مادر پدر آزاد سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جائے، ہائی کورٹ

ویب ڈیسک  بدھ 14 ستمبر 2022
جس کا دل کرتا ہے سوشل میڈیا پر ملکی سلامتی کے خلاف باتیں شروع کر دیتا ہے، عدالت (فوٹو فائل)

جس کا دل کرتا ہے سوشل میڈیا پر ملکی سلامتی کے خلاف باتیں شروع کر دیتا ہے، عدالت (فوٹو فائل)

 لاہور: ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ مادر پدر آزاد سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جائے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: حکومت پر اسرائیلی وفد سے ملاقات کے الزام پر جنرل (ر)امجد شعیب کو نوٹس

وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ قطر کے دوران حکومتی وفد کی اسرائیلی وفد سے مبینہ ملاقات کے الزام کے خلاف پٹیشن کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ جس کا دل کرتا ہے سوشل میڈیا پر ملکی سلامتی کے خلاف باتیں شروع کر دیتا ہے۔آئین میں اظہارِ رائے کی آزادی ہے مگر ملکی سلامتی، دوست ممالک سے تعلقات اور حساس معاملات پر باتیں  درست نہیں۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ مادر پدر آزاد سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جائے۔ دوران سماعت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسرائیلی اور پاکستانی وفد کی قطر ائرپورٹ پر مبینہ ملاقات سے متعلق تبصرے پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کر دی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی یقین دہانی پر جنرل (ر) امجد شعیب خلاف پٹیشن نمٹا دی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔