کراچی میں دس سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 10 ستمبر 2022
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

کراچی: محمود آباد کے علاقے کشمیر کالونی میں 10 سال کی کمسن طالبہ کو ملازم اور اس کے دوست نے بہیمانہ تشدد اور زیادتی کے  بعد گلہ گھونٹ کر موت کی نیند سلادیا۔

پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 2 ملزمان کو حراست میں لے لیا، خاتون پولیس سرجن نے بچی سے زیادتی کی تصدیق کی ہے، ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرایا جائیگا۔

پولیس کے مطابق ملزم مقتولہ بچی کا پڑوسی اور اس کے والد کی پک اپ وین بھی چلاتا تھا اور گھر کا سودا سلف بھی لاتا تھا، بچی واقعے کے وقت نوکر اور اپنے رشتے داروں کو دوپہرے کا کھانا دینے گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہفتے کی دوپہر ساڑھے تین بجے محمود آباد سیکٹر بی کی رہائشی تیسری منزل پر کھانا دینے جارہی تھی کہ بالائی منزل پر رہائشی ملزم ذیشان راجپوت نے اسے اپنے کمرے میں گھسیٹ لیا۔

پولیس نے مطابق کمسن بچی نے احتجاج کیا تو ملزم نے اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زیادتی کی اور گلا گھونٹ کر ماردیا، کافی دیر تک کمسن بچی گھر نہیں آئی تو والدین اسے ڈھونڈتے ہوئے بلڈنگ میں تلاش کرنے لگے تو دیکھا بالائی منزل کے ایک کمرے میں لاش پڑھی ہوئی تھی جس پر اہلخانہ نے شور مچایا تو محلے والے جمع ہوگئے اور فوری طورپر پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔

پولیس نے بلڈنگ کے رہائشیوں کے ساتھ مل کر ملزم ذیشان راجپوت کو گرفتار کرلیااور فوری طورپر بچی کی لاش جناح اسپتال پہنچائی، پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سیدہ کے مطابق لاش کا پہلے مرحلے میں مکمل چیک اپ کیا گیا اس کے بعد اس کا پوسٹ مارٹم کیا تو معلوم ہوا ہے کہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں اور اسے زیادتی کے بعد گلہ گھونٹ کر قتل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اغوا ، زیادتی اور قتل کیس میں گرفتار ملزم کا ڈی این اے کرانے کی پولیس کو رپورٹ دیدی ہے، پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی۔

کراچی پولیس چیف کے مطابق ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اسکا ڈی این اے ٹیسٹ لازمی ہوگا، جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس بھی حاصل کیے جائینگے ، جائے وقوعہ کو بند کرکے تالا لگا دیا گیا ہے تاکہ شواہد ضائع نہ ہوں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔