پاک انگلینڈ ٹی 20سیریز؛ ’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ کی بازگشت

سلیم خالق  ہفتہ 24 ستمبر 2022
تعلق بھارت سے ظاہر کیا جانے لگا،چیئرمین نے حال ہی میں پابندی لگائی تھی۔ فوٹو؛ پی سی بی

تعلق بھارت سے ظاہر کیا جانے لگا،چیئرمین نے حال ہی میں پابندی لگائی تھی۔ فوٹو؛ پی سی بی

پاک انگلینڈ سیریز میں ’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ کی بازگشت ہونے لگی جب کہ اسپانسر کا لوگو ہوبہو جوئے کی کمپنی جیسا ہے۔

پاک انگلینڈ سیریز کی اسپانسر کمپنیز میں ایک نام ’’ڈافا نیوز‘‘ کا بھی ہے،اگر اس کے سوشل میڈیا پروفائل کو دیکھیں تو بظاہر تعلق بھارت سے لگتا ہے، بعض حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مذکورہ ویب سائٹ بیٹنگ کمپنی ’’ڈافا بیٹ’’کی ہے، جہاں کسی ملک کے قوانین اجازت نہ دیں وہاں نام میں بیٹ کو نیوز سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

اس سے پہلے بھی پاکستان کی ہوم سیریز اور پی ایس ایل کے دوران مختلف بیٹنگ کمپنیز نام میں معمولی تبدیلی کرکے اسپانسر شپ کر چکی ہیں۔

ایک موقع پر تو نیوز ویب سائٹ پر موجود جوئے کی سائٹ کے لنک پر لائیو اسٹریمنگ کرتے ہوئے شرطیں وصول کی جا رہی تھیں،البتہ میڈیا کی نشاندہی پر پی سی بی نے اس کا سخت نوٹس لیا تھا، اس طریقہ کار کو ’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ ‘‘ کہا جاتا ہے، جس وقت پاکستان کرکٹ کے مختلف حقوق فروخت کرنے کیلیے اشتہار جاری کیا گیا تب یہ بات واضح تھی کہ بیٹنگ ویب سائٹس کو تشہیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

چند روز قبل پی ایس ایل کی جنرل کونسل میٹنگ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ رمیز راجہ نے فرنچائزز کو ’’سروگیٹ کمپنیز‘‘ سے دور رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے بڑے غیرملکی برانڈز کو پاکستان لانے کا مشورہ دیا تھا۔

ایک ٹیم آفیشل کی اس حوالے سے ان کے ساتھ خاصی بحث بھی ہوئی مگر رمیز نے واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی صورت ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، البتہ اب ہوم سیریز میں یہ ہونا حیران کن ہے۔

گزشتہ دنوں زمبابوے اور بنگلہ دیش کی سیریز میں ’’ڈافا بیٹ’’کا بڑا اشتہار گرائونڈ میں موجود تھا، ہو بہو ویسا ہی اشتہار اب پاک انگلینڈ سیریز میں نظر آ رہا ہے، اس میں واحد تبدیلی بیٹ کی جگہ نیوز لکھنا ہے، کئی دیگر ممالک جوئے کی کمپنیز کو تشہیر کی اجازت دیتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے، حال ہی میں بھارت میں بھی ’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

موقف کیلیے رمیز کو تصاویر اور سوال ارسال،جواب موصول نہیں ہوا

’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ کے حوالے سے موقف جاننے کے لیے رمیز راجہ کو تصاویر اور سوال ارسال کیے گئے مگر 24 گھنٹے سے زائد وقت گذرنے کے باوجود ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ نہیں ہو رہی، ڈافا نیوز نیوز ویب سائٹ ہے،بورڈ

پی سی بی کے ترجمان نے کہا کہ ’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ جیسا کوئی کام نہیں ہو رہا، ڈافا نیوز ایک نیوز ویب سائٹ ہے اور اس کا کسی بیٹنگ ویب سائٹ سے تعلق نہیں، انھوں نے کہا کہ پی سی بی کی اس حوالے سے زیروٹولیرنس پالیسی ہے، بیٹنگ یا اس قسم کی کسی سرگرمی میں شریک کوئی کمپنی پاکستان کرکٹ میں اسپانسر شپ نہیں کر سکتی۔

پی ایس ایل میٹنگ میں چیئرمین بورڈ کی جانب سے ’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ پر پابندی کے بیان پر انھوں نے کہا کہ میں اس اجلاس میں شریک نہیں تھا، مگر یہی سمجھتا ہوں کہ چیئرمین نے پالیسی فیصلے کا اعلان کیا ہو گا کہ بورڈ ’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ نہیں کرنے دے گا کیونکہ یہ ملکی قوانین کے خلاف ہے، البتہ چونکہ ڈافا نیوز ایک نیوز ویب سائٹ ہے لہذا اس مرحلے پر ہمیں کوئی تشویش نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں جب اس حوالے سے رپورٹ شائع ہوئی تھی تب بھی پی سی بی نے اسی قسم کا موقف دیا تھا، البتہ اگر کمپنی کی بات کو مان لیا جائے تو بھی تقریبا ایک جیسے لوگو کو اب تک تبدیل نہ کرنے اور ڈافا نیوز کی جانب سے ڈافا بیٹ کیخلاف کوئی ایکشن نہ لینے جیسے سوالات تاحال وضاحت طلب ہیں۔

ہمیں روکا، خود وہی کام کیا،پی ایس ایل فرنچائزز کا پالیسی بنانے کا مطالبہ

پی ایس ایل فرنچائزز نے ’’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘‘ سے روکنے کے بعد خود بورڈ کی جانب سے ایسا کرنے پر سوال اٹھا دیے، گذشتہ دنوں میٹنگ میں پی سی بی نے ایسا کوئی معاہدہ نہ کرنے کی ہدایت دی تھی، البتہ ہوم سیریز کی ایک اسپانسر کمپنی پر اب اعتراض کیا جا رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ دنوں ٹیم اونرز کے واٹس ایپ گروپ پر بھی اس حوالے سے بات ہوئی ، پی سی بی سے وضاحت بھی مانگی گئی تاہم تاحال کوئی جواب نہیں ملا تھا، فرنچائزز اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی تیار کرانا چاہتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔