امید ہے ایک سال میں بغیر برانچ کے ’ڈیجیٹل بینک‘ فعال ہو جائیں گے، سیما کامل

رضوان طاہر مبین  اتوار 25 ستمبر 2022
تیل کے سوا کوئی اتنی بڑی چیز نہیں، جس کی قیمت بڑھا کر مالی خسارا پورا کیا جا سکے، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سے خصوصی گفتگو ۔  فوٹو : فائل

تیل کے سوا کوئی اتنی بڑی چیز نہیں، جس کی قیمت بڑھا کر مالی خسارا پورا کیا جا سکے، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سے خصوصی گفتگو ۔ فوٹو : فائل

شہرِقائد کے مصروف ترین تجارتی علاقے میں ڈھلتے ہوئے اُس دن ہماری منزل ’بینکوں کے بینک‘ یعنی ’بینک دولت پاکستان‘ المعروف ’اسٹیٹ بینک‘ تھا۔۔۔

بُہتیری کوششوں کے بعد ہی ہمیں اس ملاقات کے لیے وقت مل سکا تھا، جو اب ہمارے لیے ایک ’امتحان‘ اس حوالے سے تھا کہ معاشی موشگافیوں اور اقتصادیات کے پیچیدہ امور سے متعلق گفتگو جو ہونی تھی، اور جب تک انٹرویو کی شخصیت روبرو نہ ہو، یہ کہنا ممکن نہیں ہوتا کہ انٹرویو کیسا ہو پائے گا۔۔۔ سو، ہم کافی فکر مند تھے۔ چند ایک حفاظتی حصار پر شناخت کرانے کے بعد ہم آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع اسٹیٹ بینک کی بالائی منزلوں تک پہنچے، جہاں چند لمحوں کے توقف کے بعد اِذن باریابی ہوا اور یوں ہماری ملاقات شروع ہوئی۔

آہستگی سے گفتار کرتی ہوئی اور بہت دھیمے اور شائستہ لہجے میں اظہارخیال کرنے والی ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سیما کامل سے ہم نے بہت سے سوالات کر ڈالے، ان کی ذاتی زندگی کی معلومات تو پہلے ہی ہمارے پاس تھی، جو اُن کے سامنے دُہرا کر مہر تصدیق ثبت کرائی اور ان جزئیات کے تعلق سے بات چیت آگے بڑھتی رہی، جس میں اسٹیٹ بینک کو گذشتہ دنوں دی جانے والی خود مختاری، پیٹرول کی قیمتوں پر ’آئی ایم ایف‘ کے مطالبے، ریاستی قرضوں کے سلسلے، پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثے، بینکوں کی نج کاری، آئی ٹی کے حوالے سے برآمدات، اسلامی بینکاری، جدید ڈیجیٹل بینکاری، بینکوں سے عام شکایات اور مختلف بینک اکائونٹ میں پراسرار طور پر آ جانے والی رقوم سے لے کر ان کے تجربات اور مشاہدات تک بہت کچھ سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سیما کامل اس وقت ’بینک دولت پاکستان‘ یا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تین نائب گورنروں میں سے ایک ہیں۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر مرتضیٰ سید اور ڈاکٹر عنایت حسین بھی نائب گورنروں میں شامل ہیں۔

سیما کامل کو 25 اگست 2020ء کو تین سال کے لیے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک مقرر کیا گیا۔ انھیں ’گلوبل بینکنگ الائنس فور ویمن‘ کی طرف سے ’جی بی اے ویمنز چیمپئن‘ کا خطاب ملا۔ وہ 2017ء میں جب وہ ’یونائیٹڈ بینک‘ کی صدر اور ’سی ای او‘ تھیں، تب ’اونلی پاور فل ویمن ان بزنس‘ کی 18 نمایاں ترین پاکستانی خواتین کی فہرست میں شامل کی گئیں۔

ہم نے سیما کامل سے پوچھا کہ اسٹیٹ بینک سے قبل نجی بینکوں میں ہوتے ہوئے کبھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ’ارے یہ اسٹیٹ بینک نے کیا پالیسی بنا دی۔۔۔؟‘ تو انھوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’بالکل، اب میں یہاں بینکوں کے مسائل کی طرف سے بھی سوچتی ہوں اور یہاں آکر مجھے اسٹیٹ بینک کا نقطۂ نظر اور ان کے فیصلوں کی وجوہات بھی سمجھ میں آئیں۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ عام بینک اور ’اسٹیٹ بینک‘ ایک دوسرے سے کافی جڑے ہوئے ہیں، ہمارے بینک محفوظ اور مستحکم رہیں گے، تو یہ اسٹیٹ بینک کے لیے بھی اچھا ہے، کیوں کہ جو لوگ بینکوں کو اپنا روپیا دیتے ہیں، تو یہ بہت بڑی امانت اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا کام یہ ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے، یہ نہ ہو کہ بینک کہے کہ آپ نے ہمیں پیسے دیے تو تھے، لیکن اب ہمارے پاس آپ کو دینے کے لیے نہیں! شکر ہے، کہ ایسا نہیں ہوا، ورنہ یہ بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر کسی سبب جہاں بینک اپنا کام نہیں کر پا رہے، وہاں اسٹیٹ بینک معاملات دیکھتا ہے کہ چھوٹے کاروبار اور قرضے، اسلامی بینکنگ وغیرہ یہ کم ہے، اسے بڑھایا جائے، تاکہ عوام کو زیادہ فائدہ ہو۔

سیما کامل جدید ڈیجیٹل بینکاری نظام کی طرف خاص دل چسپی رکھتی ہیں، انھوں نے بتایا کہ ’ہم ڈیجیٹل بینکنگ کی طرف جانا چاہتے ہیں، تاکہ لوگوں کو برانچ میں جانے کی ضرورت نہ ہو، سب سہولتیں گھر بیٹھے ہی دست یاب ہوں۔‘

ہم نے بینکوں کی برانچ کے حوالے سے پوچھا، تو انھوں نے کہا کہ برانچ ہوں، جیسے اب میں ادائیگی اور اسٹیٹمنٹ وغیرہ کے لیے اپنا موبائل استعمال کرتی ہوں۔ برانچ کا کام لوگوں کو مشورہ دینا ہونا چاہیے، نقد لینے کے لیے برانچ نہیں جانا چاہیے، نہ پے آرڈر بنوانے۔ آپ کو انشورنس پالیسی، کاروبار یا گاڑی وغیرہ کی پالیسی لینے کے لیے جانا چاہیے۔ چھوٹی چیزوں کے لیے آپ کے پاس موبائل ہے۔‘

ملک میں ’اسلامی بینکاری‘ کے حوالے سے ڈپٹی گورنر سیما کامل کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے آئین میں ہے اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان میں تو اسلامی بینکاری بہت بڑھ رہی ہے، بالخصوص گھر کے لیے قرض میں اس طرز کا رجحان بڑھ رہا ہے، لیکن بیرونی ادائیگیوں کو ’اسلامی طرز‘ کی طرف لانے کے حوالے سے ابھی سوچنا پڑے گا، تاہم، مجموعی طور پر ہم اسلامی بینکاری کی طر ف جا رہے ہیں۔‘‘

ہم نے سیما کامل سے پوچھا کہ ہماری تاریخ میں یہ 22 واں موقع آیا ہے، آخر ہم پیسے لینے کے لیے بار بار ’آئی ایم ایف‘ کے پاس کیوں جاتے ہیں؟

وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس اتنی ’فارن کرنسی‘ نہیں، جتنی ہونی چاہیے، اس وجہ سے ہمارے پاس کمی ہوجاتی ہے، درآمدات اور برآمدات میں موجود خلا اس کا سبب ہے، جس وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف‘ سے پیسے لینے پڑتے ہیں۔

دوران گفتگو قرضوں کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے کردار کی بات ہوئی کہ پہلے ’حکومت‘ اسٹیٹ بینک سے بھی قرض لیتی تھی، اب نجی بینکوں سے لیتی ہے؟

جس پر سیما کامل نے کچھ اس طرح وضاحت کی کہ ’پہلے بھی وہ سارا قرض ہم سے نہیں لیتے تھے، بلکہ نجی بینکوں سے بھی لیتے تھے، لیکن آپ یہ سوچیے اسٹیٹ بینک حکومت کو کہاں سے پیسے دیتا تھا؟ ظاہر ہے، وہ زیادہ نوٹ چھاپتا تھا، جس سے ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے، اس لیے زیادہ تر ممالک نے مرکزی بینک سے قرض لینے کا سلسلہ ختم کر دیا ہے، یہی زیادہ بہتر ہے۔‘‘

حکومتوں کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے اٹھائے گئے، پچھلے قرضوں کے حوالے سے سیما کامل نے بتایا کہ وہ بتدریج واپس ہو رہے ہیں، رقم بہت بڑی ہے، اس لیے یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

’آئی ایم ایف‘ کی شرائط کے مطابق ’اسٹیٹ بینک‘ کو دی جانے والی خودمختاری کے حوالے سے تنقید کا سوال نکلا، تو سیما کامل نے کہا کہ ’’ہم تو حکومت ہی کا حصہ ہیں، اسٹیٹ بینک میں گورنر، ڈپٹی گورنر اور بورڈ سبھی کا تقرر حکومت کرتی ہے، اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بس یہ تھا کہ ’مانیٹری پالیسی‘ اسٹیٹ بینک خود طے کرے گا، لیکن وہ وزارت خزانہ اور حکومت سے ہمیشہ مشاورت کرتا ہے۔

اتنی خود مختاری دنیا میں سارے مرکزی بینکوں کو حاصل ہوتی ہے، سینٹرل بینک کی مانیٹری پالیسی ہر جگہ ہے اور یہ کوئی ایسی انوکھی چیز نہیں۔ خودمختار ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم خود اپنے گورنر بنا لیں، ہمارے بورڈ حکومت ہی کے بنائے ہوئے ہیں، اور وہی پالیسی بنا رہے ہیں۔ لوگوں کو شاید یہ لگتا ہے کہ خودمختاری کے بعد اسٹیٹ بینک ’آئی ایم ایف‘ کی باتوں پر چلے گا، ایسا نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ حکومت ہماری سفارشات کو بہت اہمیت دیتی ہے، ہمارا زیادہ تر کام وزارتِ خزانہ سے ہوتا ہے، جو ہمارے شراکت دار ہی ہیں۔

’آئی ایم ایف‘ کے قرض پر ان کی عائد کردہ شرائط بالخصوص ایندھن کی قیمتیں بڑھانے کا ذکر نکلا، تو انھوں نے کہا ’’تیل کی طلب زیادہ ہے، اس کا بھائو بڑھتا جا رہا ہے، اگر ہم اس قیمت پر نہیں دیں گے، تو پھر قیمت کا یہ فرق حکومت ہی کو ادا کرنا ہوگا اور حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں! ہمارے ہاں ٹیکس دہندگان کم ہیں، حکومت بینکوں سے ادھار کرتی ہے، دنیا میں دام بڑھیں اور ہم وہ نرخ نہ دیں تو یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ ’آئی ایم ایف‘ نے یہی کہا کہ اگر بازار کے نرخ پر نہ دیں گے، تو آپ کیسے ادائیگی کریں گے۔‘‘

’کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تیل جیسی بنیادی ضرورت کے بہ جائے کسی اور چیز سے یہ خسارہ پورا کیا جائے؟‘ ہم نے عوام میں بہ کثرت پوچھے جانے والا سوال ان کے گوش گزار کیا، تو انھوں نے کہا ’’میرا خیال ہے ایسا ممکن نہیں، کیوں کہ یہ ایک مرکزی اور سب سے بڑی چیز ہے، ہمارا مالیاتی خسارہ یہیں سے ہی پورا ہو سکتا ہے۔‘‘

’’ہمارے ملک کے لوگوں کے اثاثے ملک سے باہر ہیں اور بہت سے باہر منتقل بھی ہورہے ہیں، وہ بھی تو ہمارے لیے نقصان کا باعث ہیں؟ اگر وہ بیرون ملک تمام اثاثے واپس لے آئیں، تو ہمیں مانگنے کی ضرورت بھی نہ پڑے؟‘‘

ہمارے انٹرویو کے اس اہم سوال کے جواب میں سیما کامل نے کہا کہ ’بالکل اثاثے ملک سے باہر جانا نقصان پہنچاتا ہے، لیکن اب وہ کتنی مالیت کے ہیں، اور کیا وہ اتنے ہیں کہ اگر یہاں لے آئیں، تو ہمیں کسی سے مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔۔۔ یہ مجھے نہیں پتا۔‘‘

’چلیے مانگنے کی ضرورت نہ سہی، کم سے کم معیشت کی اچھی صورت تو پیدا ہوگی؟‘ ہم نے ان کے جواب سے اخذ کرتے ہوئے پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں ’’ہاں، لیکن اب ہم ان سے یہ کیسے کہیں گے۔۔۔!‘‘

ہم نے ملکی برآمدات میں اسٹیٹ بینک کے کردار کے حوالے سے استفسار کیا، تو سیما کامل نے بتایا کہ گذشتہ ایک دو سال میں برآمدات بہت اچھی بڑھی ہے۔ ہماری فنانس اسکیم ہے، جس میں ہم بینکوں کو کم ریٹ پر پیسے دیتے ہیں۔ آج کل ’آئی ٹی‘ کی بات ہو رہی ہے۔

’آئی ٹی‘ کے چھوٹے بڑے لوگوں کے لیے ایک کروڑ روپے تک کی ضمانت کم کر دی ہے۔ ہمارے خطے کے دیگر ممالک میں بہت بڑھ گئی ہے، ہماری بھی بڑھنی چاہیے، ہمیں ’آئی ٹی‘ کی حوالے سے تعلیم بھی دینی ہے اور ترغیب بھی۔ آئی ٹی کی تیکنیکی تعلیم بھی بہت بڑھانے کی ضرورت ہے، ہمیں اسٹیٹ بینک کے لیے بھی ’آئی ٹی‘ کے اچھے لوگ بہت مشکل سے ملتے ہیں۔ بینکوں کو بھی اچھی ’آئی ٹی‘ ٹیم بنانا بہت دشوار ہوتا ہے۔ ہماری ’آئی ٹی‘ کی برآمدات بڑھ رہی ہے اور بڑھتی بھی رہے گی، ہماری بہت سی کمپنیاں بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ لیکن ہمیں ابھی بہت آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے فنانس یا ٹیکس کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کا کردار ہے، ہم اسکیم لاتے بھی رہتے ہیں۔

ہم نے ملک بھر میں مجموعی بینک اکائونٹ کے حوالے سے دریافت کیا، تو سیما کامل نے ہمیں بتایا کہ اس وقت ملک میں کُل 80 ملین بینک اکائونٹ ہیں، اس میں ایک صارف کے ایک، دو سے زائد اکائونٹ بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے ہمیں یہ اکائونٹ کم سے کم 150 ملین تک لے جانے ہیں، دراصل لوگوں کو بینک کے اکائونٹ سے کوئی فائدہ نظر آنا چاہیے۔

’موبائل بینکنگ‘ اور اپنے عزائم کے حوالے سے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کہتی ہیں کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ معیشت دستاویز میں ہو اور نقد سے دور ہو، تاکہ محصولات (ٹیکس) کے درمیان خرابیاں اور چوریاں دور ہوں۔ جب اکائونٹ کھلے گا، تو پھر سب چیزیں ریکارڈ میں ہوں گی اور یہی ’ڈیجیٹل اکائونٹ‘ کا مقصد ہے، یہ زیادہ سستا، آسان اور باسہولت ہے۔

سیما کامل نے انکشاف کیا کہ ’’اسٹیٹ بینک نے ڈیجیٹل بینک کا فریم ورک بنایا ہے، جس میں بینکوں کی شاخیں نہیں ہوں گی، یا تھوڑی سی ہوں گی، جس کے لیے اندرون اور بیرون ملک کی 20 کمپنیوں نے درخواستیں دی ہیں، پہلے مرحلے میں ہم پانچ ڈیجیٹل بینکوں کو لائسنس دیں گے، جس میں سب کچھ ڈیجیٹل ہوگا، بس تھوڑی سی برانچیں ہوں گی۔ کچھ ماہ میں اس کا اعلان کردیں گے۔ اس کے بعد پہلے ایک پائلٹ ہوگا، وہ یہ کر کے دکھائیں گے، اس کے بعد اس کو حتمی شکل دے دی جائے گی، اس کا ایک پورا مرحلہ ہے، امید ہے کہ سال بھر میں ’ڈیجیٹل بینک‘ فعال ہو جائیں گے۔‘‘

سیما کامل خواتین کی شرکت، ڈیجیٹل بینکاری اور زرعی شعبے کے لیے کام کو اپنے اہداف قرار دیتی ہیں اور ساتھ ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس پر سنجیدگی دکھانے پر زور دیتی ہیں، موسمیاتی تغیرات کے بڑے اثرات پڑ رہے ہیں، ہمیں اسے دیکھنا ہے، ملک میں پانی اور موسمی شدت کی صورت حال کو دیکھنا ہے۔

عام بینکوں میں ’آن لائن‘ نظام پر انحصار بڑھنے کے تعلق سے ایک سوال یہ بھی ہمارے ذہن میں تھا کہ یہ امر جہاں سہولت کا باعث ہے، وہیں یہ خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے انٹرنیٹ غائب ہو جائے، تو ہمارے بینک کہاں کھڑے ہوں گے؟ اس پر انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ہمارے قوانین بھی ہیں اور ہمارا ’ڈیزاسٹر پلان اور ’بیک اپ‘ بھی ہوتا ہے۔

ایک ’سیٹلائٹ لنک‘ ہوتا ہے اور ایک اس کا بیک اپ ہوتا ہے، باقی ’خدشات‘ تو ہر چیز میں ہیں، جب کاغذ پر کام ہوتا تھا تب بھی اور طرح کے مسائل تھے، 2007ء میں بے نظیربھٹو کے قتل کے بعد آتش زنی کے واقعات میں بینکوں کے سارے ریکارڈ جل گئے تھے، شرپسندوں کی جانب سے صرف حبیب بینک ہی کی60 شاخیں نذر آتش کی گئی تھیں۔ اب ’آن لائن‘ میں اس مسئلے سے تحفظ ہے، تو کچھ اور طرح کے خدشات ہیں۔ ’آن لائن‘ تخریب کاری کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی دو، تین متبادل رکھے جاتے ہیں۔

ہم نے کہا بینکوں کو ’بادشاہ‘ سمجھا جاتا ہے، وہ جو چاہتے ہیں بغیر اطلاع اپنے صارفین کے ساتھ کٹوتی وغیرہ کر لیتے ہیں، جس پر سیما کامل نے بتایا کہ اس کے لیے ہمارا شکایتی نظام موجود ہے اور اب عن قریب ایک اور شکایت نظام متعارف کرا رہے ہیں، جس میں صارف اپنی شکایت براہ راست اسٹیٹ بینک کے پاس درج کرائے گا اور پھر بینک کے حوالے سے یہ شکایت دور کی جائے گی۔ یہ بہت عام بات ہے کہ زیادہ تر صارف بینکوں کے کام سے خوش نہیں ہوتے، اور دنیا میں کہیں نہیں ہوتے، بینکوں میں جانا دانتوں کے ڈاکٹر پاس جانے کے مترادف لگتا ہے۔

ہم نے کہا حالاں کہ بینک کا تعلق روپیے پیسے سے ہے؟ تو انھوں نے کہا دراصل بینک جا کر کبھی بل ادا کرنا ہے، کبھی قطار میں کھڑا ہونا ہے اور پھر عملے کے رویے سے شکایت ہوتی ہے۔

اس دوران ہمیں بینکوں میں آئے دن کی ’’سسٹم کام نہیں کر رہا‘‘ کی شکایت یاد آگئی، آیا واقعی ایسا ہوتا ہے یا ہمیں ٹالنے کے لیے یہ کہہ دیا جاتا ہے؟ سیما کامل کہتی ہیں کہ سسٹم میں مسائل ہوتے ہیں، تاہم ممکن ہے کہ بعضے وقت عملہ غلط بیانی بھی کرتا ہو۔ اس کا حل شکایت درج کرانا ہے۔ ہمارے ہاں نئے بینکوں کی خدمات زیادہ اچھی ہیں، لیکن دوسری طرف پرانے بینکوں کی شاخیں زیادہ ہیں، اور نام بڑا ہونے کا فائدہ ہے۔

’’والدہ بانو قدسیہ کی پھوپھی زاد بہن تھیں‘‘

ڈپٹی گورنر ’اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ سیما کامل کراچی میں پیدا ہوئیں، ان کے والد محمد کامل کا تعلق متحدہ ہندوستان کی راج دہانی دہلی سے تھا، جو پاکستان بننے سے پہلے ہی کراچی آچکے تھے، آج سے لگ بھگ 24 برس قبل ان کے والد کا جرمنی میں انتقال ہوا، پھر اس کے سال بھر بعد ان کی والدہ بھی دنیا سے چلی گئیں۔

سیما کامل بتاتی ہیں کہ ’ان کی والدہ کرنال (مشرقی پنجاب) سے لاہور آئی تھیں، ان کی والدہ کی والد سے ملاقات بھی گورنمنٹ کالج لاہور ہی میں ہوئی تھی، جو وہاں فلسفہ پڑھاتی تھیں۔ ان کی والدہ مشہور ادیبہ بانو قدسیہ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔‘ سیما کامل کراچی گرامر اسکول میں تاریخ اور ادب کی جانب راغب تھیں، معاشیات نہیں پڑھنا چاہتی تھیں۔

اس حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ ’’میرے اہل خانہ بہت زیادہ پیسے والے نہ تھے، ہمیں کہا گیا کہ اگر باہر پڑھنا ہے، تو ایسی چیز پڑھنی چاہیے کہ جب واپس آئیں، تو اچھا کام ملے اور بہتر آمدنی ہو سکے۔

ایک خالہ ڈاکٹر تھیں، ان کی خواہش تھی، کہ ڈاکٹر بنوں، لیکن مجھے یہ شعبہ زیادہ بہتر لگا۔ تعلیم کے لیے پہلے لڑکوں کو باہر بھیجا گیا، پھر لڑکیوں کو، جس میں وہ اور ان کی ایک کزن شامل تھیں، انھیں ’یوکے‘ بھیجا گیا کہ وہ ہمیں اپنے حساب سے نسبتاً محفوظ لگتا ہے، جب کہ امریکا ایک بالکل بے قابو جگہ لگتی ہے۔‘‘

سیما کامل کا بچپن مکمل طور پر کراچی ہی میں گزرا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’پہلے کراچی میں جمشید روڈ کے قریب رہائش تھی، پھر گارڈن ایسٹ میں رہے، 1965ء کی جنگ میں سائرن بجنا یادداشت کا حصہ ہے، پھر کلفٹن میں رہائش رہی، اس دوران 1971ء کی جنگ کے کچھ مناظر بھی یاد ہیں۔

کہتی ہیں کہ ’جی این زیڈ‘ سے وابستگی کے دوران لاہور میں بھی تین چار سال کے لیے رہیں، لیکن کراچی ہمیشہ اپنا گھر لگا اور پسند رہا۔ وہ دو بہن بھائی ہیں، بھائی ڈاکٹر ہیں اور اب کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل ہی کراچی میں ان کے والد کی ’کلیئرنگ فاورڈنگ ایجینسی‘ ’’محمد امین محمد صدیق‘‘ تھی، وہ بتاتی ہیں کہ ہم جدی پشتی پیسے والے نہیں تھے، ہماری زندگی معاشی جدوجہد سے عبارت رہی، ملک سے باہر جانے میں ننھیال کی طرف سے معاونت حاصل رہی۔

ہم نے سیما کامل سے پیشہ وارانہ امور کے علاوہ دیگر مصروفیات کی بابت دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا، آج کل تو اس کا وقت ہی نہیں ملتا، وقت ملے تو کتابیں پڑھ لیتی ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام میں زندگی بسر کرنے والی سیما کامل کی شادی 2006ء میں ہوئی، ان کے شوہر سلمان طالب الدین ستمبر 2018ء تا جون 2022ء ایڈووکیٹ جنرل سندھ رہے، کہتی ہیں کہ ان کے شوہر کو فارمنگ وغیرہ کا شوق ہے.

ہفتے کو وہ ’فارم ہائوس‘ چلے جاتے ہیں، جب کہ وہ ذرا کم کم جاتی ہیں۔ سیما کامل اسٹیٹ بینک میں آنے سے قبل تین سال ’یو بی ایل‘ سے منسلک رہیں، جہاں وہ ’سی ای او‘ کی ذمہ داریوں پر فائز تھیں۔ وہ اپنی موجودہ ذمہ داریوں کو بہت بڑا اعزاز اور باعثِ مسرت قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اسٹیٹ بینک میں ذمہ داریاں ادا کریں۔

ریاست کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ’تجارتی بینک‘ چلائے!
سیما کامل جب ’حبیب بینک‘ کا حصہ بنیں تو وہ ایک سرکاری بینک تھا، ہم نے اس حوالے سے کچھ جاننا چاہا، اور پوچھا کہ اس وقت یہ کہا گیا کہ یہ 29 ارب میں بہت سستا بیچ دیا گیا؟ تو وہ گویا ہوئیں کہ اس وقت سیاسی وجوہات کی بنا پر بہت مشکلات تھیں اور حکومت اور اسٹیٹ بینک کی بہت مدد تھی، حالت یہ تھی کہ انھیں یہ تک نہیں پتا تھا کہ برانچ میں کتنے پیسے ہیں؟ خسارے اور سیاسی قرضے بے پناہ تھے۔

اس کی املاک کی ضرور قیمت تھی، لیکن بینک کی حالت تو بہت خراب تھی۔ حبیب بینک، الائیڈ بینک، یونائیٹڈ بینک اور مسلم کمرشل بینک کے جتنے پیسے بن رہے ہیں اس کا آدھا تو وہ اب ٹیکس دیتے ہیں، اس وقت تو کچھ بھی نہیں دے سکتے تھے۔

’’تو کیا حکومت بینک نہیں چلا سکتی؟‘‘ ہمارے اس سوال کے جواب میں سیما کامل کا کہنا تھا کہ میرا ذاتی خیال تو ہے کہ نہیں، حکومت کا کام حکومت کرنا ہے، بینک اور کاروبار چلانا نہیں، حکومت ایسا ماحول بنائے کہ سب کچھ اچھی طرح اور قوانین کے مطابق ہو، آڈٹ ہوں، بینکوں کی نج کاری بالکل درست تھی اور اس کا اچھا نتیجہ نکلا۔

کوشش ہے کہ بینک میں آنے والی خواتین ’بے آرام‘ نہ ہوں
حبیب بینک سے وابستگی کے دوران سیما کامل نے 2016ء میں ’ایچ بی ایل۔نسا‘ متعارف کرایا۔ اس منصوبے کی ضرورت کے حوالے سے سیما کامل کہتی ہیں کہ ’’خواتین کو ہمارے ہاں دفتری ماحول میں اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، ان کی عزت ضرور ہوتی ہے، لیکن انھیں اہمیت نہیں دی جاتی، بہت سی جگہوں پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے برتائو درست نہیں ہوتا، اس لیے وہ بینک جانے سے گھبراتی ہیں۔

ہماری بیش تر خواتین امور خانہ داری چلاتی ہیں، جہاں زیادہ تر وہی فیصلے کرتی ہیں، بینک میں ماحول کی بہتری کے لیے ہم نے یہ قدم اٹھایا کہ جو خواتین بینک آئیں، ان کی ضروریات کے مطابق سہولت دیں، کاروبار ہی نہیں، بچوں کی تعلیم اور ان کی شادیوں کے لیے وہ کوئی محفوظ پالیسی چاہتی ہیں۔

عام طور پر لوگ خواتین کا مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ اپنے لیے خرچ کرنا چاہتی ہیں، جب کہ حقیقت میں وہ زیادہ تر خاندان کے حوالے سے فکرمند رہتی ہیں، انھیں سہولت دینے کے لیے ہم نے یہ قدم اٹھایا تھا کہ انھیں یہ سب سہولتیں دست یاب ہوں، یہ بہت کام یابی سے جاری ہے، اس سے خواتین کے بینک اکائونٹ بڑھے اور انھوں نے بینکوں کی اسکیم سے زیادہ استفادہ کیا۔‘‘

سیما کامل کہتی ہیں کہ ’اسٹیٹ بینک میں آکر اس کام کو بھی آگے بڑھایا، ہم نے دیکھا کہ خواتین کے تو اکائونٹ ہی بہت کم (11 ملین) ہیں، باقی چیزیں تو بعد کی ہیں۔ پھر ہم نے بینکوں کو خواتین کے حوالے سے پابند کیا ہے کہ وہ خواتین کو مواقع دیں، اور پھر ان کے لیے خصوصی طور پر اسکیم دیں۔

مردوں کو شاید اگر گاڑی کی ضرورت ہوتی ہے، تو خواتین کو انشورنس یا بچت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی طرف سے بینکوں میں خواتین عملے کے حوالے سے بھی تاکید کی گئی ہے۔ اکیلی خاتون برانچ میں خاصی ’بے آرام‘ ہوتی ہے۔ اس مسئلے کو دور کرنے کے لیے کام کیا اور یہ یقینی بنایا ہے کہ خواتین کی عملی طور پر عزت ہو۔‘

غیرملک میں آپ دوسرے درجے کے شہری ہی رہتے ہیں!
سیماکامل نے نرسری کے بعد کراچی گرامر اسکول میں تعلیم حاصل کی، پھر 1983ء میں کنگسٹن یونیورسٹی (لندن) سے گریجویشن کیا۔1984 ء میں وہیں سٹی یونیورسٹی سے ’ایم بی اے‘ کیا، جہاں ملازمت کی پیش کش ہوئی، لیکن انھوں نے قبول نہیں کی، وہ کہتی ہیں کہ ان پر خاندان کی ذمہ داری تھی۔۔۔ ان کے بھائی پڑھنے کے بعد کینیڈا ہی میں مستقل ٹھیر گئے تھے، لیکن انھوں نے کبھی ایسا نہیں سوچا، اب بھی باہر رہنے میں کوئی دل چسپی نہیں، کہتی ہیں کہ لوگوں کو بہت شوق ہوتا ہے۔ میں اگر یہاں نہ آتی، تو شاید جو آگے بڑھنے کا موقع ملا، وہ نہیں مل سکتا تھا۔ میں نے یہ بہت واضح طور پر محسوس کیا ہے کہ کچھ بھی ہو، باہر آپ دوسرے درجے کے شہری ہی رہتے ہیں۔

سیما کامل 1986ء تا 1988ء کریڈٹ کارڈ کمپنی ’امریکن ایکسپریس‘ میں رہیں، پھر ANZ Grindlays Bank کا حصہ بن گئیں، 2000ء میں ANZ Grindlays Bank کو ’اسٹینڈرد چارٹرڈ بینک‘ نے خرید لیا، تو انھوں نے وہاں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اس دوران دو سال کے لیے ان کی تقرری آسٹریلیا میں بھی کی گئی، جس کے بعد انھیں وہاں مستقل ملازمت کی پیش کش ہوئی، جسے انھوں نے منع کیا کہ ’’بات نہیں بنتی۔۔۔ وہ بہت اچھی جگہ ہے، کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے، لیکن گھر نہیں لگتا۔‘‘

ہم نے کہا آپ کی طرح کی سوچ کے لوگ بہت کم ہوتے ہیں کہ جو صرف اپنے وطن چھوڑنے کے سبب آگے بڑھنے کے ایسے مواقع چھوڑ دیتے ہیں، جس پر سیما کامل نے کہا کہ ’’یہاں ہر انسان اپنے جیسا لگتا ہے، وہاں ہم خود کو جتنا بھی بدل لیں میرے خیال میں ہمیشہ ’مِس فٹ‘ ہی رہتے ہیں۔ میرے بھائی کو یہاں سے گئے ہوئے 40، 50 سال ہوگئے ہیں۔ اب بھی وہ یہاں آنے کے لیے یہی کہتے ہیں کہ مجھے گھر آنا ہے۔ ’کورونا‘ کی وبا کے دوران کچھ زیادہ وقفہ ہوا، ورنہ سال میں وہ ایک بار ضرور آتے ہیں۔ ان کی اہلیہ کینیڈین ہیں، اب وہ چاہتے ہیں کہ اپنی بیٹی کو اردو سکھائیں۔‘‘

بینک کھاتوں میں ’نامعلوم رقوم‘ آنے کا قصہ۔۔۔
ہم نے نائب گورنر بینک دولت پاکستان سیما کامل سے چھوٹی آمدن والے لوگوں کے بینک اکائونٹ میں پراسرار طور پر بڑی رقوم کی موجودگی کا استفسار کیا کہ بینک تو وصولیوں کے حوالے سے بڑی چھان پھٹک کرتا ہے، تو یہ سب کیسے ہوگیا؟ جس پر انھوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے بعد ہی سختیاں کی گئی ہیں، ایسے تمام واقعات پابندیوں سے پہلے کے ہیں۔ اب تو اکائونٹ کی ہر سرگرمی دیکھی جاتی ہے۔ ایسے جعلی اکائونٹ میں جو روپیا ہوتا ہے، اس میں کبھی بینکوں میں کوتاہی ہوتی ہے اور کبھی نچلی سطح پر بینک کے افراد بھی ملوث ہو سکتے ہیں، اس کی تحقیقات ہوتی رہتی ہیں۔

’ایسے اکائونٹ کا روپیا پھر جاتا کہاں ہے؟‘ ہم نے بے ساختہ ذہن میں اٹھنے والا سوال ان کے روبرو کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس طرح کے معاملات کی ساری تفصیلات اسٹیٹ بینک اور متعلقہ بینک کے درمیان ایک راز ہوتی ہیں اور پھر اس روپیے کا عدالت طے کرتی ہے۔ ہم نے کہا کہ اگر کوئی اس روپیے پر دعویٰ ہی نہ کرے تو؟

جس پر وہ کہتی ہیں کہ نہیں اس رقم کے دعوے دار تو سامنے آتے ہیں۔

’’وہ رقم ’بہ حقِ سرکار‘ حکومت یا اسٹیٹ بینک کو نہیں ملتی؟‘‘ ہمیں خیال آیا۔

’’ایسا نہیں ہوتا، یہ پیسے حکومت اور بینک کی طرف بھی جا سکتے ہیں، لیکن یہ معاملات عدالتوں میں طے ہوتے ہیں، اور پھر اس کا تعین ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایک پورا قانونی طریقہ کار ہوتا ہے۔‘‘ انھوں نے جواب دیا۔

’’دبئی ایک غیرحقیقی سی جگہ لگی!‘‘
2001ء میں سیما کامل ’حبیب بینک لیمیٹڈ‘ کا حصہ بن گئیں، وہ کہتی ہیں کہ میری اصلی ’بینکنگ‘ یہیں ہوئی۔ اس سے پہلے بین الاقوامی بینکوں میں بینکوں کے ضابطے، اصول اور طریقہ کار ضرور سیکھ لیے، لیکن پاکستان اور پاکستانی بینک کاری کو سمجھنے میں ’حبیب بینک‘ میں جتنا موقع ملا اور کہیں نہیں ملا۔ جہاں وہ ’ریجنل کارپوریٹ بینکنگ‘ یونٹ سے منسلک ہوئیں، 2004ء میں ’کارپوریٹ اینڈ انویسٹمنٹ بینکنگ ڈویژن‘ کی سربراہ ہوگئیں، 2011ء میں برانچ بینکنگ نیٹ ورک کی سربراہ بن گئیں۔

سیما کامل نے بتایا کہ وہ اپنی بینکنگ کی ذمے داریوں کے سلسلے میں مختصر عرصے کے لیے دبئی میں بھی رہیں، دبئی اکثر لوگوں کو بہت پسند ہے، مگر مجھے دبئی ایک غیر حقیقی سی جگہ لگی، وہاں مادّیت زیادہ دکھائی دی۔‘‘

بینک اور براہ راست مالیات اور روپے پیسے سے منسلک ہونے کے باوجود ان کے یہ الفاظ خبر دیتے تھے کہ وہ زندگی اور معاملات کو دراصل سماجی نقطہ نظر سے دیکھنے کا ہنر بھی خوب رکھتی ہیں۔

’کیا یہ مادّیت اور کہیں نہیں۔۔۔؟‘ ہم نے اس حوالے سے ایک منطقی استفسار کیا، جس پر انھوں نے کہا آسٹریلیا میں ایسا نہیں ہے، وہاں ایک سابق وزیراعظم عوام کے ساتھ سفر کرتے اور قطار لگائے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں، جب کہ ’یو کے‘ میں طبقاتی فرق ہے، آسٹریلیا میں البتہ تھوڑی سی نسل پرستی ضرور دکھائی دے جاتی ہے۔

جب ہم نے سیما کامل سے بینکاری کی طرف رغبت کے حوالے سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ دراصل لوگوں کی بھلائی کے کاموں سے منسلک ہونا چاہتی تھیں، پہلے وہ سرکاری عہدے کی خواہاں تھیں، لیکن سرکاری دفاتر میں رویے دیکھے، تو یہ خیال جھٹک دیا، یوں پھر وہ ’بینکاری‘ کی سمت راغب ہوئیں، شاید اس کا سبب دیگر دفاتر کی نسبت یہاں کا اچھا ماحول بھی تھا۔

وہ سمجھے کہ سیما کامل صرف انگریزی جانتی ہیں!
ہم نے سیما کامل کے انٹرویو کی تیاری کے دوران یہ جانا کہ ان کی پیشہ وارانہ زندگی میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا تھا، جب نجی بینک انھیں مزید ذمہ داریاں سونپنا چاہتا تھا، لیکن ان کے تعلیمی پس منظر سے وہاں ان کے باس کو ایسا لگتا تھا کہ شاید وہ صرف انگریزی سے واقف اور اردو اور پنجابی سے نابلد ہوں گی، چناں چہ ان کو باقاعدہ جانچا گیا۔ اس حوالے سے سیما کامل نے بتایا کہ ’دراصل وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ میں مختلف جگہوں پر مختلف پس منظر کے لوگوں سے بات کیسے کر پاتی ہوں، وہ مجھے ایک برانچ میں لے کر گئے کہ یہاں ساری بات آپ خود کیجیے، کیوں کہ انھیں لگتا تھا کہ مجھے صرف انگریزی ہی آتی ہوگی۔‘ لیکن انھوں نے کام یابی سے بغیر کسی رکاوٹ کے ساری گفتگو کرلی۔

بینکاری کے شعبے میں اپنے تجربات اور مشاہدات ساجھے کرتے ہوئے سیما کامل کہتی ہیں کہ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ اگر خواتین چاہیں اور وہ لوگوں سے عزت سے پیش آئیں، چاہے مخاطب پھر کسی بھی عمر اور پس منظر سے تعلق رکھتے ہوں، تو اس کا اثر ضرور ہوتا ہے کہ وہ بھی پھر اپنی مخاطب خاتون سے لامحالہ بہت عزت سے پیش آتے ہیں، چاہے وہ کوئی بہت نچلے طبقے کا کسان وغیرہ ہی کیوں نہ ہو۔

سیما کامل کہتی ہیں کہ حبیب بینک میں کام کا دوران یہ پرلطف تجربہ ہوا کہ پورا پاکستان دیکھ لیا، سیال کوٹ میں ہندوستانی سرحد کے نزدیک سے لے مردان، کشمیر اور سندھ تک۔ اسی دوران وہ کوئٹہ بھی گئیں، اُس زمانے میں وہاں حالات بہت خراب تھے۔ کہتی ہیں کہ ’وہاں گھوم کر مجھے پاکستان کی سمجھ میں آئی کہ وہ دل سے چاہتے ہیں کہ سکون سے کام کریں اور آگے بڑھیں، ہماری تہذیب کی عزت ہو اس سے آگے ان کے ذہن کھلے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ شاید زیادہ دوریاں ہیں، جو سیاست کی وجہ سے ہو جاتی ہیں، وہ لوگ ہر ایک کو قبول کرتے ہیں، بس وہ عزت چاہتے ہیں، اگر ہم خیال رکھیں، تو یہ اچھی بات ہوگی۔

twitter: @RizwanTahirMbin

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔