ایک کتاب ، ایک تکون (دوسرا اور آخری حصہ)

زاہدہ حنا  بدھ 7 ستمبر 2022
zahedahina@gmail.com

[email protected]

کتاب کے چوتھے باب میں ترقی پسند تحریک کا ذکر اور بچوں کو یہ احساس کہ وہ اگر لفافہ پر ٹکٹ بھی لگا رہے ہیں تو تحریک یا انقلاب میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ نور ظہیر نے اس طرح کے کام کرکے اور سجاد ظہیر کی مصروفیات و پریشانیوں میں شریک ہوکر سیکھا۔ ان مصرعوں میں دیکھیے:

عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی

یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے

زیردستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا

سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے

پانچویں باب میں جوشؔ کی آمد اور قیام کا ذکر، چھوٹا سا باب لیکن اس میں بھی بعض اہم سوالات مثلاً ایک صاحب کا یہ سوال : صاحب کیا ہو سکتا ہے مستقبل کمیونسٹ موومنٹ کا۔ یہاں سجاد ظہیر جیسے تو کمیونسٹ ہیں جو مخمل کی صدری پہنے بیٹھے ہیں اور گھر میں ایلون کا فرج رکھتے ہیں۔ جواب میں جوشؔ کی رباعی وجود میں آئی:

بھوکوں کا جو ہمدرد ہو وہ خود بھی نہ کھائے

گرداب زدوں کا دوست کشتی نہ چلائے

اس منطق بے ہودہ کے معنی یہ ہیں

گھوڑوں کا جو ہمدرد ہوگھوڑا ہو جائے

چھٹا باب جو نسبتاً بڑا ہے۔ اس باب میں لکھنو کا ذکر ہے اور نیاز حیدر کا بھی۔ نیاز حیدر کا کچھ زیادہ بلکہ ان کی شاعری کا اس سے بھی زیادہ۔ ان جملوں میں نور ظہیر کی تنقیدی صلاحیت بھی جھلکتی نظر آتی ہے۔ پھر بات سجاد ظہیر اور نیاز حیدر کے رشتوں پر آجاتی ہے۔ پھر ایک کانفرنس کا ذکر۔ ایک فرانسیسی ادیب کا سوال کہ اتنی بڑی کانفرنس اتنے کم بجٹ میں کس طرح ممکن ہوئی۔

سجاد ظہیر کا جواب اور پھر فرانسیسی ادیب کا یہ اعلان۔ ’’جس طرح کی تنظیم اتنے کم روپیوں میں کانفرنس کر پائی ہے اس سے واضح ہے کہ انقلاب ہندوستان میں مستقبل میں بہت دور نہیں۔‘‘

اور پھر نیاز حیدر کا رقص۔ سجاد ظہیر کا غصہ ، سب ایک سا عمل ہے لیکن نور نے اسے بڑے سلیقے سے ایک معنوی ربط کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اسی باب کے آخر میں سجاد ظہیر کی موت کا ذکر، نیاز حیدر کی آمد، رضیہ کا یہ کہنا۔ صرف ایک انسانی مدعا ہے تحریک زندہ ہے، ان سب باتوں کو نور نے کچھ اس طرح پیش کیا ہے کہ یہ کہانی محض ایک گھر کی نہیں حیات و معاشرت کی حقیقت اور اس سے آگے ترقی پسند تحریک و تنظیم کی تحقیقت بن کر ابھرتی ہے۔

ساتویں باب میں ایک ایسے واقعے کا ذکر ہے جس میں ایک معمولی فنکار کا مان سمان دکھائی دیتا ہے۔ ایک سادھو جو فقیر بن کر دروازے پر آتا ہے۔ اس کے بارے میں سجاد ظہیر کی رائے:

’’وہ سادھو نہیں تھا، نہ ہی کوئی بھکاری تھا۔ دراصل وہ کوئی کلاکار رہا ہوگا جو مدتوں اپنی کلا سے اپنا پیٹ بھرنے کی جنگ میں آخر ہار کر دھرم کے سہارے زندگی جینے کی کوشش کر رہا تھا۔ شاید آج برسوں کے بعد اس سے کسی نے گانے کی فرمائش کی۔ اسے اپنے فن اپنی کلا کو دکھانے کا موقع ملا۔ اسے اپنے صحیح روپ میں پہچانا گیا۔ اس کی کلا کو سراہا گیا۔ یہی اس کے لیے اصلی خوشی تھی۔‘‘

آٹھویں باب میں ملک راج آنند صاحب کا تذکرہ ہے۔ عجیب و غریب انسان کہ سجاد ظہیر بھی محتاط۔ ملک صاحب کا خیال ہے کہ ہندو اچھے دوست نہیں بن سکتے۔ سجاد ظہیر کا سوال۔ ’’دوستی میں ہندو مسلم کیا؟‘‘ سجاد ظہیر کی انسان دوستی پھڑکتی ہے پھر اپنے دوستوں کا شمار جو دوست کم بھائی زیادہ اور گھر پریوار کا ناگزیر حصہ۔ پھر اچھی بحث۔

نویں باب میں خرید و فروخت کے معاملات، کتابوں کی خرید کی زیادہ۔ کچھ اور باتیں جن کا تعلق نور ظہیر سے زیادہ سجاد ظہیر سے کم۔

دسویں باب میں پروفیسر نورالحسن کا ذکر زیادہ۔ سجاد کے بھانجے تھے۔ اس کے بعد معصوم رضا راہی کا بھی ذکر۔ غرض کہ یہ باب نور الحسن، سجاد ظہیر اور راہی کی تثلیث میں کچھ دلچسپ واقعات پر روشنی ڈالتا ہے جس سے سجاد ظہیر کی شخصیت پر اچھی روشنی پڑتی ہے۔ نورالحسن کا کانگریس حکومت ایجوکیشن منسٹر بننا اور رضیہ آپا کا یہ کہنا۔ یہ کیا بات ہے کہ ہم لوگ سارے لفٹسٹ کانگریس کے حوالے کرتے جا رہے ہیں۔ سجاد کا جواب یہ تھا:

’’ارے بھئی! وہ خود ہی اتاولے ہو رہے ہیں منسٹری کے لیے۔ ہماری رائے لے کر ذمے داری ہم پر ڈال دینا چاہتے ہیں۔ سو ٹھیک ہے لادے رہو بات لیفٹسٹ ہونے کی سو پارٹی چھوڑے کو عرصہ ہوا۔ سرکار کی ایجوکیشن پالیسی میں ذرا لیفٹسٹ جھکاؤ لاسکیں یہی موومنٹ کے لیے فائدے مند ہوگا۔‘‘

اور یہ فائدہ کم ازکم جے این یو (J.N.U) کی شکل میں نمودار ہوا جو ترقی پسندوں کا مرکز بنا جس کے بنیاد گزاروں میں نورالحسن تھے۔

گیارہویں باب کی ابتدا بھی سجاد ظہیر کے کھانے کے شوق سے ہوتی ہے۔ اچھا کھانا کسے پسند نہیں چنانچہ سجاد ظہیر کو بھی پسند تھا پر یہ خاص بات جاننے کی نہیں۔ خاص بات تو یہ ہے ’’یوں تو گھر میں کھانا کافی اچھا ہی بنتا تھا مگر بہت قیمتی مسالے، خوشبوئیں اور ذرایع خریدنے کے قابل حالات تو نہیں تھے۔ اتنے بڑے باپ کا بیٹا۔ اتنا بڑا اسکالر۔ یہ تھی اس کی معاشی صورت حال۔ جو آرام سے تکلیف کا سفر طے کر رہا تھا، کھانا صرف پیٹ بھرنے کا محل نہیں بلکہ ایک فن ہے ایک تہذیب بھی اور ایک بہت بڑی حقیقت بھی۔ بات عام آدمی کی بھوک کی طرح مر جاتی۔ یہی تو خصوصیت ہے اس کتاب کی کہ زندگی کی معمولی سے معمولی چیزوںکا غیر معمولی باتوں پر ختم ہونا۔

باب کے آخر میں کشمیر کا ذکر ملتا ہے اسی مقام پر سجاد ظہیر اور رضیہ سجاد ظہیر کے عشق و محبت کا بھی بڑے گداز پن کے ساتھ ذکر ملتا ہے۔ یہ جملے دیکھیے:

’’امی اور ابا نے تو ایک دوسرے کو شادی سے پہلے دیکھا تک نہیں تھا عمر کا بھی کافی بڑا فرق تھا۔ خاندان کی تہذیب ایک دوسرے سے بالکل الگ تھی۔ پھر کیسے وہ دونوں ایک دوسرے کے عشق میں اس قدر مبتلا ہوگئے کہ ہم لڑکیاں جو اس عشق کا جیتا جاگتا ثبوت تھیں۔ اس عشق کے دائرے سے اکثر خود کو باہر پاتی تھیں۔‘‘

یہ باب ایک خوبصورت رومانٹک ناول کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

بارہویں باب میں لڑکیوں کی تعلیم۔ سجاد ظہیر کا خیال کہ پڑھ لکھ کر لڑکیوں کو نوکری کرنی چاہیے کیوں کہ عورت کی مکمل آزادی کا یہ ایک اہم حصہ ہے لیکن اس کے باوجود انھیں لڑکیوں کی شادی کی فکر کم کانفرنسوں کے اہتمام کی زیادہ تھی پھر 1966 کی ایک کانفرنس کا ذکر، گھریلو انتظام اور دشواریوں کا ذکر۔ ان معنوں میں یہ کتاب کانفرنس کے اہتمام کے مسائل کی گرہیں بھی کھولتی ہے اور اس میں رضیہ سجاد ظہیر کا رول جو پس منظر میں ہوتا ہے لیکن بے حد اہم ہوتا جس کا اعتراف سجاد ظہیر نے بار بار کیا ہے۔

ایک مقام کی کامیابی پر سجاد ظہیر نے رضیہ آپا کو خط لکھا تو اس میں یہ جملہ بھی درج تھا: ’’ تم ہی نے ان بچوں کو اس منزل تک پہنچایا ہے۔‘‘ اور رضیہ سنجیدہ و جذباتی ہوگئیں ان کے منہ سے یہ جملہ نکلا ’’ تمہارے ابا ہی تو وہ لنگر ہیں جس سے بندھ کر میری کشتی کو طوفان میں بھٹک جانے کا خوف نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد جو جملے نور نے تخلیق کیے ہیں وہ بے پناہ ہیں ملاحظہ کیجیے:

’’اس سفر سے ابا لوٹ کر نہیں آئے اور میں نے امی کی زندگی کی کشتی کو ہوا کے جھونکوں اور لہروں کے تھپیڑوں میں بے ٹھور ٹھکانے اور منزل و مرکز کے بے مقصد سات برس کبھی ادھر کبھی اُدھر ٹھپکتے اور دھیرے دھیرے غرق آب ہوتے دیکھا۔‘‘

تیرہویں باب کا آغاز بھی ناول کی طرح خوبصورت انداز میں ہوتا ہے۔ اس باب میں لکھنو کا ذکر ہے، عید کا ذکر ہے اور پریشانیوں کا بھی۔ بڑے بھائی علی ظہیر کا بھی۔ دو گھروں کی عید ، دو گھروں کے پکوان اور دو گھروں کے رنگ و روغن۔ اور پھر انھیں سب کے درمیان سجاد ظہیر کی شخصیت کے ایک غیر معمولی وصف کا ذکر یوں ہے:

’’ابا کی ترغیبی یعنی منا لینے کی صلاحیتوں کی لوگ قسمیں کھاتے ہیں۔ بگڑے ہوئے ممبران، دوستوں یا رقیبوں تک کو منا لینے میں ان کو مہارت تھی۔‘‘

یہ وہ مناظر ہیں جو ہم نے نور ظہیر اور علی احمد فاطمی کے قلم سے دیکھتے ہیں اور دل مسوس کر رہ جاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔