باورچی خانہ سے دھواں نکلنا بند ہوا …

ڈاکٹر توصیف احمد خان  جمعرات 8 ستمبر 2022
tauceeph@gmail.com

[email protected]

یورپ میں آنے والے صنعتی انقلاب نے سماج کے پورے ڈھانچہ کو تہس نہس کر دیا تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام نے مزدور طبقے کے بیہمانہ استحصال کی حدیں توڑ دی تھیں۔ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ میں کسان نئی زندگی کی تلاش میں شہروں میں منتقل ہورہے تھے۔

نئے شہر آباد ہورہے تھے ، مزدوروں سے بیس بیس گھنٹے کام اور خواتین مزدوروں کا جنسی استحصال عام سی بات تھے۔ ایسے سرمایہ دار ممالک نئی منڈیوں کی تلاش میں ایشیائی اور افریقی ممالک کو نو آبادیات بنانے کے لیے جنگ و جدل اور استحصال کے دیگر طریقوں کو استعمال کر رہے تھے۔

صنعتی ترقی کے لیے تعلیم اور Urbanization لازمی جز ہے ، یوں متوسط طبقہ وجود میں آچکا تھا۔ متوسط طبقہ نے تنظیم سازی کا حق سیکھا اور آزادی رائے کے حق کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ فلسفیوں کے درمیان ریاست کے نئے خدوخال پر بحث و مباحثہ جاری تھا۔ جرمنی کے امراء کے خاندان میں کارل مارکس کی پیدائش ہوئی۔

کارل مارکس نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی اور صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ مارکس نے استحصال کے خاتمہ پر تحقیق کی اور سوشلسٹ ریاست کا فلسفہ سامنے آیا۔ مارکس کو اپنی تحقیق کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی اور اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا۔ برسلز اور دیگر شہروں میں دربدر کی ٹھوکریں کھائیں۔ آخرکار کارل مارکس کو سب سے بڑے سرمایہ دار ملک برطانیہ میں پناہ ملی۔

مارکس نے کمیونسٹ مینی فسٹو اور داس کپیٹل جیسی دنیا کو تبدیل کرنے والی کتابیں لکھیں۔ زندگی غربت میں گزاری۔ کئی بچے علاج کی سہولتیں نہ ہونے سے مرگئے مگر مارکس کی ان تصانیف نے سرمایہ دارانہ نظام کی قبر کھودنے کے عمل کا آغاز کیا۔ مارکس کے نظریہ میں پرو لتاریہ (مزدور طبقہ ) انقلاب میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب یورپ میں مزدور تحریک مضبوط ہوئی۔

انقلاب فرانس برپا ہوا ، پیرس کمیون کا تجربہ ہوا۔ اس زمانہ میں روس کا شمار یورپ کے پس ماندہ ترین ممالک میں ہوتا تھا، مزدور طبقہ کم تھا۔ روس میں کمیونسٹ پارٹی نے زار شاہی کے خلاف جدوجہد کو منظم کیا۔

لینن ، ٹرانٹسکی اور مارشل اسٹالن جیسے قائدین نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ میکسم گورکی نے اپنا ناول ’’ ماں ‘‘ لکھ کر مزاحمت ادب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ کارل مارکس کا خیال تھا کہ برطانیہ ، جرمنی اور فرانس وغیرہ میں مزدور طبقہ زیادہ مضبوط ہے، ان ممالک میں انقلاب جلد آئے گا مگر مارکس کا یہ نظریہ غلط ثابت ہوا۔ لینن کی قیادت میں روس پہلی سوشلسٹ ریاست میں تبدیل ہوا۔ کمیونسٹ پارٹی نے دنیا میں پہلی دفعہ اقتدار سنبھالا۔ روس اور دیگر ریاستوں کے نمایندوں نے سوویت یونین کے قیام پر اتفاق کیا۔ سوویت یونین کے آئین میں تعلیم ، صحت ، روزگار اور ٹرانسپورٹ وغیرہ ریاست کے فرائض میں شامل ہوئے۔

اس کے تحت عورتوں کو تمام حقوق دیے گئے جو مردوں کو حاصل تھے۔ کمیونسٹ پارٹی کی حکومت نے سوویت یونین کی تمام ریاستوں کو ہر شعبہ میں ترقی دی۔ اگرچہ پہلی جنگ عظیم میں زار روس کو شکست ہوئی تھی مگر دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین نے سب سے بڑی قربانی دی۔ سوویت یونین کے کروڑوں لوگ مارے گئے اور سوویت فوجیوں نے سب سے پہلے جرمنی میں داخل ہو کر ہٹلر کی فوج کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سوویت یونین ترقی کے دور میں یورپی ممالک سے آگے نکل گیا۔شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال بھی روسی انقلاب سے متاثر ہوئے۔ سینئر صحافی اور مورخ نواب سعید حسن خان نے اپنی زیر اشاعت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ علامہ اقبال نے 1926 کی دہائی میں اپنے بڑے بھائی کو لکھا تھا کہ ’’ یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ اسٹالن روس کے صدر بن گئے ہیں اور وزیر خارجہ بھی مسلمان ہیں۔‘‘ کمیونسٹ پارٹی نے سوویت یونین میں ایک جماعتی نظام قائم کیا۔

اخبارات، رسائل، فلمیں، ڈرامے اور کتابیں ریاست شائع کرتی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی نے سیل بنانے کا طریقہ ہر شعبہ زندگی میں نافذ کیا۔ تین کمیونسٹوں پر مشتمل ایک سیل ہوتا تھا۔ یہ سیل ضلعی کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کو عوام کے حالات کے بارے میں رپورٹ کرتا تھا۔ ضلع حکومت ریاست کی سینٹرل کمیٹی کو اور ریاست کی سینٹرل کمیٹی ماسکوکی مرکزی سینٹرل کمیٹی کو رپورٹ کردی تھی جو پوسٹ بیورو کا انتخاب کرتی تھی۔

روس میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری طاقتور شخصیت شمار ہوتا،جو ملک کی سربراہی کرتے تھے۔ لینن کے بعد اسٹالن، خروشیف اور برزینیف وغیرہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور ملک کے صدر کے عہدوں پر تعینات رہے۔

سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کا نظریہ تھا کہ یہ سیل کا نظام ابلاغ عامہ کا موثر ترین نظام ہے اور اس نظام کے ذریعہ فیصلہ کرنے والے عوام کے حقیقی حالات سے واقف ہوتے ہیں۔ ٹریڈ یونین، صحافیوں اور دانشوروں کے فورم موجود ہیں۔ اس نظام کے تحت ذرائع ابلاغ کا بنیادی فریضہ کمیونسٹ پارٹی کی پالیسیوں کو پھیلانا ہے، یوں کسی قسم کی تنقید کی گنجائش نہیں تھی۔ عام شہری کے پاس صرف سیاسی جماعت کے طور پر کمیونسٹ پارٹی میں شرکت کا اختیار تھا۔

سوویت یونین سائنس اور ٹیکنالوجی میں یورپ سے آگے نکل گیا۔ یورپی سیٹلائٹ ٹی وی کی نشریات اب سوویت یونین میں دیکھی جاتی تھیں۔ نئی نسل حکومت کی یکسانیت کی پالیسی سے بور ہوچکی تھی مگر عوام میں پیدا ہونے والی بے حسی سے مرکزی قیادت لاعلم تھی۔ اس کو سب اچھا کی رپورٹیں سنائی جاتی تھیں۔

افغانستان میں سوویت فوج کی مداخلت سے سوویت یونین کی معیشت کمزور ہوگئی جس کے نتیجہ میں روسی عوام کا معیار زندگی پڑوسی ممالک کے عوام سے زیادہ پسماندہ ہوگیا تھا۔ روس کی خفیہ پولیس کے جی بی کا کردار بہت زیادہ بڑھ گیا اور عوام کے جی بی کے اہلکاروں کی چیرہ دستی کے شکار تھے ، مگر داد رسی کا کوئی آزاد اور محفوظ فورم موجود نہیں تھا۔

گورباچوف 1985میں کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ وہ 2 مارچ 1931کو روس کے شہر Priudince میں پیدا ہوئے۔ گورباچوف نے کمیونسٹ پارٹی میں اصلاحات کا آغاز کیا۔

انھوں نے Glassnote(کھلاپن) اور Prestroika(دوبارہ تعمیر ) کی پالیسیاں نافذ کیں جس کے نتیجہ میں سوویت یونین میں آزادی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ افغانستان سے فوجوں کو واپس بلانے اور امریکا سے سرد جنگ کے خاتمہ کے اقدامات گورباچوف کی ان اصلاحات میں شامل تھے۔ ان اصلاحات کی وجہ سے سوویت یونین کی ریاستوں میں سیاسی کشمکش شروع ہوئی۔ روسی فیڈریشن کے صدر نے سب سے پہلے سوویت یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

قدامت پرست کمیونسٹوں اور فوجیوں کے ایک گروپ کی بغاوت کی کوشش ناکام ہوئی ۔ روس کے بعد دیگر ریاستوں نے بھی سوویت یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا، یوں پہلی سوشلسٹ ریاست تشدد کے کسی واقعہ کے بغیر بکھر گئی۔ گورباچوف نے ریاستی زندگی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ روس میں فری مارکیٹ اکانومی نافذ ہوئی۔ گورباچوف 91 سال کی عمر میں خاموشی سے انتقال کرگئے۔

مارکسٹ دانشور ڈاکٹر سید جعفر احمد گورباچوف کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ سوویت یونین کا انقلاب ایک تاریخ ساز انقلاب تھا مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد دو قطبی دنیا میں سرمایہ دار بلاک نے اسٹار وار پروگرام شروع کرنے اور سوویت یونین کو افغانستان میں ملوث کر کے اس کو کمزور کرنا شروع کیا۔ ڈاکٹر جعفر کا بیانیہ ہے کہ سوویت نظام کے کھوکھلے پن کے اثرات 70ء کی دہائی سے ظاہر ہونا شروع ہوئے۔

گوربا چوف کمیونسٹ پارٹی کے کم عمر سیکریٹری جنرل تھے ، وہ 54 برس کی عمر میں اس عہدہ پر پہنچے۔ گورباچوف نے پہلے سخت اقدامات کیے مگر اندرونی اور بیرونی تضادات شدید ہوئے اور انھوں نے پہلی سوویت ریاست کے خاتمہ کے آخری مراحل خود طے کیے۔ لاطینی امریکا کے شاعر پابلو نرویدا نے سوویت نظام کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ جب تک سوویت یونین کے باورچی خانہ سے دھواں نکل رہا ہے اور ہانڈیاں پک رہی ہیں یہ ملک قائم رہے گا اور یہ باورچی خانہ سے دھواں نکلنا بند ہوا تو سوویت یونین نہیں رہے گا۔ ‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔