حکومت ڈارک ویب سے آڈیو لیک کا ڈیٹا خریدنے کی کوشش کررہی ہے، فواد چوہدری

ویب ڈیسک  پير 26 ستمبر 2022
پہلے کلپ میں مفتاح اسماعیل کے بارے میں جو گفتگو ہو رہی ہے اس پر مفتاح صاحب کو پارٹی ہی چھوڑ دینی چاہیے، سابق وزیر اطلاعات (فوٹو : فائل)

پہلے کلپ میں مفتاح اسماعیل کے بارے میں جو گفتگو ہو رہی ہے اس پر مفتاح صاحب کو پارٹی ہی چھوڑ دینی چاہیے، سابق وزیر اطلاعات (فوٹو : فائل)

 اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما فواد حسین چوہدری نے کہا ہے کہ آڈیو لیکس کی مکمل تحقیقات کی جائیں، حیرت ہے اس پر ابھی تک وزیراعظم ہاؤس سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ آج جو ہیلی کاپٹر حادثہ ہوا ہے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اس پر دکھ کا اظہار کررہے ہیں، ملک کے لیے یہ ایک بڑا سانحہ ہے، ہیلی کاپٹر حادثے بڑھتے جا رہے ہیں، اس پر بھی ہمیں دیکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : ایٹمی ملک کے وزیراعظم ہاؤس کی گفتگو تین لاکھ ڈالر میں ڈارک ویب پر دستیاب ہے، فواد چوہدری

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم آفس کی 140 گھنٹے کی آڈیو لیک سامنے آئی ہے، ڈارک ویب پر یہ آڈیو لیک ہوئی ہے، ڈارک ویب پر پتا نہیں چلتا کہ کس نے لیک کی ہے، ڈارک ویب پر یہ سیل پر لگی ہے، ہیکر اسے 3 لاکھ 45 ہزار ڈالر کے عوض فروخت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ پہلے سے یہ ڈارک ویب پر پڑی ہوئے ہے، یہ کام عام آدمی کو نہیں پتا چلتا، ایجنسیز کا کام تھا کہ اسے چیک کرتے، اربوں روپے ایجنسیوں کو جاتے ہیں، ان کا کام تھا کہ پتا لگاتے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کل ایک ٹویٹر اکاؤنٹ بنا جس پر یہ آڈیو لیک سامنے آئی، حکومت کی جانب سے کوئی آفیشل بیان سامنے نہیں آیا، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس آڈیو سے پتا چلتا ہے کہ ہماری حکومت کتنی اچھی گورننس کر رہی ہے، یہ دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان کو سیکیورٹی کرائسس کا سامنا ہے۔

سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کی بھی سیکیورٹی پر سوال اٹھتا ہے، یہ ایک بہت بڑا سیکیورٹی لیپ ہے، اس بات پر حیرت ہے کہ وزیراعظم ہاؤس نے اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا، حکومت پاکستان اتنی بلیک میل ہو رہی ہے کہ اب یہ ڈیٹا ڈارک ویب سے خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس میں شاید ایسی خوف زہ کرنے والی گفتگو ہے کہ شاید کابینہ چلی بھی جائے، وزیراعظم ہاؤس کی اس آڈیو لیک کی مکمل تحقیق ہونی چاہیے کہ جس کہ پہلے کلپ میں مفتاح اسماعیل کے بارے میں جو گفتگو ہو رہی ہے اس پر مفتاح صاحب کو پارٹی ہی چھوڑ دینی چاہیے، یہ آڈیو اگست سے پہلے کی ہے، مریم نواز کہنا چاہ رہی تھیں کہ مفتاح کو ہٹایا جائے اور اسحاق ڈار کو لایا جائے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سگریٹ کی صنعت کو مریم اورنگزیب کے کہنے پر کس طرح سے اٹھایا گیا، آڈیو میں شہباز شریف اپنے وزیر خزانہ پر چارج شیٹ کر رہے ہیں کہ انہوں نے سگریٹ کے معاملے پر ڈنڈی ماری۔

انہوں ںے کہا کہ مریم نواز شہباز شریف سے التجا کر رہی ہیں کہ اپنے داماد راحیل کے لیے آدھا پلانٹ انڈیا سے آسکے، یہ وہ وقت ہے جب انڈیا سے تجارت بحال کرنے کی باتیں کی جارہی تھیں حکومت کی طرف سے، آپ اندازہ لگائیں کہ ملک کا وزیراعظم یہ کہہ رہا ہے کہ کسی تیسرے ملک سے ہوتے ہوئے پلانٹ منگوالیں، یعنی آپ سسٹم کو خود ہی چیٹ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز آگے سے کہہ رہی ہیں کہ اس پر فریٹ زیادہ پڑ جائے گا، اس کے بعد والی آڈیو میڈیا مینجمنٹ کی ہے ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے میڈیا مالکان سازشوں میں شریک ہیں، مریم نواز کہتی ہیں کہ اگر کوئی خبر لگوانی ہو یا رکوانی ہو تو اپنے داماد راحیل کے ذریعے کرواتی ہیں اسی طرح مریم نواز کہتی ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں کی سمری کو مسترد نہیں کرنا چاہیے تھا، یہ ان کی دوغلی پالیسی ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ اگلے کلپ میں پرویز مشرف کے حوالے سے بات ہوئی، گرگٹ بھی اس طرح رنگ نہیں بدلتا جس طرح سے یہ لوگ بدلتے ہیں، یہ تو صرف پانچ دس منٹ کے کلپس تھے ابھی اس سے بہت زیادہ لیکڈ آڈیو ہیں جن کے سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے کلپ میں الیکشن کمیشن کے حوالے سے آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں پی ٹی آئی کے استعفی منظور ہونے پر بات ہو رہی ہے، آڈیو میں سنا جا رہا ہے کہ رانا ثنا اللہ کو اختیار دے دیں کہ کس کس کا استعفی قبول کرنا ہے، پھر اس کے بعد لندن سے فیصلے ہوں گے، مجھے امید ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس معاملے پر نوٹس لیں گے، اس معاملے پر تحقیقات ہونی چاہیے، حکومت کی طرف سے آفیشل بیان آنا چاہیے، وزیراعظم کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اسپیکر کو کہتا ہوں کہ اگر غیرت ہے تو ان پانچوں پر ایکشن لیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ہمارے آڈیو لیکس ہوجائیں ہمیں کوئی خدشہ نہیں ہے کیوں کہ ویسے بھی ہمارے پاس پیسے بھی انہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔