شہریوں کو بلیک میل کرنے والے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے افسران گرفتار

ویب ڈیسک  بدھ 28 ستمبر 2022
—فائل فوٹو

—فائل فوٹو

 لاہور: ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ خود شہریوں کو بلیک میل کر کے پیسے ہتھیانے لگا، ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سیل نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت چار اہلکاروں اور افسران پر شہری کو بلیک میل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔ 

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اہلکاروں نے ماڈل ٹاون لنک روڈ پر غیر قانونی چھاپہ مارا اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور چھاپہ مار ٹیم میں موجود کانسٹیبل اپنے اپ کو انسپکٹر ظاہر کرتا رہا۔ متاثرہ شہری کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کرتے رہے اور 6 لاکھ میں معاملہ رفع دفع کرنے کی ڈیل ہو گی۔

ریڈنگ ٹیم کو کامران نامی شخص نے 2 لاکھ 49 ہزار موبائل ایپ کی مدد سے ٹرانسفر کر دیے اور ایک لاکھ اے ٹی ایم سے بھی نکلوا کر دیا گیا اور ریڈنگ ٹیم موقع سے لیپ ٹاپ ، موبائل فون، ایر پوٹ بھی ساتھ لگ گئے۔

کچھ دن بعد متاثرہ شخص کا ایف آئی اے میں انسپکٹر نوید گل سے ہی رابطہ ہو گیا اور متاثرہ شخص نے انسپکٹر نوید گل کو ساری کہانی سنائی جس کے بعد ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے انہیں پکڑنے کا پلان تیار کیا اور کامران نامی شخص کو اپنا لیپ ٹاپ اور موبائل واپس لینے کے لیے دوبارہ ریڈنگ ٹیم سے رابطہ کروایا گیا۔

ایف آئی اے کی ٹیم نے متاثرہ شہری کے ساتھ شنواری ریسٹورنٹ ماڈل ٹاون میں ریڈ کیا اور ریڈ کے دوران وہی ٹیم جو بلیک میل کر رہی تھی موقع پر موجود تھی جس کو نشان لگے 50 ہزار روپے کے نوٹ دیے گئے۔ پیسے لینے کے بعد ایف آئی اے نے اپنے ملازمین جو بلیک میلنگ میں ملوث تھے انہیں گرفتار کر لیا۔

موقع سے ایف آئی اے نے کانسٹیبل ذیشان انجم اور مراد پنو کو گرفتار کر لیا۔ زیشان انجم نے دوران تفشیش بتایا کہ اس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسد فخر اور اے ایس آئی اقبال کے کہنے پر ایسا کیا۔ ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ نے چاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔