اوپرکی مٹی اورنیچے کی مٹی

سعد اللہ جان برق  پير 12 ستمبر 2022
barq@email.com

[email protected]

یہ بھی انھی دنوں کا واقعہ ہے جب مولانا کوثر نیازی کا نزلہ ہم پر گرا تھا اور ریڈیو پر اچھا خاصا روزگار ہم سے چھن گیا تھا لیکن کہتے ہیں نا کہ بندہ پریشان اللہ مہربان، یا ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔ ایک بہت بڑے پولیس افسر کو شاعری کا چسکا پڑ گیا، ساتھ ہی اسے گانے والوں خاص طور پر خواتین گانے والیوں کی صحبت کا شوق بھی لاحق تھا چنانچہ ہمارا ٹانکا پڑ گیا۔

اس کی غزلیں ہٹ ہونے لگی اورہماری آمدنی کا وسیلہ ہوگیا، وہ اکثرمیرے پاس گاؤں آیا کرتا تھا اور غزلیں لکھوا کرجاتا تھا، انھی دنوں جب میں شہر جانے کے ارادے سے تیار ہو رہا تھا، کسی نے کہا کہ آپ کا مہمان ہے اور حجرے میں بیٹھا ہوا ہے، گیا تو بالکل اجنبی شخص تھا۔ علیک سلیک کے بعد تعارف ہوا تو وہ پولیس سب انسپکٹر تھا اور میرے پاس اس غرض سے آیا تھا کہ میں اپنے دوست پولیس افسر سے کہہ کر اس کا تبادلہ کراؤں، اس وقت وہ چارسدہ میں کسی تھانے کا ایس ایچ او تھا۔

میں نے کہا کہ چارسدہ تو بڑا مرغن علاقہ ہے، بڑے بڑے خان ہیں، دولت ہے، زیادہ لوگ تو چارسدہ میں اپنا ٹرانسفرکروانے کے لیے کوشش کرتے ہیں اور تم وہاں سے تبادلہ کروانا چاہتے ہو، اس نے کہا جی ہاں۔ تبادلہ کہیں بھی ہو جائے، کیسا بھی تھانہ ہو لیکن چارسدہ سے باہر ہو۔ وہ آہستہ آہستہ کھلتا چلا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ بے حد ایماندار، شریف اور باضمیر آدمی تھا لیکن وہاں اس سے انتہائی ظالمانہ کام لیے جاتے تھے۔ وہاں کے خان اور جاگیردار پیسہ تو بہت دیتے تھے لیکن اس کے بدلے اپنے کسانوں، نوکروں اور مزدورں پر پولیس کے ہاتھوں بڑے سخت مظالم بھی کرواتے تھے۔

دہقانوں اور ان کی عورتوں سے بیگار لیے جاتے تھے اور اگر وہ چوں چرا کرتے تو پولیس کے ذریعے پکڑواتے اور خوب اچھی طرح پٹائی کرواتے، جب تک وہ اپنے خان کے پیروں میں گڑگڑا کر توبہ تائب نہیں ہوجاتے۔ میں نے کئی مرتبہ اپنا تبادلہ کروایا بلکہ ایک دو مرتبہ خانوں کو ناراض بھی کیا تاکہ وہ میرا تبادلہ کروا دیں، تبادلہ ہو تو جاتا ہے لیکن تحصیل (ان دنوں چارسدہ تحصیل کا درجہ رکھتا تھا) کے اندر کسی اور تھانے میں، جہاں اس سے بھی زیادہ ظالم خان ہوتے تھے۔ اس کی باتیں سن سن کر میری رگ وپے میں سنسنی دوڑ رہی تھی۔

اس نے ایسے بھی واقعات سنائے کہ اگر کسی کو زیادہ ٹارچر کرنا ہوتا تو پولیس اس کے گھر کی خواتین کو پکڑلاتی تھی اور ملزم سے کہا جاتا تھا کہ سیدھا ہو جانا ورنہ ان کی خواتین پر پولیس کے سپاہی تشدد کریں گے۔ اس نے کہا کہ ایسے واقعات میں اکثر میں خود کو بیمار کروا لیتا تھا اور میری جگہ میرے ماتحتوں سے کام لے لیا جاتا تھا۔ میں نے آزماتے ہوئے کہا کہ آخر تم کو تکلیف کیا ہے، کرتے رہو جو وہ چاہتے ہیں کہ یہ نظام ہی ایسا ہے۔

اس نے کہا یہ بھی کوشش کی تھی کہ اس نظام سے ایڈجسٹ ہو جاؤں لیکن میں بنیادی طور پر خود ایک دہقان کا بیٹا ہوں، کلیجہ منہ کو آنے لگتا، ایسے کام کرتے ہوئے۔ اب تک میں استعفیٰ دے کر نوکری چھوڑ چکا ہوتا لیکن پھر یہ سوچ سامنے آجاتی ہے کہ اپنے خاندان کی کفالت کیسے کروں گا،کیا پتہ کوئی اور روزگار ملے یا نہ ملے۔

اس شخص نے میری معلومات میں جو اضافہ کیا اس سے میراخون کھولنے لگا۔ تبادلہ تو اس کا میں نے اپنے اس دوست کے ذریعے کروا لیا لیکن دل میں جو گھاؤ پڑگیا وہ ابھی تک رستا رہتا ہے، نہ جانے کتنے مظلوم اب بھی اس چکی میں پس رہے ہوں گے، اگرچہ اب ویسا نہیں ہوتا کیوں کہ ان خوانین کی نئی نسلیں بھی کافی حد تک پڑھ لکھ کر سدھر گئی ہیں لیکن اکادکا واقعات پھر بھی ہو جاتے ہیں ۔

دوسری اچھی بات یہ ہوئی کہ وہ بے پناہ جائیدادیں بھی اب تقسیم در تقسیم ہوگئیں۔ اوپر سے ایک اور اچھی بات کہ مسلسل ’’خانی‘‘ نے ان بڑے خاندانوں کی نئی نسلوں کو بیکار بنا دیا اور ان کا گزارہ زمین بیچنے پر ہونے لگا، دوسری طرف غریب کسانوں، مزدوروں اور پیشہ وروں کی اولادیں پڑھ لکھ کر اوپر چلی گئیں، دوسرے پیشوں کے ذریعے ان خوانین کی اولادوں سے زیادہ اونچے مقامات پر پہنچ گئے۔ گویا اوپر کی مٹی نیچے اور نیچے کی مٹی اوپر ہو رہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔