پاکستان کرکٹ؛ کرپشن کا ناسور پھر سر اٹھانے لگا

سلیم خالق  جمعرات 15 ستمبر 2022
اسپنر بورڈ کے سامنے غلطی کا اعتراف کر چکے تھے،معاملے کی جڑ تک پہنچنے کیلیے پہلے کھیلنے سے نہیں روکا گیا (فوٹو: پی سی بی)

اسپنر بورڈ کے سامنے غلطی کا اعتراف کر چکے تھے،معاملے کی جڑ تک پہنچنے کیلیے پہلے کھیلنے سے نہیں روکا گیا (فوٹو: پی سی بی)

پاکستان کرکٹ میں کرپشن کا ناسور پھر سر اٹھانے لگا۔

قومی ٹی 20 کپ میں شریک ٹیم خیبرپختونخوا کے لیفٹ آرم اسپنر آصف آفریدی کو اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر پی سی بی نے گذشتہ دنوں معطل کر دیا تھا،تحقیقات مکمل ہونے تک وہ کسی طرز کی کرکٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گے،انھیں نوٹس آف چارج جاری کرتے ہوتے 2 شقوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا، آصف کے پاس جواب دینے کیلیے 14 روز کا وقت ہے، گوکہ پی سی بی نے مزید تفصیلات تو میڈیا ریلیز میں بیان نہیں کیں لیکن ذرائع کے مطابق یہ کیس کافی پیچیدہ ہے اور مزید2 کرکٹرز پر بھی شکوک ہیں۔

حالیہ ایونٹ سے قبل ہی آصف آفریدی مشکل میں پڑ چکے تھے، پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے انھوں نے غلطی کا اعتراف بھی کیا لیکن انھیں معطل کرنے سے گریز کیا گیا،حکام کا خیال تھا کہ وہ وہ اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتے اور کون ساتھ شامل ہے یہ جاننے کیلیے نظر رکھنا ضروری ہوگا، گذشتہ ماہ منعقدہ کے پی ایل میں آصف آفریدی نے راولا کوٹ ہاکس کی نمائندگی کی۔

ایونٹ کیلیے پی سی بی نے اینٹی کرپشن یونٹ آفیشلز لیفٹیننٹ کرنل (ر) عمران اور لیفٹیننٹ کرنل (ر) عثمان کو مظفر آباد بھیجا، راولاکوٹ ہاکس اور میرپور رائلز کے ساتھ لیفٹیننٹ کرنل (ر) شاہین، مظفرآباد ٹائیگرز اور جموں جانباز کے ہمراہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) شاہد عالم،اوورسیز واریئرز کے ساتھ لیفٹیننٹ کرنل جہانزیب جبکہ کوٹلی لائنز اور باغ اسٹالینز کے ہمراہ میجر (ر) رضا موجود تھے، کے پی ایل کے اینٹی کرپشن منیجر لیفٹیننٹ کرنل عبید اللہ رہے۔

کے پی ایل کے آغاز سے قبل ہی منتظمین کو اسپنر کے حوالے سے بھنک پڑ گئی، جب پی سی بی سے استفسار کیا گیا تو انھیں جواب ملا کہ کیس کی جڑ تک پہنچنے کیلیے آصف کو کھیلنے سے نہیں روکا گیا ہے،جموں جانباز سے راولاکوٹ کے بارش کی نذر ہونے والے پہلے میچ میں اسپنر نے3 اوورز میں 35 رنز دیے اور ایک وکٹ لی، کوٹلی کیخلاف مقابلہ شروع ہونے سے قبل ہی اسے مانیٹر کرنے کی ہدایت جاری ہو چکی تھی، اس میں راولاکوٹ کو10 وکٹ سے شکست ہوئی، آصف آفریدی تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے پہلی گیند پر بولڈ ہو گئے،بولنگ کا آغاز کرتے ہوئے انھوں نے 4 اوورز میں 52 رنز دیے مگر وکٹ سے محروم رہے۔

میچ کے بعد ایونٹ منتظمین کی پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے آفیسر سے تفصیلی بات ہوئی،مزید 2 کرکٹرزپر بھی شکوک ظاہر کیے جا رہے ہیں، حیران کن طور قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کیلیے بھی آصف آفریدی کو خیبر پختونخوا کی ٹیم میں شامل کر لیا گیا جس پر بعض حلقوں نے اعتراض بھی کیا،سینٹرل پنجاب کیخلاف انھوں نے 24 رنز کے عوض2 وکٹیں لیں، اس کے بعد انھیں کسی میچ میں نہیں کھلایا گیا اور پھر معطل ہو گئے، کے پی ایل میں ایک ٹیم کے بعض آفیشلز پر شکوک سامنے آئے تھے ان کیخلاف ایکشن بھی لیا گیا۔

ایونٹ کے دوران ڈریسنگ روم میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی بھی تجویز زیرغور رہی مگر قوانین نے اجازت نہ دی،اس وجہ سے داخلی دروازے کے قریب کیمرے لگا کر آنے جانے والوں پر نظر رکھی جا رہی تھی، یاد رہے کہ لیفٹ آرم اسپنر آصف آفریدی کو آسٹریلیا سے ہوم سیریز کے اسکواڈ میں تو شامل کیا گیا مگر کسی میچ میں شرکت کا موقع نہیں ملا تھا،رواں برس پی ایس ایل میں انھوں نے ملتان سلطانز کی جانب سے 5 میچز میں8 وکٹیں لی تھیں۔

کے پی ایل میں راولا کوٹ کی قیادت احمد شہزاد نے سنبھالی، محمد عامر، انٹرنیشنل کرکٹر حسین طلعت سمیت عماد بٹ،عماد اعظم،بابر اخلاق، بسم اللہ خان، فیصل اکرم، احسان اللہ،خواجہ ایم بلال،مصدق احمد، راجہ فرحان خان، روحان قادری، روحیل نذیر، سعید اللہ، ثمین گل، سہیل اختر، زمان خان اورذیشان ملک بھی اسکواڈ کا حصہ رہے،ارشد خان ٹیم کے کوچ تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ کچھ برس کے دوران عمر اکمل، محمد عرفان، محمد نواز،شرجیل خان، خالد لطیف،شاہ زیب حسن اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر پی سی بی کی جانب سے سزائوں کا سامنا کر چکے ہیں۔

تحقیقات ابھی جاری ہیں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے،پی سی بی آفیشل

کرپشن کیس کے حوالے سے رابطے پر پی سی بی کے ترجمان نے کہا کہ چونکہ اس کیس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اس لیے ہم کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے، کے پی ایل نے بھی ردعمل دینے سے گریز کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔