ملکی معیشت اور سیاسی عدم استحکام

ایڈیٹوریل  بدھ 14 ستمبر 2022
افراطِ زر، مہنگائی اور ملک پر قرضوں کا بوجھ نا قابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ فوٹو: فائل

افراطِ زر، مہنگائی اور ملک پر قرضوں کا بوجھ نا قابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ فوٹو: فائل

ملکی معیشت کی زبوں حالی کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں۔ ڈالر اور روپے میں زبردست مقابلہ جاری ہے، روپیہ بڑی مشکل سے اپنی قدر بچانے میں مصروف ہے۔

پاکستان کی معیشت خطرات میں گھرتی چلی جا رہی ہے، روپے کی قدر میں کمی، معیشت کی شرح نمو، ٹیکسوں کی وصولی، بچتوں و سرمایہ کاری کی شرحیں ، برآمدات ، غذائی قلت ، بیروزگاری اور غربت کی صورتحال گزشتہ برسوں اور خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں خراب ہوتی چلی جا رہی ہے۔

افراطِ زر، مہنگائی اور ملک پر قرضوں کا بوجھ نا قابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عنقریب بہتری کے آثار بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ پاکستانی روپے کی بے قدری اور امریکی کرنسی کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری ہے، انٹر بینک میں ڈالر مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ روپے کی قدر گرنے سے صرف ستمبر کے دوران بیرونی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے 1400 ارب سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔

لوگ مہنگائی، گیس، بجلی اور پٹرولیم کے بحران کی وجہ سے پریشان ہیں، انھیں ملک کی کامیاب بیرونی پالیسی سے زیادہ اپنے مسائل کے حل کی فکر ہے جس پر توجہ بہرحال وزیراعظم میاں شہباز شریف کو ہی دینا ہوگی۔ پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد معیشت کو درپیش چیلنجز میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 20فیصد رہنے کا امکان ہے حالانکہ رواں ہفتے یہ شرح40فیصد سے زائد ہے۔ آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے اور اْن کی کمی کا سامنا بھی ہے۔

اس لیے پاکستان اس کے اثرات سے نہیں بچ سکتا۔ عالمی مالیاتی ادارے نے جس وقت اپنی یہ رپورٹ مرتب کی اْس وقت پاکستان میں سیلاب کی صورت حال موجود نہیں تھی، برے معاشی حالات میں سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ہماری رہی سہی کمر بھی توڑ دی ہے۔ ملک میں ساڑھے تین کروڑ افراد سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں ، لاکھوں گھر تباہ ہو گئے اور انفرا اسٹرکچر ختم ہو کر رہ گیا ہے ، فصلیں اور مویشی بھی باقی نہیں رہے اور جو خوراک کا بحران ہمیں پہلے ہی اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا ، اْس میں مزید شدت آ جائے گی۔

ملک ایک بڑی ایمرجنسی سے گزر رہا ہے، اِس وقت پہلی ترجیح معیشت کی بحالی اور سیلاب زدگان کی مدد ہونی چاہیے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد ملکی معیشت کو اس کے اثرات سے نکال کر کیسے نارمل اور خوشحال زندگی کی طرف لوٹنا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مفتاح اسماعیل کو ان کی کارکردگی یا معاشی معاملات پہ گرفت کی وجہ سے اگر وزیر خزانہ لگایا ہے تو اب ضروری ہے کہ وہ اس معاشی ابتری سے ملک کو نکالنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں۔ سابقہ حکومت نے تو پونے چار برس میں چار وزیر خزانہ بدلے مگر عوام کی حالت نہیں بدلی۔ معاشی ابتری آج تک ہمارے سروں پر مسلط ہے۔

آئی ایم ایف سے جس قدر ممکن ہو عوام کے لیے ریلیف حاصل کر کے ہی حکومت اپنا اچھا امیج برقرار رکھ پائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور سی پیک منصوبے کو بہر صورت جاری رکھنے کا جو اعلان کیا ہے اور چین نے اس کا خیر مقدم کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ بھی اپنے طویل تعلقات میں بہتری لانے کی بھرپور کوشش کریں گے تاکہ عالمی سطح پر ہمیں کسی تنہائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس مشکل دور میں جس سے پاکستان گزر رہا ہے ہمیں اندرونی و بیرونی سطح پہ نہایت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوں گے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ایک تجربہ کار سیاستدان اور بہترین منتظم ہیں۔

انھوں نے درست کہا ہے کہ ہمارے سامنے بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں۔ معیشت تباہ حال، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے کارخانے بند پڑے ہیں۔ موجودہ حکومت کو بھی اسی طرح معاشی مسائل قرضوں کا بوجھ، مہنگائی، بیروزگاری اور خالی خزانہ جیسے مسائل سابقہ حکومت سے ورثے میں ملے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے پاس نہ تو تجربہ کار ٹیم تھی اور نہ ہی مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح پالیسی، منصوبہ بندی یا وژن تھا۔ چنانچہ ان کی حکومت ساڑھے تین سال سے زائد عرصہ میں بھی نہ تو معیشت درپیش مسائل کو حل کر سکی اور نہ ہی عوام کو ریلیف مہیا کر سکی ، بلکہ اپنی ناقص پالیسیوں کی بنا پر پہلے سے موجود مسائل میں بھی اضافہ ہو گیا۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئیں کہ عام آدمی کے لیے ان تک رسائی قریب قریب ناممکن بنا دی گئی۔

پٹرول، گیس، ڈیزل، بجلی ، گھی اور چینی وغیرہ کے ریٹس بھی انتہا کو پہنچ گئے۔ جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی لیکن اس کے برعکس میاں شہباز شریف کی قیادت میں جو کابینہ تشکیل دی گئی ہے اس میں زیادہ تر پرانے اور تجربہ کار وزیر شامل ہیں، ان میں زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ حکومتوں میں بھی بطور وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ عمران خان کے مقابلے میں اس ٹیم میں ’’ امپورٹڈ ‘‘ وزیر مشیر بہرحال شامل نہیں ہیں جنھیں ملک کے معروضی حالات اور عوامی مزاج سے ہی واقفیت نہیں تھی۔ اس لیے عمران خان کے مقابلے میں میاں شہباز شریف کی حکومت سے عوام بجا طور پر یہ توقعات رکھتے ہیں کہ وہ سابقہ ’’نااہل‘‘ حکمرانوں کی نسبت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور ایسے اقدامات سے گریز کرے گی جو سابقہ حکومت کرتی رہی ۔

پاکستان میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری بہت کم ہوگئی ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری کم ہونے کا آسان مطلب یہی ہے کہ سرمایہ کاروں کو یہاں کے حالات کی وجہ سے اپنے سرمائے کے محفوظ رہنے کا یقین نہیں ہے۔ اس ساری صورتحال کا تقاضا ہے کہ داخلی سطح پر حالات بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ حکومت کو ٹیکس وصولیوں میں بھی ناکامی کا سامنا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے اقدامات کر کے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔ حکومت ان تمام شعبوں پر جو اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں ٹیکس لگا کر آمدنی بڑھا سکتی ہے۔

دوست ممالک سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ زراعت میں بہتری لا کر زرعی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ عالمی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک نے بھی یہ معراج زراعت کو ترقی دیکر حاصل کی ہے۔ یہ ممالک آج بھی اپنے زرعی شعبے کو بے تحاشا سبسڈیز فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زرعی پیداوار سستی ہوتی ہے اور ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہے کہ ایک طوفانِ سیاست برپا ہے جس میں سیلاب زدگان کی آہ و پکار کہیں دب کر رہ گئی ہے ، اگرچہ عمران خان اپنے ہر جلسے میں کہتے ہیں کہ وہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے فنڈ ریزنگ کریں گے مگر ابھی تک عملی طور پر تحریک انصاف کی طرف سے ایسی کوئی امدادی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ۔

آنے والے دِنوں میں پاکستان کے حالات امن و امان کے حوالے سے بھی خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ لوگوں کو کھانے پینے تک کی سہولیات نہیں ملیں گی تو وہ سڑکوں پر آ سکتے ہیں، مظاہرے بھی ہو سکتے ہیں، رپورٹ میں یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ بے روزگاری اور بھوک بڑھی تو جرائم میں بھی اضافے کا امکان ہے جو ایک پرامن معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے، اب اِن حالات میں فوری الیکشن کا مطالبہ کرنا بھی کسی ستم ظریفی سے کم نہیں۔

سوال یہ ہے کہ وسائل کی فراہمی کیسے ممکن ہو، اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ملک و قوم کی اپنی دولت واپس لائی جائے۔ پاکستانیوں کے بیرونِ ملک کاروبار، جائیدادیں اور بینک اکاؤنٹس ہیں ، جن لوگوں نے قومی وسائل لوٹ کر یا ٹیکس بچانے کے لیے دولت بیرونِ ملک منتقل کردی ایسی دولت وطنِ عزیز میں لانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کھربوں روپے ملک کے نامور شرفا نے قرضوں کی شکل میں بینکوں سے لیے اور بعد میں قرض معاف کروا لیے۔ بینکوں سے بھاری قرضے لینے اور پھر انھیں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر معاف کرانے کی داستان بڑی طویل ہے۔

ماضی میں سب سے زیادہ زرعی قرضے ترقی کے نام پر بڑے بڑے جاگیرداروں نے حاصل کیے۔ تاجر، صنعت کار اور کاروباری طبقے کے افراد بھی صنعتی ترقی کے نام پر اس دوڑ میں شامل تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے قرضوں کی معافی کے لیے سیاسی وفاداریوں بھی تبدیل کرتے رہے۔ اس طرح انھوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قومی معیشت کو متزلزل کرنے اور مالیاتی اداروں کو دیوالیہ کرنے میں کون سے عناصر سر ِفہرست تھے۔

میاں شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ ایسی شارٹ ٹرم پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی کہ جن پر عمل درآمد کے نتیجے میں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکیں، اس لیے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی اتحادی جماعتوں کو اپنی بقا اور آیندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے عوام کے مفاد میں فوری اور دیرپا اثرات کی حامل پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی، اگر ایسا نہ ہو سکا تو سابقہ حکومت کی ناکامی کا ملبہ بھی موجودہ حکومت پر آ گرے گا جس سے بچ نکلنا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا۔

اس لیے حکومت کو ’’وقت کم مقابلہ سخت‘‘ کی صورتِ حال کا سامنا ہے ملک ایک طرف آئینی بحران کا شکار ہے اور دوسری طرف بدترین مالی بدحالی اور اقتصادی کساد بازاری سے دوچار ہے۔ سابقہ حکومت کی معاشی پالیسی نہ ہونے اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث نئی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، جن کے حل کے لیے واضح روڈ میپ کے ساتھ انتھک محنت، سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔