ہم بوڑھے کیوں ہوتے ہیں؟

 جمعرات 22 ستمبر 2022
ہمارے بڑھاپے کا ارتقا سے بھی کوئی تعلق ہے؟

ہمارے بڑھاپے کا ارتقا سے بھی کوئی تعلق ہے؟

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم بوڑھے کیوں ہوتے جاتے ہیں اور بڑھاپے کا ارتقا کے عمل سے کیا تعلق ہے؟ یہ سوال انسانی دماغ کے لیے ہزاروں برس سے معمہ بنا ہوا ہے۔

اس کا کوئی واضح جواب آج تک نہیں مل سکا۔ ہزاروں سال کے اس غور و فکر کے باوجود اس سوال کو کوئی واضح جواب نہ ملنا اپنی جگہ افسوس ناک تو ہے، تاہم انسانی ذہن اس حوالے سے اب تک کافی کچھ جان بھی چکا ہے:

جسمانی نظام کا ٹوٹتے جانا

جیسے جیسے ہم بوڑھے ہوتے جاتے ہیں، ہمارے جسم کے بہت سے نظاموں کی کارکردگی کم یا خراب ہوتی جاتی ہے۔ ہماری بینائی کمزور ہوتی جاتی ہے، جوڑ اپنی مضبوطی کھونے لگتے ہیں اور جلد پتلی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ہم جتنے بوڑھے ہوتے جاتے ہیں، اتنے ہی ہمارے بیمار پڑ جانے، ہڈیوں کے ٹوٹ جانے اور بالآخر مر جانے کا امکانات زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔

ہماری افزائش نسل کی اہلیت بھی، جس کا مطلب کسی انسان کا اپنی زندگی میں بچے پیدا کرنے کے قابل ہونا ہوتا ہے، عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ جرمنی کی فرائی بْرگ یونیورسٹی کے ارتقائی حیاتیات کے پروفیسر ٹوماس فلاٹ کہتے ہیں: ’’ یہ وہی تبدیلیاں اور بتدریج شکست و ریخت کا عمل ہیں، جن کا زیادہ تر جانداروں کو اپنی زندگی میں سامنا رہتا ہے۔‘‘

ٹوماس فلاٹ کے مطابق: ’’ فطرت کے طریقہ انتخاب کے تحت ارتقا کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ ہم ایسے کتنے بچے پیدا کر سکتے ہیں، جو بعد میں اپنے طور پر بھی زندہ رہ سکیں۔ ہم جتنے زیادہ صحت مند بچے پیدا کریں گے، اس عمل کے لیے ان میں اتنے ہی زیادہ جینز بھی منتقل ہوں گے۔ یوں کوئی بھی جاندار اپنی افزائش نسل کو زیادہ سے زیادہ حد تک بڑھا سکتا ہے۔‘‘

سائنسی طور پر زیادہ بہتر جینز ان جینز کو کہتے ہیں، جو کسی جاندار کی تولیدی کامیابی کو بڑھا سکیں۔ کئی نسلوں کا عرصہ گزر جانے کے بعد یہی جینز کسی بھی آبادی میں بہت عام ہو جاتے ہیں، چاہے وہ آبادی انسانوں کی ہو یا دوسرے جانداروں کی۔

بڑھاپے کے ساتھ ساتھ قدرتی طریقہ انتخاب کا کمزور پڑتے جانا

حیاتیاتی ارتقا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ارتقا کے عمل کو سمجھنے کے لیے لازمی ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ ایک بار جب کوئی جاندار اپنی نسل کی افزائش کے عمل سے کامیابی سے گزرتا ہے، تو اس کے بعد اس کا اپنے بچوں میں کسی بھی طرح کے جینز کی منتقلی کا عمل متاثر نہیں ہوتا۔ یہ منتقلی تولیدی عمل کی تکمیل کے ساتھ ہی مکمل ہو جاتی ہے۔

بڑھاپے میں کسی انسان یا جاندار کی حالت بہت اچھی ہے یا خراب ، یہ بات اس جان دار کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے اہم نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ وہ اپنی افزائش نسل کی اہلیت کھو چکا ہوتا ہے۔ ماضی میں انسانوں کو اور آج بھی قدرتی یا جنگلی ماحول میں زندہ رہنے والے بہت سے جانداروں کو ایک ہی طرح کے حالات کا سامنا رہا۔ وہ اکثر بہت بوڑھے اس لیے نہیں ہوتے تھے کہ ان کا پْرخطر ماحول ہی بڑھاپے سے پہلے ان کی موت کی وجہ بن جاتا تھا۔

اس حقیقت کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ زندہ رہنے کا سب سے زیادہ امکان مضبوط ترین اور طاقت ور ترین ہی کے لیے ہوتا ہے اور بوڑھے انسانوں اور جانداروں کو زندہ رکھنے کے لیے قدرت کا طریقہ انتخاب بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔

پروفیسر فلاٹ کے الفاظ میں:’’ اگر یہی حقیقت کھل کر بیان کی جائے تو وہ جاندار جو بہت بوڑھے ہو جاتے ہیں، ارتقائی نقطہ نظر سے بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔‘‘

جینیاتی تبدیلیاں یا میوٹیشنز

ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ آپ کو موروثی طور پر محض اتفاقاً کوئی ایسی جینیاتی تبدیلی بھی وراثت میں مل گئی، جو آپ کے بوڑھا ہونے پر منفی انداز میں اثر انداز ہو سکتی ہو۔ ایسی صورت میں یہ بھی ممکن ہے کہ یہ میوٹیشن آپ کو تو متاثر نہ کرے لیکن وہ آپ کے جینومز میں موجود رہے گی اور آپ کی آئندہ نسلوں میں بھی منتقل ہو سکے گی۔

یہ عمل نسل در نسل اور ہمیشہ جاری رہتا ہے اور کئی ایسی جینیاتی تبدیلیاں ہمارے جینز میں جمع ہوتی رہتی ہیں، جو بڑھاپے کو ہمارے لیے بہت تکلیف دہ بھی بنا سکتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال ہنٹنگٹن نامی وہ بیماری ہے، جو طویل عرصے تک منفی جینیاتی تبدیلیاں جمع ہوتے رہنے کے نتیجے میں لاحق ہوتی ہے۔ اس مہلک بیماری کا آغاز اکثر صرف 35 برس کی عمر کے قریب ہو جاتا ہے۔

تو پھر جدید دور کی طبی نگہداشت، بہتر خوراک، حفظان صحت کی بہتر سہولیات اور زیادہ سازگار حالات زندگی کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ یہی کہ ہم اوسطاً زیادہ طویل عرصے تک زندہ رہتے ہیں لیکن ہمیں بڑھاپے میں انہی جین میوٹیشنز کے منفی اثرات کا سامنا پھر بھی کرنا پڑتا ہے۔

کچھ جاندار دوسروں سے زیادہ طویل زندگی کیوں پاتے ہیں؟

اگر قدرت کے پورے نظام حیات کو دیکھا جائے، تو بوڑھا ہونا ایک بہت ہی پیچیدہ اور کافی منفرد عمل بھی ہے۔ کچھ جاندار بالکل بوڑھے ہوتے محسوس نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ہائیڈرا کہلانے والے جاندار، جن کا تعلق نسلی طور پر جیلی فش اور کورلز یا مونگے کی چٹانوں سے ہوتا ہے، بظاہر کبھی بوڑھے ہوتے ہی نہیں اور ایسے لگتے ہیں جیسے لافانی ہوں۔

درختوں کی بھی ایسی بہت سی اقسام ہیں، جو بظاہر بوڑھی نہیں ہوتیں اور کچھ تو ہزاروں سال تک زندہ رہتی ہیں۔ خاص طور پر Methuselah نامی درخت تو تقریباً پانچ ہزار سال تک زندہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس گرین لینڈ شارک اگر 150 برس کی عمر میں اپنی جنسی بلوغت کو پہنچتی ہے، تو وہ اوسطاً 400 سال تک زندہ بھی رہتی ہے۔ دوسری طرف بہت سے جاندار بڑے نازک اور مختصر عرصہ حیات کے مالک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر انسانوں کو دوران نیند کاٹنے والا ایک عام مادہ مچھر عموماً صرف 50 دن زندہ رہتا ہے۔

اس سوال کا ابھی تک کوئی حتمی جواب نہیں مل سکا کہ جانداروں کے مجموعی اوسط عرصہ حیات میں اتنا زیادہ فرق کیوں پایا جاتا ہے۔ لیکن ایک بات مسلمہ ہے کہ مختلف جانداروں کی جسمانی بلوغت، افزائش نسل کے عمل اور عرصہ حیات پر ان کا ماحول کبھی اگر منفی طور پر اثر انداز ہوتا ہے تو کبھی مثبت طور پر۔ یہی عوامل ان کے جلد یا دیر سے بوڑھا ہونے کی وجہ بھی بنتے ہیں۔

بوڑھا ہونے کے عمل سے متعلق حیاتیاتی علوم کے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کے پوسٹ ڈاکٹورل ریسرچر سیباستیان گروئنکے کہتے ہیں: ’’ ایسے جان دار جن کے عام حالات میں جلد مر جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، ان کا اوسطا عرصہ حیات بھی مختصر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی زندگی میں زیادہ عرصے تک زندہ رہنے کے بجائے توجہ کا مرکز افزائش نسل کا عمل ہوتا ہے۔‘‘ ایسے جانداروں کی نسلی بقا کے لیے یہ عمل بھی فطرت ہی کا طے کردہ ہوتا ہے۔

ایستیبان پاردو

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔