پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے عالمی امداد

ایڈیٹوریل  اتوار 11 ستمبر 2022
مسئلہ پاکستان کی انتظامیہ کا ہے کہ وہ اس امداد کو کس طرح چینلائز کر کے حقیقی متاثرین تک پہنچاتی ہے (فوٹو فائل)

مسئلہ پاکستان کی انتظامیہ کا ہے کہ وہ اس امداد کو کس طرح چینلائز کر کے حقیقی متاثرین تک پہنچاتی ہے (فوٹو فائل)

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ انھوں نے جمعے کو اسلام آباد میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر(این ایف آر سی سی) کا دورہ کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب جیسی قدرتی آفت کا سامنا ہے، یہاں 30ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے،اس صورت حال سے نکلنے کے لیے بڑی امداد کی ضرورت ہے، عالمی برادری کو سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پاکستان کے ساتھ بھر پور تعاون کرنا چاہیے، آج اس صورتحال کا پاکستان کو سامنا ہے تو کل کوئی اور ملک بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو سکتا ہے، انھوں نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان کی ہر ممکن مدد کریں گے، وہ فلیش اپیل کے بعد بین الاقوامی سطح پر مزید فنڈز کے لیے اپیل کریںگے، اس مقصد کے لیے عالمی ڈونرزکانفرنس بلانے کی بھی تجویز ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بہت بڑے قدرتی سانحے کا سامنا ہے، اس قدر بڑے حجم کی قدرتی آفت نہیں دیکھی، لوگ بری حالت میں رہ رہے ہیں، ان کے گھر، روزگار، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ حالیہ سیلاب اور قدرتی آفت کے بعداین ایف آرسی سی ، حکومتی اداروں اور این جی اوز نے بھرپورانداز میں متاثرین کے لیے کام کیا ہے۔

متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے مرحلے کے بعد بحالی اور تعمیرنو کے مرحلے میں عالمی برادری بھرپور تعاون کرے۔ہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قدرتی آفات کے دور میں رہ رہے ہیں،پاکستان کا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کوئی حصہ نہیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان جس قدر پاکستان متاثر ہوا ہے، دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤکے لیے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں، عالمی برادری ان کی معترف ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ اس وقت پاکستان کو تباہ کن سیلاب کا سامنا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والی قدرتی آفت کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا دورہ پاکستان پر شکریہ ادا کیا اورکہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا یہ دورہ پاکستان کے عوام کے لیے خیرسگالی کا پیغام ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ، عالمی برادری اور ملکی سطح پر ملنے والی امداد کی ایک ایک پائی کی شفافیت کے ساتھ استعمال کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

وزیراعظم نے سیکریٹری جنرل کو بتایاکہ حالیہ سیلاب کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں بشمول پاکستان کی مسلح افواج نے متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی ، انھیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا،خوراک اور پناہ فراہم کی۔ سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، ہمارے سامنے بہت بڑا چیلنج ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کے فلڈ رسپانس پلان کی فنڈنگ کے لیے اقوام متحدہ کی 160 ملین ڈالر کی ’’فلیش اپیل‘‘سمیت بین الاقوامی امداد کو متحرک کرنے کے لیے سیکریٹری جنرل کی بھرپور حمایت اور وکالت کو سراہا۔

اس موقع پر وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کا ایک تہائی ایریا زیر آب ہے، 3 کروڑ 30 لوگ متاثر ہوئے ہیں ،سیلاب متاثرین کو بیماری، بھوک، سمیت کئی خطرات کا سامنا ہے۔یواین سیکریٹری جنرل کو اس موقع پر سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور حکومت کی طرف سے متاثرین کی مدد کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

ادھر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایڈمنسٹریٹر یو ایس ایڈ مس سمانتھا پاور نے نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔آئی ایس پی ار کے مطابق ایڈمنسٹریٹر نے پاکستان میں جاری سیلاب سے ہونے والی تباہی پر دکھ کا اظہار کیا اور جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کی۔انھوں نے پاکستانی عوام کو مکمل تعاون کی پیشکش کی۔ حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ اور سیلاب سے متاثرہ آبادی کی مدد کے لیے پاک فوج کی کوششوں کو بھی سراہا، آرمی چیف نے امریکا کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمارے عالمی شراکت داروں کی مدد سیلاب متاثرین کی بحالی میں اہم ہوگی۔

ملک کے مختلف علاقوں میں تاحال سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق مزید 36 اموات کے بعد 14 جون سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 1 ہزار 391 ہو گئی ہے۔ سوا تین کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔ ملک کو کم از کم 100 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ماہرین آبپاشی اور آرمی انجینئرنگ کور کے مشاورت سے فلڈ پروٹیکٹیو بند میں ہونے والی شگافوں کو پُر /بند کرنے اور خیرپور اور نوشہرو فیروز اضلاع کے شہروں اور دیہات سے پانی نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ منچھر میں پانی کی سطح 122.2 (فرائیڈے گیج) تک پہنچ گئی ہے۔ سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف فراہمی کے لیے پروینشل ڈیزاسٹر اتھارٹی کو مجموعی طور پر محکمہ خزانہ سندھ نے 7 ارب روپے جاری کردیے۔ محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق سیلاب نے صوبے کے40 فیصد اسکولوں میں تباہی مچائی ہے۔ انرولمنٹ50فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے۔ متاثرہ علاقوں میں خیمہ اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔

امریکی فوج نے یو ایس ایڈ کے ساتھ پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی امدادی سامان کی ترسیل شروع کردی ہے۔امریکی سفارتخانے نے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ترسیلات میں تقریباً 22 ملین ڈالر مالیت کے لائف سپورٹ وسائل شامل ہیں جن میں کھانا بنانے اور پناہ گاہیں بنانے کا سامان شامل ہے جو ملک بھر میں 20 مختلف شپمنٹس سے پہنچایا جائے گا۔

این این آئی کے مطابق امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ)کی ایڈمنسٹریٹر سمانتھا پاور نے اعلان کیا ہے کہ امریکا یو ایس ایڈ کے ذریعے پاکستان میں سیلاب متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے دو کروڑ ڈالر (تقریبا ًپانچ ارب روپے)کی اضافی امداد فراہم کر رہا ہے۔ یہ امداد اس سے قبل اعلان کردہ تین کروڑ ڈالر کی گزشتہ ہفتے کی گئی امداد کے علاوہ ہے۔

یو ایس ایڈ کے بیان کے مطابق 12 اگست کے بعد سے امریکا نے پاکستان کے لوگوں کی مدد کے لیے پانچ کروڑ ڈالر سے زیادہ کی آفات سے متعلق امداد فراہم کی ہے۔ متحدہ عرب امارات سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان لے کر تین پروازیں پاکستان پہنچیں۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 29 پروازیں پاکستان پہنچی ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے آگے بڑھی ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا دورہ پاکستان کے لیے انتہائی موثر ثابت ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کو حالیہ سیلاب نے بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی بحران کا شکار چلی آ رہی ہے۔

موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کر کے پاکستان کی معیشت کو ڈیفالٹ کے خطرات سے باہر نکالا۔ اسی دوران سیلاب اور بارش نے پاکستان کی معیشت کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو ٹریک پر رکھنے کے لیے اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے بے پناہ وسائل کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے عوام اور مخیر حضرات نے ذاتی حیثیت میں سیلاب متاثرین کی جس قدر ہو سکے، مدد کی ہے لیکن اس کے باوجود سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہے جو عالمی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین جیسے ممالک پاکستان کی مدد کو آگے آئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے بھی اس سلسلے میں کام کرنے کو تیار ہیں۔ اب مسئلہ پاکستان کی انتظامیہ کا ہے کہ وہ اس امداد کو کس طرح چینلائز کر کے حقیقی متاثرین تک پہنچاتی ہے۔

پاکستان میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ غیرملکی امداد بھی خردبرد کر لی جاتی ہے۔ جعلی سیلاب زدگان کی بھی بھرمار ہو رہی ہے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ جعلی سیلاب زدگان کی بیخ کنی کریں کیونکہ اس قسم کے گروہ اور ان کے سہولت کار تباہ وبرباد ہونے والے لوگوں کا حق نوچنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ جہاں نیک دل پاکستانی دل کھول کر اپنے بھائیوں کی مدد کر رہے ہیں وہاں ایسے بے حس اور بے درد گروہ بھی ہیں جو یہ مال اپنی جیبوں میں ڈالنے کے لیے متحرک ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔