نائن الیون اور روپے کی مسلسل گراوٹ

محمد ابراہیم خلیل  ہفتہ 17 ستمبر 2022

گزشتہ اتوار کو دنیا نائن الیون کو کس طرح یاد کر رہی تھی ، ہر ایک کا اپنا اپنا انداز ہے، جس ملک میں نائن الیون برپا ہوا اس نے جلد ہی اس پر اپنا عجیب ردعمل ظاہر کردیا تھا۔

افغانستان پر آتش و آہن کی بارش شروع ہوچکی تھی جس کی سب سے زیادہ تپش پاکستان کو محسوس ہوئی اور ایسا ہونا تھا کیونکہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں ساتھ ہی ملتی ہیں۔

پاکستان اگرچہ امریکا اور یورپ کے ساتھ ہی کھڑا تھا ، لیکن وہ سب سے زیادہ لڑکھڑاتا رہا۔ کیونکہ اس کا بہت کچھ داؤ پر لگ چکا تھا۔ 98 میں لگی پابندی کے بعد معیشت بتدریج بحالی کی جانب گامزن تھی جسے آہستہ آہستہ افغانستان میں چھیڑی گئی جنگ کی طرح جنگ زدہ ماحول میں دھکیل دیا گیا۔ چند ہی سالوں میں پاکستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔

کہیں کار بم ، کہیں موٹرسائیکل پر نصب بم ، کہیں خودکش حملوں کا نشانہ پاکستانی شہری بنتے رہے۔ امریکا اور یورپ نے تو اپنے شہریوں کو پاکستان کا رخ کرنے سے منع کردیا تھا۔ ملک کے سیاحتی علاقوں میں غیر ملکی سیاح کم سے کم ہوتے چلے گئے۔ اب تک سیاحتی سلسلہ جاری نہ ہو سکا۔

ان دو عشروں پر پھیلی ان تمام باتوں کو معیشت کے ایک نقطے پر لے کر آئیں تو پاکستان کی معیشت کی عکاسی کرنے والا روپیہ سب سے زیادہ شکست و ریخت کا شکار ہوا۔ نائن الیون سے قبل بہت سے تجارتی نمایندے پاکستان یاترا کرتے ہوئے کئی تجارتی معاہدوں کی صورت میں کروڑوں ڈالرکی مصنوعات درآمد کرلیتے تھے۔

جب ان کی آمد و رفت ہی بند ہوگئی تو معیشت پر خوشگوار اثرات کیسے مرتب ہوتے؟ نائن الیون سے پاکستانی عوام اور یہاں کی معیشت سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ معیشت کی بات کریں تو اس کا پیمانہ روپیہ ہی ہے اور یہ اس قدر کمزور اور مضمحل ہو چکا ہے کہ ان دنوں جب نیو میلینیم کا آغاز ہو رہا تھا، ایک ڈالر نے نصف سنچری بھی نہیں بنائی تھی کہ اب ڈھائی سو روپے کے قریب پہنچ رہا ہے۔

اس عرصے میں افراط زر کی شرح بھی بڑھتی رہی۔ روپے کی قدرکے مسلسل گرنے سے عوام کا معیار زندگی گھٹتا چلا گیا۔ اگرچہ2007تک روپے کی قدر کو معیشت کے حاکموں نے کسی قدر تھام رکھا تھا ، لیکن 2008 میں قائم ہونے والی حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کرتے ہی سارے بند کھول دیے اور ڈالر کی اڑان تیز تر ہوتی چلی گئی۔ 60 روپے سے 80 روپے تک جا پہنچی تھی۔ نائن الیون کے چند سال بعد 8 اکتوبر 2005 میں آنے والے زلزلے نے شدید تباہی مچا دی تھی۔ دنیا بھر سے آنے والی امداد کی کہیں کہیں بندر بانٹ کی بھی بازگشت سنائی بھی دی اور دکھائی بھی دی کیونکہ مارکیٹ میں کچھ سامان بکتا رہا۔

اس کے بعد سیلاب بھی آتے رہے اور 2010 کے سیلاب کی شدت کو سمجھ لیتے ،اس سے سیکھ لیتے اور سیلابی منصوبہ بندی کرلیتے تو آج سیلاب کی بھیانک اور انتہائی خطرناک صورت حال کو کم کرسکتے تھے۔

2022 میں آنے والے سیلاب کی یہ صورت گری ہے کہ بقول وزیر اعلیٰ سندھ ایک علاقہ بچائیں تو دوسرا ڈوب رہا ہے۔ ایک طرف معیشت ڈوب رہی ہے، سیلاب متاثرین کے علاوہ جو عوام ہیں وہ مہنگائی کے باعث ان کا ماہانہ بجٹ بھی ہر ماہ تسلسل کے ساتھ غرق ہو رہا ہے۔ کیونکہ مہنگائی کی لہر انتہائی بلند سطح کو چھوتے ہوئے 42 فی صد افراط زر کی شرح کو 47 برسوں میں سب سے زیادہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اگر گزشتہ دو عشروں کے دوران ملک بم دھماکوں کی زد میں نہ آتا۔ معیشت ان دھماکوں سے لرزہ براندام نہ ہوتی تو پاکستانی معیشت پر اس کے منفی اثرات نہ مرتب ہوتے۔ اس دوران پاکستان کو پہنچنے والا مالی نقصان جس کے بارے میں کوئی حتمی اعداد و شمار میسر نہیں مختلف اندازوں میں کہیں 200 ارب ڈالر اور کہیں اس سے کم۔ اتنی قربانیوں کے باوجود نہ معیشت بچ سکی اور نہ اپنے روپے کو بچا سکے کہ ان دو عشروں میں روپیہ اس قدر نحیف و کمزور ہوا کہ گزشتہ نصف صدی میں نہ ہوا تھا۔ اب 240 روپے کا ایک ڈالر ہونے کے بعد بھی روپے کی تنزلی رکنے میں نہیں آ رہی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری معیشت انتہائی کمزور ونحیف ہونے کے بعد اب بے بس و لاچار بھی ہو چکی ہے۔ نائن الیون کے منفی اثرات اور زلزلوں، سیلابوں کے وارد ہونے کے باعث ملکی معاشی ترقی کی شرح کم ہی رہی۔ کسی ملک کی کرنسی جب ہی مضبوط ہوتی ہے جب ملکی معاشی ترقی کی شرح بڑھتی چلی جائے۔ ملک مالی دباؤ میں قطعاً نہ رہے۔

کیونکہ پھر مالی دباؤ سے نکلنے کے لیے قرض کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب 100 یا 200 ارب ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہوا ہے تو قرض کی ضرورت پڑے گی اور جب بھی آئی ایم ایف سے ایک یا دو ارب قرض کی قسط لینا ہو اور اس مرتبہ بھی کیا حال کیا سن لیجیے، بقول وزیر اعظم ’’آئی ایم ایف نے ہماری ناک سے لکیریں نکلوائیں‘‘ لہٰذا اب جو روپیہ 241 روپے کی سطح پر پہنچا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ معیشت انتہائی کمزور کردی گئی اور یہ تسلسل گزشتہ دو عشروں سے چلا آ رہا ہے ، لہٰذا نائن الیون سے پاکستان جانی لحاظ سے مالی لحاظ سے معاشی لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اب سیلاب سے متاثر ہو نے کے ساتھ یہ سلسلہ تھما نہیں، مزید سیلابی ریلوں کی وارننگ کے علاوہ غذائی بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اب افراط زرکا سیلاب بھی متاثرہ سیلاب زدگان کے لیے ناقابل برداشت ہونے کے علاوہ ملک کے ہر شہری چاہے امیر ہی کیوں نہ ہو کو شدید متاثر کیا ہے۔ حکومت روپے کو بھی بچانے کی کوشش کرے تاکہ افراط زر میں کمی لائی جاسکے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔