لاہور؛ اربوں روپے ادائیگی کے باوجود لاکھوں شہری گاڑیوں کی نمبر پلیٹ سے محروم

طالب فریدی  جمعـء 9 ستمبر 2022
محکمہ ایکسائز کی سستی کا خمیازہ شہریوں کو چالان کی صورت بھگتنا پڑ رہا ہے (فوٹو فائل)

محکمہ ایکسائز کی سستی کا خمیازہ شہریوں کو چالان کی صورت بھگتنا پڑ رہا ہے (فوٹو فائل)

 لاہور: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لاکھوں شہریوں سے اربوں روپے فیس وصولی کے باوجود بروقت کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹیں فراہم کرنے میں ناکام ہوگیا۔

سرکاری محکمے کی جانب سے بروقت نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو ٹریفک پولیس کی جانب سے چالان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق  گاڑیوں اورموٹرسائیکلوں کی نمبر پلیٹوں کی فیسوں کی مد میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی موٹر رجسٹریشن اتھارٹی نے اربوں روپے وصول کی، تاہم 23 لاکھ سے زائدشہری ادائیگی کے باوجود نمبر پلیٹوں کے حصول کے لیے دفاترکے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔

محکمہ ایکسائز کے ریکارڈ کے مطابق شہریوں سے نمبر پلیٹوں کی مد میں پونے 3ارب سے زائدکی فیسیں وصول کررکھی ہیں ۔بروقت فیسوں کی وصولی کے باوجود گاڑیوں و موٹرسائیکلوں کی نمبرپلیٹیں فراہم نہ کی جاسکیں۔گزشتہ 4 برس سے 23لاکھ سے زائد نمبرپلیٹیں التوا کا شکار ہیں جب کہ نمبر پلیٹوں کی بروقت فراہمی کے لیے محکمہ ایکسائز نے نیم سرکاری کمپنی کے ساتھ معاہدہ بھی کیا مگر متعلقہ کمپنی بھی بروقت نمبر پلیٹیں فراہم نہیں کر پارہی، جس کی وجہ سے نمبرپلیٹوں کے بحران پر قابو نہ پایا جاسکا۔

سیف سٹی حکام کا کہنا ہے 70 فیصد نمبرپلیٹیں موٹرسائیکلوں اور30 فیصدنمبرپلیٹیں گاڑیوں کی ہیں۔ محکمہ ایکسائزنے نمبر پلیٹیں بنانے والی کمپنی کو سواارب روپے کی ادائیگی کررکھی ہے۔گزشتہ 2سال کے دوران نمبر پلیٹوں کی قیمتوں میں 800روپے اضافہ ہوا ہے، قیمتوں میں اضافے اوربروقت فیس وصولی کے  باوجود نمبر پلیٹوں کااجرا نہ ہونا ایکسائز حکام کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ نمبر پلیٹوں کی فراہمی میں کچھ مسائل کا سامنا رہا ہے مگر اب سپلائی بہتر ہوگئی ہے۔ جلد ہی باقی لوگوں کو بھی نمبر پلیٹیں جاری کردی جائیں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔