آخری کال

سعد اللہ جان برق  اتوار 25 ستمبر 2022
barq@email.com

[email protected]

بات ہی ڈرنے اورڈرا دینے والی ہے، جناب کپتان خان نے کہاہے کہ میری آخری کال پر عوام کا سمندر چاروں اطراف سے اسلام آباد پر یلغارکردے گااوریہ تو سب جانتے ہیں کہ کپتان صاحب جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں۔ جھوٹ تو وہ کہتے نہیں کہ صادق ہیں اورتوشہ خانے کے سلسلے میں وہ امین بھی ثابت ہوئے ہیں، اس لیے ہمیشہ سچ کہتے ہیں اورسچ کے سوا اورکچھ بھی نہیںکہتے،صرف کہہ کر کرتے نہیں بلکہ کہنے سے پہلے کرنے کے قائل ہیں۔

انھوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ سونامی لے کر آئیں گے اورپھر سونامی لے کر آبھی گئے تھے، ان کے سارے وزیر، مشیر،معاونین برائے سب کے سب سونامی ہی تو تھے، پھر انھوں نے تبدیلی کااعلان کیا اورلے آئے چنانچہ سارے محکموں اوراداروں میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں ہی تبدیلیاں ہونے لگیںجو اب تک ہورہی ہیں، اس کے بعد پرانے پاکستان کو لات مارکر نہ جانے کہاں پھینک دیا اورنیا بلکہ نیا نکورپاکستان لے آئے۔ریاست مدینہ کاتو انھوں نے اعلان بھی نہیں کیاتھا مگر لانچ کردی، شاید اس لیے کہ جب سارے ہی صادق اورامین ہوں تو ریاست بھی مدینہ ہوناچاہیے۔

ایسا کہاں سے لائوں کہ تجھ ساکہیں جسے
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

اوراب یہ چاروں اطراف سے اسلام آباد پر یلغارکی بات، تو یقینا انھوں نے انتظامات کررکھے ہوں گے، اسی لیے ہم گھبرا رہے ہیں ۔انھوں نے سیلاب بھی نہیں کہا بلکہ سمندرکہاہے اورسمندرتو ظاہرہے کہ سمندر ہوتاہے اورسمندر بھی ایسا کہ چاروں اطراف سے ہو، وہ پانی کا نہیں بلکہ عوام کا۔ ذرا تصورکیجیے چاروں اطراف سے امڈ کر یہ سمندراسلام آباد کاکیاحال کردے گا، ہمارے تو ابھی سے رونگٹے کھڑے ہونے لگے ہیں ،ٹھیک ہے ہم اسلام آباد سے اچھے خاصے دورہیں لیکن سمندر تو سمندر ہوتاہے اوروہ بھی چاروں اطراف سے ۔ بات ہی ڈرنے والی اوراللہ خیر، اللہ خیر کا وردکرنے کی ہے۔

رات دن گردش میں ہیں سات آسمان
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گبھرائیں کیا

کیوں نہ گبھرائیں جب بات کپتان خان کی ہو جو صادق ہی نہیں، سچے سیاستدانوں اور ٹائیگرز کے سالاربھی ہیں ۔البتہ ایک بات امید کی ضرورہے کہ انھوں نے یلغارکو آخری کال سے مشروط کیاہے اورہم سب کو پتہ کرنا چاہیے کہ یہ آخری کال یا قال کب تک متوقع ہے یااس سے پہلے اورکتنی آخری کالیں ہوں گی یعنی اس ’’دیدہ ور‘‘کے پیداہونے سے نرگس اپنی بے نوری پہ کتنا روئے گی۔

ہزار گردش شام و سحر سے گزریں گے
وہ قافلے جو تری رہ گزرسے گزریں گے

گویا مسلہ تحقیق پر آپڑاہے اوراس کے لیے ہمارے پاس ایک ہی اصول ہے ،معلوم سے نا معلوم کا پتہ لگانا ،چنانچہ ہم ان ’’کالوں‘‘ کا حساب لگائیں گے جو اب تک جناب کپتان صاحب دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں ۔

خیریہ تو ابھی زیرتحقیق ہے کہ جناب کپتان صاحب آخری کال کب دینگے لیکن اہل تدبیرکو چاہیے کہ متوقع سیلا ب سے نمٹنے کی تیاری کرلیں آخر چاروں اطراف کے سمندروں کاسیلاب کوئی معمولی سیلاب نہیں ہوگا،ہمارے خیال میں پہلی تدبیرتو یہ ہوسکتی ہے کہ جناب کپتان صاحب سے رابطہ کیاجائے اور کچھ دے دلا کر اس آخری کال کی نوبت نہ آنے دیں۔

ملانصیرالدین ایک گائوں پہنچے تو گائوں والوں سے کہا ،اے گائوں والوں میری خاطرتواضع کرو ورنہ میں تمہارے ساتھ بھی وہی سلوک کروں گا جو پچھلے گائوں سے کرکے آیا ہوں۔گائوں والے ڈرگئے کہ یہ نہ جانے کونسی بلاہے اورپچھلے گائوں سے اس نے کیاکیا، وہ اس کی خاطرتواضع اورمہمان داری میں لگ گئے ،انواع واقسام کے پکوان اورمٹھائیاں کھلائیں اورگویا اس سلوک سے خود کو بچایا جو ملا نے پچھلے گائوں والوں کے ساتھ کیاتھا ،جب ملاجی شکم سیرہوکرجانے لگے تو گائوں والوں نے پوچھا،یہ بتائیں کہ پچھلے گائوں والوں سے کیاسلوک کر کے آئے ہیں ۔ ملانے کہا، گاؤں چھوڑ آیا اورکیا؟

اسلام آباد کے اہل تدبیرسے ہماری درخواست ہے کہ جسے بھی ہو، کپتان صاحب کو ’’آخری کال‘‘ سے روکیں ورنہ چاروں اطراف سے عوام کا سمندراگر امڈآیاتو ؟

یونہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہوگئیں

ہم نے بھی تحقیق کرنے کی ٹھان لی ہے اورکوشش کررہے ہیں کہ صوبائی حکومت کے نئے معاون اطلاعات سے رابطہ کریں اورآخری کال کا ٹائم ٹیبل معلوم کرلیں لیکن وہ اتنے بزی ہیں کہ ہرطرف اطلاعات نشر کرنے سے ذرا بھی فرصت نہیں ۔
خیرہمارا فرض تھا اہل تدبیرکو آگاہ کرنا،اب وہ جانے اوران کاکام ۔کپتان صاحب کو راضی کرکے ’’آخری کال ‘‘سے روکتے ہیں یاچاروں طرف سے

سمندروں کی یلغارکاکوئی بندوبست کرتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ کپتان صاحب نے آخری کال کی ٹھان لی ہے۔

ہے اندھیری کیوں شب غم ہے بلائوں کا نزول
آج ادھر کو رہے گا دیدہ اختر کھلا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔