مصرمیں سیکیورٹی فورسز اور جنگوؤں کی جھڑپ، بریگیڈیئر جنرل اور کرنل جاں بحق

اے ایف پی  جمعرات 20 مارچ 2014
قاہرہ میں بنی سیاف یونیورسٹی کے باہر اخوان کے طلبا نے پولیس پر پتھراؤ کیا،پٹرول بم برسائے، آنسو گیس کا استعمال،درجنوں زخمی۔ فوٹو:رائٹرز/فائل

قاہرہ میں بنی سیاف یونیورسٹی کے باہر اخوان کے طلبا نے پولیس پر پتھراؤ کیا،پٹرول بم برسائے، آنسو گیس کا استعمال،درجنوں زخمی۔ فوٹو:رائٹرز/فائل

قاہرہ: مصر میں سیکیورٹی فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں بریگیڈیئرجنرل اور ایک کرنل جاں بحق ہوگئے جبکہ اس جھڑپ میں5 جنگجو بھی مارے گئے۔

مصری وزارت داخلہ کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ کے شمال میں واقع قلوبیا صوبے میں فورسز نے جنگجوئوں کے ٹھکانوں پر چھاپہ مار، فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ایک بریگیڈیئر جنرل اور ایک کرنل مارے گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے القاعدہ کی تنظیم انصاربیت المقدس گروپ کے5 جنگجوئوں کو بھی ہلاک کر دیا۔ القاعدہ کی تنظیم انصاربیت المقدس گروپ نے اس سے پہلے بھی بعض سیکیوٹی فورسزپرحملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

وزارت کے مطابق قاہرہ سے30 کلو میٹردورنیل ڈیلٹا کے علاقے القنطر الخیریہ میں جھڑپ کے دوران جاں بحق ہونے والے افسر بم ڈسپوزل کے ماہرتھے جبکہ جنگجوئوںکے ٹھکانے سے بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ ادھر قاہرہ شہر میں بنی سیاف یونیورسٹی کے باہر اخوان المسلمون کے طلبا اور پولیس اہلکاروں کے مابین ہونیوالی ایک جھڑپ میں اخوان المسلمون کے رہنما کا ایک 15سالہ بیٹاجاں بحق ہو گیا، 2 ہزار کے قریب مظاہرین نے پتھرائوکیا،آگ کے گولے پھینکے جس پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے جس دوران لڑکا مارا گیا جبکہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔