کراچی میں آٹا بحران سر اٹھانے لگا، فی کلو قیمت 150 روپے تک پہنچنے کا خدشہ

کاشف حسین  جمعرات 15 ستمبر 2022
(فوٹو فائل)

(فوٹو فائل)

 کراچی: سندھ میں گندم کی ذخیرہ اندوزی کے سبب شہر قائد میں آٹے کی قیمت کا بحران سر اٹھانے لگا ہے، مالکان نے فی کلو آٹے کی قیمت 150 روپے سے تجاوز کرنے کا خدشہ بھی ظاہر کردیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گندم کے فی من نرخ4ہزار روپے مقرر کئے جانے کے باوجود تاجر اوپن مارکیٹ سے بلیک میں گندم خریدنے پر مجبور ہوگئے۔

سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث گندم کی پیداوار میں واضح کمی آگئی ہے، جبکہ کئی علاقوں کے گوداموں میں موجود گندم پانی لگنے کے باعث ضائع ہوگئی۔ دوسری طرف سیلاب متاثرین کی امداد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

دکان داروں کے مطابق فلور ملوں سے آٹے کے ٹرک کے ٹرک متاثرین کے لیے خریدے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے شہر میں آٹے کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ مقامی مارکیٹ میں آٹے کی قیمت میں فی کلو 10 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

دس روپے اضافے کے بعد چکی کا آٹا115 روپے سے بڑھ کر 125 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے جبکہ چھوٹی چکیوں پر آٹا 135 روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔

آٹا مہنگا ہونے کی وجہ سے شہر قائد میں تندور کی روٹی کی قیمت 20 جبکہ چپاتی 15 روپے کی ہوگئی ہے جبکہ بڑے تندوروں اور شیرمال ہاﺅس پر روٹی25روپے میں فروخت ہورہی ہے اسی طرح بڑے ریسٹورنٹس پر 40روپے میں نان فروخت ہونے لگا ہے۔

آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے چکی مالکان نے بتایا کہ اوپن مارکیٹ میں گندم بلیک میں فروخت ہورہی ہے سندھ حکومت نے فوری طور پر سرکاری گندم کا اجراء شروع نہ کیا تو  آٹے کی قیمت 150 روپے کلو سے تجاوز کرجانے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے گندم کی سپورٹ پرائس 2200 سے بڑھاکر 4000 روپے کلو مقرر کردی ہے جبکہ سندھ میں سرکاری گندم کی اجراء یکم اکتوبر سے کیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔