شوٹنگ کے دوران مارلن منرو کی روح ساتھ تھی، ہالی ووڈ اداکارہ کا انکشاف

ویب ڈیسک  پير 12 ستمبر 2022
مارلن منرو 1962 میں اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی تھیں(فائل فوٹو)

مارلن منرو 1962 میں اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی تھیں(فائل فوٹو)

نیویارک: مارلن منرو ایک امریکی اداکارہ، گلوکارہ اور دنیا کی خوبصورت ترین ماڈل تھیں جنہوں نے 1950 کی دہائی کے دوران متعدد کامیاب فلموں اور ڈراموں کے زریعے ہالی ووڈ پر راج کیا۔

نیٹ فلکس کی فلم ’بلونڈ‘ میں مارلن منرو کا کردار ادا کرنے والے اداکار ہ اینا ڈی آرماس نے دعویٰ کیا ہے کہ ہالی ووڈ آئیکون  مارلن نرو کے بھوت  یعنی روح نے فلم بندی میں مداخلت کی اور شوٹنگ کے دوران بھی   کئی مرتبہ ان کی موجودگی محسوس ہوئی۔

اینا ڈی آرماس نے یہ دعویٰ وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہو ں نے بتایا کہ وہ شوٹنگ کے دوران  ہالی ووڈ لیجنڈ مارلن منرو کو اپنے قریب محسوس کرتی تھیں اور جس طرح مارلن کے کردار کی منظر کشی کی جاتی تھی اگر اسے پسند نہ آئے تو منرو کا بھوت یا روح ہمیں یہ محسوس کروا دیتا تھا کہ وہ خوش نہیں‘۔

اینا کا کہنا تھا کہ ’مجھے سچ میں یقین ہے کہ وہ ہمارے بہت قریب تھی وہ ہمارے ساتھ تھی، وہ وہی تھی جس کے بارے میں میں نے سوچا اور خواب دیکھا تھا‘۔

مارلن منرو کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ’بعض اوقات اگر منرو کی روح کو کوئی چیز پسند نہ آئے تو وہ دیوار پر چیزیں پھینکنے لگتی تھی اینا نے کہا کہ شاید لوگوں کو سننے میں یہ عجیب لگے مگر یہ سچ ہے اور سب نے اسے محسوس کیا ہے‘۔

یاد رہے کہ 8 ستمبر کو  مارلن منرو پر بنائی گئی بائیوپک کا 79ویں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ورلڈ پریمیئر تھا، فلم 16 ستمبر کو امریکہ  کے سینما گھروں میں ریلیز ہوگی جبکہ 28 ستمبر سے نیٹ فلکس پر پیش کی جائے گی۔

36 سالہ مارلن منرو 1962 میں اپنے کمرے میں مردہ پائی گئی تھیں کہا جاتا ہے کہ اداکارہ کی موت حد سے زیادہ نیند کی گولیاں کھانے سے ہوئی تھی  انہوں نے بےحدکم وقت میں 3 شادیاں کی تھیں جو ناکام رہیں اور ان کی طلاق ہوگئی۔

مسلسل شادیوں کی ناکامی کی وجہ سے انہوں نے ضرورت سے زیادہ شراب نوشی اور  منشیات کا استعمال شروع  کر دیا تھا، جس وجہ سے انہیں متعدد بار ہسپتال بھی داخل کرایا گیا تھا، مارلن منرو اس وقت کی پہلی ہالی ووڈ سپر اسٹار اور بولڈ اداکارہ تھیں  اور ان کی خوبصورتی کے  دنیا بھر میں خوب  چرچے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔