یادوں کے دیے

رفیع الزمان زبیری  جمعـء 23 ستمبر 2022

محمد حمزہ فاروقی کے خاکے جو ان کی کتاب ’’ یادوں کے دیے‘‘ میں شامل ہیں ’’ذکر اس پری وش کا اور بیاں اپنا‘‘ کی صفت رکھتے ہیں۔

حمزہ لکھتے ہیں کہ یہ خاکے ان بزرگوں اور عزیزوں کے ہیں جن سے وہ زندگی کے مختلف ادوار میں مستفید ہوئے تھے۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا ذکرکرتے ہیں وہ لکھتے ہیں۔ ’’ میں نے ایک دفعہ مولانا سے عرض کیا کہ مولانا آپ کے ہاں ہمہ گیری Versatility پائی جاتی ہے۔

مولانا میری ’’حقیقت شناسی‘‘ اور ’’سعادت مندی‘‘ سے بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے ’’ہاں بھئی میرا شروع سے یہی انداز رہا ہے ، مجھے فلسفے کے علاوہ تاریخ، سیاست، اردو اور فارسی ادبیات سے دلچسپی رہی ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا کہ اسی ہمہ گیری کا یہ کرشمہ ہے کہ آپ کلام اقبال کی شرح کے دوران مسلم ممالک میں مغرب زدگی اور تجدد کا قصہ لے بیٹھتے ہیں اور ترک خواتین شرح کے دوران عالمی مقابلۂ حسن میں شرکت کرلیتی ہیں۔ یہ سنتے ہی مولانا نے تیزی سے آنکھیں جھپکائیں اور موضوعِ گفتگو بدل دیا۔ درحقیقت مولانا کی تصانیف میں مختلف علوم سے واقفیت تو بھرپور تھی لیکن آپ کا انداز تحریر جدید اور سائنٹیفک نہیں تھا۔‘‘

حمزہ فاروقی کو مولانا غلام رسول مہر سے بڑی عقیدت تھی۔ لکھتے ہیں ’’میں نے مولانا سے گزارش کی تھی کہ آپ اپنی سوانح عمری لکھ دیں تو تحریکِ آزادی کی بہت سی گرہیں کھل جائیں گی۔ مولانا نہ صرف تاریخ داں تھے بلکہ تاریخ ساز بھی تھے۔

ایک دن اسی پر گفتگو ہو رہی تھی تو انھوں نے کہا ’’ پاکستان جن دشواریوں سے حاصل ہوا تھا ہم نے اس کی قدر نہیں کی۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد ہر مقتدر شخص نفسا نفسی کا شکار ہوا۔ ذاتی منفعت اور خودغرضی ملک کے مفاد پر غالب آگئی۔ ہمارا فرض تھا کہ ہم آزادی کی نعمت کی قدرکرتے اور اس ملک کو پروان چڑھاتے۔‘‘

حمزہ فاروقی لکھتے ہیں ’’مولانا نے بتایا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان جب صدر تھے تو ان کے ایما پر قدرت اللہ شہاب میرے پاس آئے۔ مجھ سے کہنے لگے اگر آپ پسند فرمائیں تو آپ کے لیے تمغہ حسن کارکردگی اور دس ہزار روپے انعام کا اہتمام کیا جائے۔ میں نے جواب دیا کہ میں فقیر آدمی ہوں، گوشہ نشین ہوں۔ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں ان باتوں سے بے نیاز ہوں۔‘‘

ڈاکٹر شوکت سبزواری کا ذکر کرتے ہوئے حمزہ فاروقی لکھتے ہیں۔ ’’ انھوں نے مختلف علوم و فنون کی تحصیل میں بہت محنت کی تھی ، لیکن وہ دیگر افراد کی قابلیت جانچنے کا کڑا معیار رکھتے تھے۔ حقیقی عالموں کی قدر کرتے تھے لیکن منافعت یا کم علمی کی برداشت نہ تھی۔ ڈاکٹر صاحب بہت صاف گو، دلچسپ گفتگو کرنے والے اور علم دوست انسان تھے۔ وہ نہ صرف اپنی رائے کے اظہار میں بے باک تھے بلکہ ان کے مزاج میں شدت پسندی بھی تھی۔‘‘

حمزہ فاروقی لکھتے ہیں ’’ ڈاکٹر صاحب مختلف اداروں کے قائم کردہ ادبی انعاموں کے منصف بھی رہے۔ ایک دفعہ انھوں نے کسی خاتون کے ناول کو ادبی انعام کا مستحق گردانا۔ اخبار میں اعلان ہونے کے بعد میں ان سے ملا اور عرض کیا کہ فنی اعتبار سے تو یہ ناول انعام کا حق دار نہ تھا۔ فرمایا، بھئی! مجھے پسند ہے۔ میں نے پوچھا، ناول یا اس کی مصنفہ؟ کہنے لگے، پہلے مصنفہ پر دل آیا، پھر ناول انعام کا سزاوار ٹھہرا۔‘‘

ڈاکٹر امیر حسن صدیقی سے حمزہ فاروقی کی پہلی ملاقات جمعیت الفلاح کے دفتر میں ہوئی اور پھر ان سے ایک قریبی تعلق قائم ہو گیا۔ حمزہ کہتے ہیں: ’’ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں ایک خاص جاذبیت تھی اور یہ کشش ان کے خلوص اور سادگی کی بنا پر تھی۔

طلبا بے تکلف ان کی خدمت میں حاضر ہوتے، اپنے مسائل بیان کرتے اور مشوروں سے فیض پاتے۔ آپ کے ہاں نہ تو علم کا رعب تھا اور نہ اثر و اقتدار کا دبدبہ بلکہ شفقت سے طلبا کی رہنمائی کی جاتی۔ گفتگو بھی عوامی انداز کی تھی۔ اس میں یوپی کا مقامی رنگ اور گالیاں ہوتیں۔

یہ بے ضرر گالیاں ان کی پرلطف باتوں میں کوئی ناگوار تاثر نہ چھوڑتیں۔ باتوں کے دوران وہ لاشعوری طور پر ایک آنکھ جھپکا لیتے جس سے یوں لگتا جیسے آنکھ مار رہے ہوں۔ میں ان سے گفتگو کے دوران آنکھ بچا کر ان کی تقلید کرتا تھا ۔ وہ میری شرارت کو تو بھانپ لیتے لیکن ازراہ مروت کچھ نہ کہتے۔‘‘

شاہ حسن عطا سے حمزہ فاروقی کا شب و روز کا ساتھ تھا۔ شاہ صاحب عمر میں ان سے خاصے بڑے تھے لیکن ان کی باتوں میں ہر عمر کے لوگوں کے لیے جاذبیت تھی۔جس زمانے میں حمزہ فاروقی سے شاہ حسن عطا کی ملاقات ہوئی، اس زمانے میں شاہ صاحب ریڈیو پاکستان کی بیرونی نشریات کے شعبہ فارسی سے وابستہ تھے اور اس ملازمت سے قبل پندرہ سولہ نوکریاں بھگتا چکے تھے۔ حمزہ لکھتے ہیں ’’میں نے شاہ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے اتنی ملازمتیں کیسے کیں۔ کہنے لگے بھئی! آج کل ڈھنگ کے ادارے اور مالک کہاں ملتے ہیں جو ہم جیسے لوگوں کی قدر کرسکیں۔ ان نالائقوں کی وجہ سے بار بار ملازمت بدلنی پڑی۔‘‘

حمزہ فاروقی لکھتے ہیں ’’شاہ صاحب دنیا داری، منافقت اور دوسروں کے خلاف سازشوں سے کوسوں دور تھے ، اگر کسی سے دوستی تھی تو بربنائے خلوص۔ اور اگر دشمنی یا مخالفت تھی تو اس میں شدت کے باوجود پائیداری نہ تھی۔ آپ نے اپنے خیالات سے ایک مینار عاج Ivory Tower تعمیر کیا تھا اور اس کی چار دیواری میں خود کو مامون و محفوظ تصور کرتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ ریڈیو میں آپ زیادہ ترقی نہ کرسکے۔ مخالفین سامنے تو کچھ کہہ نہ پاتے لیکن اندر ہی اندر جڑیں کاٹنے میں لگے رہتے۔‘‘

حمزہ لکھتے ہیں کہ شاہ حسن عطا نے عشق دو مرتبہ کیا۔ خود پر فریفتہ ہونے کے بعد ان کا دوسرا بھرپور عشق علی گڑھ یونیورسٹی سے تھا۔ یہاں انھوں نے بی۔اے اور پھر نفسیات میں ایم اے کیا۔ اگر شاہ صاحب نامساعد حالات سے نباہ کرنا اور مخالفین سے الجھنا چھوڑ دیتے تو کہیں زیادہ کامیاب رہتے۔ ان کی نازک مزاجی کے باوجود لوگ ان کی قدر کرتے تھے۔ وہ علم، دیانت داری اور خلوص کی جنسِ نایاب کے ’’سرمایہ دار‘‘ تھے۔

عاشق حسین بٹالوی سے حمزہ فاروقی کی پہلی ملاقات لندن میں ہوئی۔ ملاقات سے قبل وہ ان کے نام سے آشنا ان کی تصانیف کی مدد سے اور صورت آشنا ٹیلی وژن کی بدولت ہو چکے تھے۔ بعد میں پھر ان کی بٹالوی صاحب سے اکثر ملاقات رہتی تھی۔

حمزہ لکھتے ہیں ’’ بٹالوی صاحب کی دلچسپی کا محور آزادی سے قبل کی سیاست تھی اور پنجاب سے تو ان کا خاص تعلق تھا۔ ان کی یاد داشت غضب کی تھی۔ سرسید، حالی اور شبلی کے حالات بھی اس اعتماد سے بیان کرتے تھے کہ گویا بچپن میں ان کے ساتھ لوڈو یا کیرم کھیلتے رہے تھے۔

اس دور کے یا تقسیم سے قبل کے حالات بیان کرنے پر آتے تو اس قدر محو ہو جاتے کہ صبح دوپہر میں اور دوپہر شام میں بدل جاتی لیکن ان کی باتوں کا ذخیرہ ختم ہونے میں نہ آتا۔ درحقیقت وہ دور ماضی میں زندہ تھے۔ جب بزرگ معاصرین کے ساتھ مل کر انھوں نے علمی و ادبی تحریکوں میں حصہ لیا تھا یا سیاسی دشت کی رہ پیمائی کی تھی۔ بات چیت کے وقت چہرے پر ڈرامائی تاثرات رہتے تھے، موقع کی مناسبت سے خوشی یا غم کی کیفیات ظاہر ہوتیں۔ موضوع بدلتا تو یہ تاثرات بھی یوں تبدیل ہوتے جیسے آسمان پر گھن گھور گھٹائیں چھا جائیں اور یک لخت بادل بن برسے چھٹ جائیں۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔