میانمار کے فوجی حکمراں بیرون ملک کے پہلے دورے پر روس جائیں گے

ویب ڈیسک  ہفتہ 3 ستمبر 2022
میانمار کے فوجی حکمراں روس کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی معاملات پر بات چیت کریں گے، فوٹو: فائل

میانمار کے فوجی حکمراں روس کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی معاملات پر بات چیت کریں گے، فوٹو: فائل

رنگون: میانمار کے فوجی حکمراں آنگ ہلینگ وفد کے ہمراہ روس کا دورہ کریں گے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فوجی حکمراں آنگ ہلینگ پہلی بار کسی بیرون ملک کے دورے پر سری لنکا جائیں گے اور ایسٹرن اکنامک فورم میں شرکت کریں گے۔ دورے کے دوران آنگ ہلینگ اقتصادی اور تجارتی معاملات پر روسی صدر سے بات چیت کریں گے۔

گزشتہ برس فروری میں میانمار کی حکمراں آنگ سان سوچی کو حراست میں لے کر جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد آنگ ہلینگ نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی  تھی اور اقتدار پر قابض ہوگئے تھے تاہم آمر حکومت کو مغربی پابندیوں اور تعلقات میں تنزلی کا سامنا ہے۔

ادھر رواں برس نومبر میں کمبوڈیا میں ہونے والی ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز (آسیان) کے ممالک کے سربراہ اجلاس میں بھی میانمار کو مدعو کیے جانے کا امکان نہیں۔

آسیان کے منتظمین نے شرط لاگو کی تھی اگر میانمار کے فوجی حکمراں ملک کے سیاسی بحران کو حل کریں اور جمہوری حکومت کے قیام کی یقین دہانی کرائیں تو انھیں مدعو کیا جا سکے گا تاہم آسیان تنظیم اب تک KI پیش رفت سے مطمئن نہیں۔

بالخصوص جمہوریے کے حامی متحرک اور سرگرم سیاسی کارکن سمیت آنگ سان سوچی کی جماعت کے رکن اسمبلی کو پھانسی دینے پر بھی آسیان تنظیم نے میانمار کے فوجی حکمراں پر کڑی تنقید کی تھی۔

ملک میں فوجی حکومت کے قیام کے بعد سے میانمار افراتفری کا شکار ہے۔ ملکی معیشت مفلوج ہو چکی ہے جب کہ آمریت کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن کیا جا رہا ہے جس میں 2 ہزار سے 200 سے زائد سیاسی مخالفین کو قتل کیا گیا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔