مصنوعی ذہانت کے حامل مجازی روبوٹ کو کمپنی کا سی ای او بنادیا گیا

ویب ڈیسک  جمعـء 9 ستمبر 2022
چینی گیم ساز اور میٹاورس کمپنی نے اے آئی کی حامل خاتون مجازی روبوٹ کو ادارے کا سی ای او بنادیا ہے۔ فوٹو: فائل

چینی گیم ساز اور میٹاورس کمپنی نے اے آئی کی حامل خاتون مجازی روبوٹ کو ادارے کا سی ای او بنادیا ہے۔ فوٹو: فائل

بیجنگ: دنیا میں پہلی مرتبہ ایک روبوٹ کو کمپنی کا سی ای او بنادیا گیا ہے اور یہ حیرت انگیز واقعہ بھی چین میں رونما ہوا ہے۔

یہ ایک خاتون روبوٹ ہیں جو مصنوعی ذہانت کے تحت کام کرتی ہیں اور انہیں مسز ٹانگ یو کا نام دیا گیا ہے جو دس ارب ڈالر کمپنی کا نظم ونسق چلائیں گی۔ اسے مشہور گیم ساز کمپنی نیٹ ڈریگن ویب سافٹ کا سی ای او بنایا گیا ہے۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز کا خیال ہے کہ مستقبل مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس یا اے آئی) کا ہی ہے اور وہ بہترین انداز میں فیصلہ سازی انجام دے سکتی ہے۔ اسطرح خود کمپنی کو اپنا کاروبار بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

’ٹانگ یو تمام معاملات کو سیدھا رکھنے، کام کا معیار بڑھانے اور ان پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے میں مدد فراہم کرے گی،‘ نیٹ ڈریگن ویب سافٹ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا۔ یہ رئیل ٹائم (حقیقی وقت) میں ڈیٹا کا تجزیہ کرے گی اورمعقول ترین فیصلے کرے گی۔

کمپنی کے مطابق ٹانگ یو چونکہ انسان نہیں ہے اور وہ تعصب سے بالاتر ہوکر کمپنی کو ہرملازم کے لیے یکساں طور پر اہم اور یکساں مواقع سےبھرپور جگہ بنادے گی۔ پھراگلے مرحلے میں ٹانگ یو کے الگورتھم کو مزید شفاف بنا کر میٹاورس کو مضبوط کیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔