پاکستان کے سیلاب زدگان کو دی گئی عالمی امداد آٹے میں نمک کے برابر ہے؛ امریکی سینیٹر

ویب ڈیسک  اتوار 18 ستمبر 2022
باب مینڈز نے یوکیرن اور افغانستان کی طرح پاکستانیوں کو بھی تحفظ دینے کا مطالبہ کیا، فوٹو: فائل

باب مینڈز نے یوکیرن اور افغانستان کی طرح پاکستانیوں کو بھی تحفظ دینے کا مطالبہ کیا، فوٹو: فائل

  واشنگٹن: امریکی سینیٹر باب میننڈز نے پاکستان میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال پر عالمی برادری کی جانب سے دی گئی امداد پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب زدگان کے لیے دی گئی امدادی رقوم ان کے نقصان کے مقابلے میں پوری بالٹی میں ایک قطرے کے برابر ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین باب میننڈز نے نیوجرسی میں پاکستانی امریکی کمیونیٹی کی جانب سے فنڈز جمع کرنے کی ایک تقریب سےخطاب کرتے ہوئے پاکستان میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور دکھ کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام کی ہر ممکن امداد کے عزم کو دہرایا۔

اس موقع پر سینیٹر باب میننڈز نے تجویز پیش کی کہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے اور بحالی پروگرام کے لیے بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس کے انعقاد کیا جائے اور زیادہ سے زایدہ فنڈز جمع کیے جائیں۔

امریکی سینیٹر باب مینڈز نے اپنی حکومت سے پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے ڈیزاسٹر پیکیج اور آئی ایم ایف سے بھی مزید ریلیف پروگرام دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک دی جانے والی عالمی امداد بالٹی میں ایک قطرے پانی سے زیادہ نہیں۔

سینیٹر باب میننڈز نے کہا کہ افغانستان اور یوکرین کی طرح امریکا میں مقیم پاکستانیوں کو بھی عارضی تحفظ کا درجہ دیا جانا چاہیے اور وہ یہ معاملہ خود صدر جوبائیڈن کےسامنے رکھیں گے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔