اورایک پولیس اہلکارموقع پرشہیداورپانچ زخمی ہوگئے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق حملہ دریائے چناب کے کنارے فورسزکے ایک ریسکیوکیمپ پرکیا گیاجو23مئی کوپاک فوج کے ایک ہیلی کاپٹرکے گرنے کے بعدلاپتہ پائلٹ کی تلاش کیلیے لگایاگیاتھا، پولیس کے مطابق6حملہ آوروں میں سے 2 موٹرسائیکل اور 4 حملہ آور ایک گاڑی پرسوار تھے، فائرنگ کی آواز سننے پرگشت پرتعینات ایک پولیس موبائل موقع پرپہنچی توحملہ آوروںنے اس پر بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میںکانسٹیبل شہیدہوگیا جب کہ حملہ آور فرارہونے میںکامیاب ہوگئے۔

زخمی 5جوانوںکوملٹری اسپتال گوجرانوالہ منتقل کر دیا گیا جن میں ایک جوان زخموںکی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ دہشت گردوں نے ٹائم ڈیوائس بھی نصب کی تھی تاہم اس کے پھٹنے سے نقصان نہیں ہوا۔ ادھر صدر، وزیراعظم، ڈپٹی وزیراعظم،چیئرمین سینیٹ، میاںنوازشریف ،وزیراعلیٰ شہبازشریف ، حیدر ہوتی، اسلم رئیسانی،قائم علی شاہ ،عمران خان،منور حسن اوردیگررہنمائوں نے حملے کی شدیدمذمت کی۔ صدراوروزیر اعظم نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں مسلح افواج، حکومت اورعوام متحد ہیں، دہشتگردی کے خاتمے کیلیے جدوجہدجاری رہے گی ۔ مشیر داخلہ رحمن ملک نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سیکیورٹی ہائی الرٹ اوربارڈسیل کرنے کاحکم دے دیا ۔ ثناء نیوزکے مطابق گاڑی اور موٹرسائیکل پرسواردہشت گردوں نے پہلے فائرنگ کی جس کے بعددھماکا سنا گیا۔ شہید ہونیوالوں میں آرمی کے صوبیدارماجد، نائب صوبیدارغلام رسول،حوالدارشاہد، نائیک عبدالرئوف، او جی ایم باسط اورسپاہی آفتاب شامل ہیں جبکہ قریبی گائوں کا رہائشی پولیس اہلکار قیصر بھی شہید ہوا۔بی بی سی نے خفیہ ایجنسیوںکے حوالے سے بتایا کہ کارروائی جرائم پیشہ عناصرکی نہیںبلکہ شدت پسندوں کی دکھائی دیتی ہے،

واقعے سے چندروز قبل بھی کچھ نامعلوم افرادنے موٹرسائیکل پر اس علاقے کی نگرانی کی تھی۔حملے کے وقت سیکیورٹی اہلکاروںکے پاس قابل ذکراسلحہ نہیںتھا۔ذرائع کے مطابق کیمپ میں 15 کے قریب اہلکارموجود تھے اورجس وقت حملہ کیاگیا اس وقت اکثریت آرام کررہی تھی جبکہ باقی افرادڈیوٹی پر مامور تھے۔ اے ایف پی کے مطابق حملے سے کچھ گھنٹے قبل دفاع پاکستان کالانگ مارچ یہاںسے اسلام آبادکیلیے روانہ ہوا،مارچ میں متعددکالعدم تنظیموںکے رہنما بھی شریک ہیں۔ ادھرامیر جماعۃالدعوۃ حافظ محمدسعید نے واقعے کولانگ مارچ سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا، انھوںنے کہا کہ ’’را‘‘،’’ موساد‘‘ اورسی آئی اے کی پاکستان میں مداخلت خوفناک حدتک بڑھ چکی ہے اورمنظم منصوبہ بندی کے تحت افواج پاکستان کونشانہ بنایا جارہاہے۔

آن لائن کے مطابق شہید اور زخمی ہونے والوں کا تعلق فوج کے ادارے ایئرڈیفنس سے ہے،2زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے ۔ ادھر سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے تاہم قریب گھنے جنگل کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔ کارروائی میں پولیس کی مدد نہ ہونے کے برابر لی جا رہی ہے۔دریں اثنا حملے کا مقدمہ قتل ،اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔