لفظی بےعزتی کے منفی اثرات بہت دیر تک برقرار رہتے ہیں

ویب ڈیسک  پير 5 ستمبر 2022
مطالعے سے معلوم ہوا کہ سخت الفاظ سے کی جانے والی بے عزتی، ہتک اور تضحیک کے منفی اثرات بہت دیر تک برقرار رہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

مطالعے سے معلوم ہوا کہ سخت الفاظ سے کی جانے والی بے عزتی، ہتک اور تضحیک کے منفی اثرات بہت دیر تک برقرار رہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ایمسٹر ڈیم، ہالینڈ: الفاظ کی چوٹ اور گھاؤ سے ہم سب ہی واقف ہیں لیکن زبان کی بدولت طعنہ زنی، بے عزتی اور ہراساں کرنے کا اثر غیرمعمولی اور طویل المعیاد ہوتا ہے جو درحقیقت ماضی میں تعریف اور حوصلہ افزائی کے الفاظ کو بھی گہنا دیتے ہیں۔

یہ خلاصہ ہے ایک نئی تحقیق کا جو حال ہی میں منظرِ عام پرآئی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ تنقید اور حقارت بھرے الفاظ ایک گہرے لفظی تھپڑ جیسے ہوتے ہیں جس کے منفی اثرات بہت دیر تک بھلائے نہیں جاسکتے۔ یہ تحقیق ہالینڈ میں یوٹریخٹ یونیورسٹی کی پروفیسر اسٹروکسما اور ان کےساتھیوں نے کی ہے جس میں دماغی اسکیننگ سےمدد لی گئی ہے۔

تحقیق میں کل شرکا کے سر پر الیکٹروڈ لگا کر انہیں تلخ باتیں سنائی گئیں اور اس دوران دماغی سرگرمی یا ردِ عمل کا جائزہ لیا گیا۔ معلوم ہوا کہ تعریف اور مدح کے اثرات جلدی ختم ہوجاتے ہیں جبکہ منفی اور نفرت انگیز جملوں یا باتوں کا اثر بہت دیر تک رہتا ہے۔

یہ تحقیق 80 خواتین پر کی گئی ہیں جس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جیسے ہی ہم ہتک بھرے الفاظ سنتے ہیں تو فوری طور پر دماغ اس کا معنی اخذ کرتا ہے اور سماجی لحاظ سے طے کرتا ہے کہ کہنے والا کیا کہنا چاہ رہا ہے۔

مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر آپ کے سامنے کوئی آپ کی بجائے کسی اور کی بھی بے عزتی کرے یا اسے دھتکارے تو بھی صرف سننے والے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ لیکن جسے بولا گیا ہو وہ اس کے منفی احساس کو جھٹک نہیں سکتا۔

ماہرین نے کہا ہے کہ منفی بات سن کر ہمارا دماغ عین وہی ردِ عمل دکھاتا ہے جو زوردار تھپٹر لگنے پر ہوتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ اسے ماہرین نے ’باتوں کا طمانچہ‘ کہا ہے جو گالوں پر نہیں بلکہ دماغ پر لگتا ہے۔ یہ دماغ کی توجہ ہٹادیتا ہے اور دماغ میں طویل عرصے تک گھر بنالیتا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ انسان اور دماغ کو لفظی گھاؤ سے ہونے والے جذباتی نقصان کا ازالہ کرنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے اور وہ اسے بھلانے کی بہت کوشش بھی کرتا ہے۔

اگلے مرحلے میں مردرضاکاروں پر اس کے اثرات معلوم کئے جائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔