کراچی میں 13 سالہ لڑکی زیادتی کے بعد قتل، پھندا لگی لاش گھر سے برآمد

منور خان  بدھ 21 ستمبر 2022
فوٹو:فائل

فوٹو:فائل

 کراچی: شہر قائد کے علاقے کورنگی میں نامعلوم افراد نے نوعمر لڑکی کو زیادتی کے بعد قتل کیا اور لاش کو گلے میں پھندا لگا کر لٹکا دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کورنگی سوکواٹرز پاسبان چوک کے قریب گھر سے پراسرار طور پر نوعمر لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی، ابتدائی تحقیقات میں لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا گیا متوفیہ 13 سالہ (م) کی لاش ایدھی کے ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال پہنچائی گئی۔

اس حوالے سے ایس ایچ او زمان ٹاؤن رضوان پٹیل نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جس وقت واقعہ پیش آیا ہے متوفیہ گھر میں اکیلی تھی اور اس کی بڑی بہن چھوٹے بھائی کو ٹیوشن چھوڑنے گئی تھی اور جب واپس آئی تو دروازہ اندر سے بند تھا اور اس نے کافی دیر تک کھٹکھٹایا مگر نہ کھلا جس پر وہ سمجھی کہ شاید بہن اندر سوگئی ہے تو ہو وہ پڑوس کے گھر جا کر بیٹھ گئی۔

رضوان پٹیل کے مطابق اور کچھ دیر کے بعد ان کا والد آیا تو اس نے بھی گیٹ کھٹکھٹایا اور نہ کھلنے پر وہ پڑوس کے گھر سے اندر کودا اور پہلی منزل پر بنے ہوئے کمرے میں گیا تو لوہے گاڈر سے بیٹی کی دوپٹے سے پھندا میں لٹکتی ہوئی لاش دکھائی دی جسے اس نے فوری طور پر اتارا۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ پہلی منزل پر 2 کمرے سیمنٹ کی چادر کے بنے ہوئے ہیں جبکہ گراؤںڈ فلور پر کوئی رہائش نہیں ہے ، اس حوالے سے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی معائنے میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کے شواہد ملے ہیں جبکہ وجہ موت دم گھٹنے کے باعث ہوئی ہے تاہم پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے کے لیے نمونے حاصل کرلیے ہیں جس کی رپورٹ آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہوجائیگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے زمان ٹاؤن پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے ۔

مقدمہ درج 

زمان ٹاؤن پولیس نے بچی کے قتل کا مقدمہ مقتولہ کے والد ابو طاہر ولد جمال الدین کی مدعیت میں درج کر لیا ، مقدمے کی تفتیش انچارج اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل 2020 کریں گے۔

مقتول لڑکی سپرد خاک 

کورنگی سو کوارٹرز میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی نوعمر لڑکی کو سپرد خاک کردیا گیا۔ فوری طور پر تفتیش میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی۔ متاثرہ خاندان کئی برسوں سے اسی علاقے میں مقیم ہے ، اہل خانہ نے کسی پر شک شبہ ظاہر نہیں کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔