شکستوں پر تنقید، کرکٹرز کے لہجے میں تلخی بھر گئی

اسپورٹس ڈیسک  جمعرات 22 ستمبر 2022
اللہ ٹیم کیلیے بْری نیت سے بات کرنے والوں کوذلیل کرے گا،وکٹ کیپر (فوٹو: ٹوئٹر)

اللہ ٹیم کیلیے بْری نیت سے بات کرنے والوں کوذلیل کرے گا،وکٹ کیپر (فوٹو: ٹوئٹر)

کراچی: شکستوں پر تنقید نے کرکٹرز کے لہجے میں تلخی بھر دی جب کہ کپتان بابر اعظم کے بعد محمد رضوان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگا۔

پاکستان کرکٹ، قومی ٹیم کی کارکردگی اور سلیکشن پرسوالات پر چیئرمین پی سی بی رمیزراجہ جوابات دینے کے بجائے سوالات کرتے رہتے ہیں، انھوں نے صحافیوں سے تلخ رویہ بھی اختیار کیا، اب کرکٹرز بھی جارحانہ انداز اختیار کرنے لگے ہیں۔

انگلینڈ سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کے آغاز پر میڈیا کانفرنس میں عاقب جاوید کی اوپننگ جوڑی پر تنقید کا سوال ہوا تو کپتان بابر اعظم نے کہا کہ انھیں خیال کرنا چاہیے، وہ خود بھی کبھی کرکٹر رہے ہیں، نہ ہم ان کی باتیں سنتے ہیں اور نہ ہی باہر کی باتیں اندر لے کرآتے ہیں،ہمیں فرق نہیں پڑتا کہ کون کیا کررہا ہے؟ بات ضرور کریں مگر کسی کی ذات پر حملہ نہیں ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: بات کریں ذات پر حملہ نہ کریں، عاقب جاوید کی تنقید پر کپتان کا کرارا جواب

منگل کے روز انگلینڈ سے پہلے ٹی20 میں شکست کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد رضوان بھی تلخی نہ چھپا سکے،انھوں نے بددعا دینے کے انداز میں کہا کہ جو لوگ بْری نیت سے ٹیم کیلیے بات کر رہے ہیں اللہ انھیں بھی ذلیل کرے گا، اگر کھلاڑی میدان میں اپنا 100 فیصد نہیں دیتا اللہ اس کو بھی ذلیل کرے گا، جس مشکل میں ہم کھیل رہے ہیں سامنے والی اننگز کو بھی دیکھیں، مجھے یہ نہیں پتہ لوگ ہمارے لیے کیا بات کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: جو بری نیت سے ٹیم کیلئے بات کررہے ہیں اللہ انہیں ذلیل کریگا، رضوان

انکا مزید کہنا تھا کہ میرے اور کپتان کے اسٹرائیک ریٹ پر جو لوگ بات کررہے رہیں اللہ انھیں جزائے خیر دے، میں فٹ ہوں، 2،3 دوڑیں تو اب بھی لگا لوں گا، اگر آف اسٹمپ کی گیند کو لیگ اسٹمپ پر ہٹ کر سکتا ہوں تو مجھے آف اسٹمپ پر بھی کھیلنے میں کوئی مسئلہ نہیں، جو لوگ میرے آف اسٹمپ کی بات کر رہے ہیں اللہ انھیں جزائے خیر دے۔

رضوان کا کہنا تھا کہ سب کو پتہ ہے کہ ہم تھوڑی سی تبدیلیاں کر رہے ہیں، ایسے میں غلطی تو ہوگی، ہم ڈاٹ بالز زیادہ کھیل رہے ہیں اس مسئلے پر کام کیا جارہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔