شہباز شریف دَورۂ نیویارک سے کیا مفادات سمیٹ سکے؟

تنویر قیصر شاہد  پير 26 ستمبر 2022
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

ممکن ہے اِن سطور کی اشاعت تک وزیر اعظم، جناب محمد شہباز شریف،امریکا سے واپس وطن آ چکے ہوں ۔ وہ نیویارک جاتے اور نیویارک سے واپس آتے ہُوئے 2بار، لندن میں، اپنے قائد اور بڑے بھائی ، محمد نواز شریف، سے ملے ہیں۔

انھوں نے نیویارک میں عالمی اداروں سے اپنی میل ملاقاتوں کا احوال بھی اپنے قائد کے سامنے پیش کیا ہے۔ اِن اہم ملاقاتوں کا ایک اہم نتیجہ ، مبینہ طور پر، یہ نکلا ہے کہ سابق وزیر خزانہ ، اسحق ڈار صاحب، ملک سے طویل ’’غیر حاضری‘‘ کے بعد وطن واپس آ رہے ہیں۔ واپس آکر( اورعدالت سے سرخروئی کے بعد) شاید وہ فوری طور پر وزیر خزانہ کا قلمدان بھی سنبھال لیں اور مفتاح اسماعیل کی چھُٹی ہو جائے ۔

شہباز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اور 77ویں سیشن سے خطاب کرنے 19ستمبر کی شام نیویارک پہنچے اور23و24ستمبر کی درمیانی شب جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اِس دوران وزیر اعظم اور اتحادی حکومت کے مخالفین سوالات اُٹھاتے رہے کہ وزیر اعظم صاحب ، اپنے نصف درجن وزرا کے ساتھ UNGA کے خطاب سے پانچ دن قبل ہی کیوں نیویارک پہنچ گئے تھے؟ کیوں پاکستان کے مبینہ خالی قومی خزانے سے مہنگے ڈالروں پر ’’بھاری‘‘ اخراجات کرتے رہے ؟

یقیناً ایسے استفسارات پر ہمارے حکمران ناراض اور نالاں ہوتے ہیں۔ غربت ، عسرت اور شدید مہنگائی کے مارے عوام مگر اپنے دگرگوں مالی و معاشی حالات میں یہ سوالات بھی نہ پوچھیں تو پھر اپنا کتھارسس کیسے اور کدھر کریں؟ جمہوریت میں عوام سے ایسے استفسارات کا حق چھینا نہیں جا سکتا۔دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف اور اُن کے ہمراہ نیویارک گئے نصف درجن کے قریب وفاقی وزرا کی کارکردگی اور مصروفیات کا جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ دَورۂ نیویارک ناگزیر تھا۔ یہ دَورہ بے ثمر بھی ثابت نہیں ہُوا ہے۔

امریکی صدر ، جو بائیڈن، اور دیگر عالمی لیڈروں سے وزیر اعظم کی ملاقاتیں یوں مفید ثابت ہُوئی ہیں کہ انھوں نے ہمارے سیلاب زدگان سے زبانی کلامی اور محض ’’سوکھی‘‘ ہمدردی کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ آگے بڑھ کر پاکستان کے مصیبت زدگان کی متنوع دستگیری کے اعلانات بھی کیئے ہیں ۔یہ علیحدہ بات ہے کہ جناب شہباز شریف کی امریکی صدر اور اُن کی اہلیہ محترمہ کے ساتھ جو فوٹو سامنے آئی ہے، اِسے دیکھ کر شہباز شریف اور نون لیگ کے مخالفین جل بھُن گئے ہوں گے ۔

یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے کہ جس وقت 23اور24ستمبر کی درمیان شب 10بجے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کررہے تھے، پاکستان کے مختلف شہروں اور نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی عمارت کے سامنے پی ٹی آئی کے چند وابستگان احتجاجی مظاہرے کررہے تھے ۔

مجھے نیویارک سے کچھ احباب نے موبائل پر اِس احتجاج کی فوٹوز بھی بھجوائی ہیں ( جن میں چند لوگ نظر آ بھی رہے ہیں) اور ساتھ فخریہ بتاتے بھی رہے کہ ہم نے اپنے قائد ( عمران خان ) کے حکم پر آج ’’شاندار احتجاجی‘‘ مظاہرہ کیا ہے ۔ کیا ایسی باتوں پر اِترایا جا سکتا ہے ؟ اب جب کہ پورے ملک کو سیلابوں نے ہلکان کررکھا ہے ،کیا ایسے پُر آزمائش لمحات میں ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں اور قائدین کو نیویارک گئے وزیر اعظم پاکستان کے خلاف مظاہرے کرنا زیب دیتا تھا؟

وزیر اعظم کے حکم پر اور وزارتِ اطلاعات پاکستان کے زیر اہتمام UNGAکے کاریڈورز میں پاکستان کے ہلاکت خیز سیلابوں اور سیلاب زدگان کی دل دہلا دینے والی تصاویر کی نمائش کرکے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب صاحبہ نے شاندار اور قابلِ تعریف اقدام کیا ہے ۔ اِس نمائش کا فوری اثر یہ ہُوا ہے کہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے آئے عالمی لیڈروں اور امریکی انتظامیہ ہمارے سیلاب متاثرین کے مصائب سے آگاہ ہُوئے ہیں۔

یہ عالمی آگاہی اور سیلاب متاثرین کے لیے پیدا ہونے والے درد مندی کے عالمی جذبات رائیگاں اور بے ثمر نہیں جائیں گے۔ اِس تصویری نمائش کے بعدUNGAسے وزیر اعظم، شہباز شریف، کا مدلل اور حقائق پر مبنی خطاب بھی شاندار تھا۔

وزارتِ خارجہ ، وزیر اعظم کے مشیروں اور ساتھ گئے وفاقی وزرا کی اجتماعی کوششوں سے اِس خطاب کو بھرپور اور وقت کی آواز بنانے کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی ۔ بلاشبہ وزیر اعظم کا خطاب پُر اثر تھا۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اِس خطاب کے اثرات کہاں تک نفوذ کرتے ہیں ؟

جنابِ عمران خان نے ، حسبِِِ عادت اور حسبِ معمول، وزیر اعظم شہباز شریف کے مذکورہ خطاب پر تنقید بھی کی ہے اور اعتراضات بھی اُٹھائے ہیں ۔ بڑا اعتراض یوں کیا ہے: ’’ شہباز شریف نے عالمی برادری سے (سیلاب زدگان کے لیے) ’’بھیک‘‘ مانگ کر پاکستانی قوم کو شرمندہ کیا ہے۔‘‘خان صاحب کا یہ اعتراض بنتا نہیں ہے ۔

وہ اور اُن کی پارٹی خود تو سیلاب زدگان کی اعانت کے لیے کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہی (اگرچہ خان صاحب نے سیلاب متاثرین کے لیے ٹیلی تھون میں اربوں روپے چندہ اکٹھا کرنے کے کئی دعوے بھی کیے ہیں)لیکن اِس دوران اگر عالمی برادری سے وزیر اعظم شہباز شریف امداد کی اپیلیں کررہے ہیں تو کیا اِسے واقعی معنوں میں ’’ بھیک‘‘ سے معنون کیا جا سکتا ہے؟ فرض کیا خان صاحب خود وزیر اعظم ہوتے اور انھیں اِن قیامت خیز سیلابوں کا سامنا کرنا پڑ جاتا تو کیا وہ تنِ تنہا، کسی بھی غیر ملکی امداد کے بغیر ، سیلاب کے ماروں کو ہر قسم کی مطلوبہ امداد فراہم کر سکتے تھے؟ وارث شاہ فرما گئے ہیں: گلّاں کرنیاں سوکھیاں تے قول نبھانے اوکھ!

وزیر اعظم اور اُن کی ہمراہی ٹیم نے نیویارک میں جو پانچ دن گزارے ہیں، بے مصرف نہیں گئے۔ جناب شہباز شریف نےUNGAمیں دُنیا کے کئی صدور، وزرائے اعظم اور چانسلرز سے جو با معنی ملاقاتیں کی ہیں، اُن کے ثمرات ظہور پذیر ہونے لگے ہیں ۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس سے شہباز شریف نے جو خطاب کیا ہے ، وہ مختصر تو تھا لیکن اِس اختصار میں جامعیت تھی۔ انھوں نے سیلاب زدگان کے مصائب کا تفصیلی ذکر تو کیا ہی، پاک بھارت تعلقات کا ذکر بھی کیا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استبداد اور مظالم کو بھی بے نقاب کیا۔ اُن کے خطاب میں بھارت سے پُر امن تعلقات اور بقائے باہمی کا بھی غیر مبہم ذکر تھا اور عالمی برادری سے یہ بھی اپیل کی گئی کہ افغانستان کو تنہا اور بے یارومددگار نہ چھوڑا جائے۔

افغانستان کی طالبان حکومت اگرچہ پاکستان سے وفا کرنے سے قاصر ہے لیکن وزیر اعظم پاکستان نے اپنا اخلاقی اور ہمسائیگی کا تعلق نبھا دیا ہے ۔ یہ دیکھ اور سُن کر مزید اچھا اور دلکشا لگا ہے کہ شہباز شریف نے UNGAمیں پاکستانی مفادات کے لیے جو پالیسی اختیار کیے رکھی، ہمارے وزیر خارجہ، بلاول بھٹو زرداری، کی نیویارک میں جملہ مصروفیات ،انٹرویوز، بیانات اور خطابات ان پالیسیوں سے ہم آہنگ دکھائی دیے گئے ۔

مثال کے طور پر بلاول بھٹو نے معروف امریکی تھنک ٹینک(Council on Foreign Relations)سے خطاب کیا اور45منٹ تک مختلف النوع سوالات کے جس اعتماد سے جواب دیتے رہے ، یہ اطمینان بخش بھی تھے ، پاکستانی مفادات کے حق میں بھی ، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا عکس بھی اور سب سے بڑھ کر شہباز شریف کی قومی و عالمی پالیسیوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ بھی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ عمران خان کی ایک سابق وفاقی وزیر نے اِس میں بھی کیڑے نکال دیے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔