ڈینگی پھر سَر اُٹھانے لگا، وارڈ مریضوں سے بھر گئے

ڈاکٹر آصف چنڑ  اتوار 2 اکتوبر 2022
خطرناک بیماری سے بچاؤ کے لیے علاج کی نوبت آنے سے پہلے احتیاط بہترین حکمت عملی ہے ۔ فوٹو : فائل

خطرناک بیماری سے بچاؤ کے لیے علاج کی نوبت آنے سے پہلے احتیاط بہترین حکمت عملی ہے ۔ فوٹو : فائل

ای میل: [email protected]

ا ن دنوں پاکستان میں ڈینگی مرض ایک مرتبہ پھر سر اُٹھا رہا ہے جس سے پنجاب خیبر پختونخوا، سندھ ودیگر صوبے بالخصوص بڑے شہر لاہور راولپنڈی پشاور اور کراچی اس کی لپیٹ میں ہیں اور اس مرض میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

بد قسمتی سے اس کی وجہ مناسب آگاہی اور حفاظتی تدابیر کا نہ ہونا ہے اور عام سی بیماری مہلک اور خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دراصل ڈینگی ایک انفیکشن ہے جو ایک خاص وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ بیماری ایک مخصوص مادہ مچھر AedesAegypti کے کاٹنے سے پھیلتی ہے جس کی ٹانگیں عام مچھروں کی نسبت ذرا لمبی ہوتی ہیں۔ کسی متاثرہ شخص کو کاٹنے سے یہ وائرس اس مچھرمیں آجاتا ہے اور اس کے بعد اگر یہ مچھر کسی دوسرے شخص کو کاٹ لے تو یہ وائرس اس میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ڈینگی بخار عموماً ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے جن کی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔

چار مختلف اقسام کے وائرس انسانوں میںڈینگی بخار کا باعث بنتے ہیں۔ ایک قسم کے وائرس کا حملہ صرف ایک بار ہی ہو سکتا ہے۔ دوسری مرتبہ ڈینگی بخار دوسری قسم کے وائرس سے ہو سکتا ہے اور یوں زندگی میں کسی بھی شخص کو زیادہ سے زیادہ چار مرتبہ یہ عارضہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ڈینگی بخار کا دوسرا نام بریک بون فیور(Break Bone Fever) بھی ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ اس بخار کے دوران ہڈیوں اور پٹھوں میں اتنا شدید درد ہوتا ہے کہ ہڈیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور یہ مرحلہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔

یہ بیماری گرم اور نیم گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے اور دنیا بھر میں دس کروڑ سے زائد افراد ہر سال اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم بروقت علاج سے اس مرض سے صحت یابی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور 99 فیصد مریض اس سے مکمل طور پر صحت یات ہو جاتے ہیں۔ یعنی ایک فیصد سے بھی کم لوگوں میں یہ مہلک شکل اختیار کرتا ہے۔ دیگر مچھروں کے برعکس ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بڑا صفائی پسند ہوتا ہے۔ گندے تالابوں اور جوہڑوں کی بجائے یہ مچھر گھریلو واٹر کولر، ٹینکوں کے قرب و جوار، صاف پانی سے بھرے برتنوں، پودوں کے گملوں، غسلخانوں اور بارش کے صاف پانی میںتقریباً سارا سال ہی پلتا رہتا ہے۔

تاہم برسات کے موسم میں تیزی سے افزائش نسل کرتا ہے۔ عموماً یہ مچھر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کیونکہ مچھر دن کے کسی بھی حصے میں کاٹ سکتے ہیں۔

وائرس زدہ مچھر کے صرف ایک ہی بار کاٹنے سے یہ بیماری انسان میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہاں اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ یہ بیماری براہ راست ایک شخص سے دوسرے شخص(from person to person) کو منتقل نہیں ہوتی بلکہ مخصوص مچھر ہی اس کے منتقلی کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے ڈینگی سے متاثرہ مریض سے علیحدہ ہونے کے بجائے مچھروں کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ بعض اوقات مریض کو علیحدہ رکھا جاتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ متاثرہ شخص کو کاٹ کر مچھر مزید بیماری پھیلانے کا باعث نہ بنیں۔

وائرس کو لے جانے والے مچھر کے کاٹنے کے دو سے سات روز کے اندر ڈینگی کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ان علامات میںتیز بخار، سردی لگنا، جسم میں شدید درد اور کمزوری، بیماری کے دوران ٹانگوں اور جوڑوں میں شدید درد، سر درد اورخا ص کر آنکھوں کے پیچھے شدید دور، منہ کا ذائقہ کڑوا ہونا، ڈینگی بخار کی یہ علامات دو تا چاردن رہنے کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔

مریض کو پسینہ زیادہ آتا ہے اور نارمل محسوس کرنے لگتا ہے مگر بہتری کی یہ حالت تقریباً ایک دن رہتی ہے جس کے بعد بخار دوبارہ تیزی سے چڑھ جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی جسم پر باریک دانے نمودار ہو جاتے ہیں۔ اس بار چہرہ محفوظ رہتا ہے البتہ ہتھیلیاں اور مسوڑھے سوج کر سرخ ہو جاتے ہیں۔

ڈینگی بخار کی شدید شکل جو بہت خطرناک اور جان لیوا ہو سکتی ہے اسے ڈینگی ہیمریجک فیور(Dengue Hemorragic Fever) کہتے ہیں۔ اس کی نمایاں علامات میں آنکھوں کے پیچھے شدید درد، پیٹ درد اور جسم کے مختلف حصوںدانتوں، مسوڑھوں، ناک ، پیشاب پخانے،زنانہ راستے اور مقعد سے خون یا خون سے ملتی رطوبات کا رسنا شامل ہیں۔ خون میں platelet  ذرات کی مقدار خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔

خون کے اس غیر ضرودی بہاوء کی وجہ سے خون کے دباؤ میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس حالت کو Dengue Shock Syndrom کہا جاتا ہے جو کہ موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ایسی حالت میں مریض کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈینگی بخار کی تشخیص دو طریقوں سے ہوتی ہے۔ مریض کی علامات سے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے۔ ابتداء میں اس کا انحصار علامات پر ہوتا ہے جیسے بخار جلد پر سرخ دھبے بننا، جسم میں درد اور آنکھوں کے پیچھے درد وغیرہ۔ خون کے ٹیسٹ میں  platelets  کی تعداد میں کمی۔ دوسری قسم کے ٹیسٹ میں ڈینگی کے خلاف خون میں اینٹی باڈیز کی شناخت کرنا ہے۔ سب سے زیادہ کیا جانے والا ٹیسٹ  Dengue IGM, IGG,  کہلاتا ہے۔

یہ ٹیسٹ اگر ابتدائی علامات میں کروا لیا جائے تو Negative بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عام طور پر اس اینٹی باڈی کو جسم میں بننے اور شناخت کرنے میں چار سے پانچ دن لگتے ہیں۔ اس بیماری کے علاج کے لیے مریض کو  supportive therapyدی جاتی ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ پانی اور دوسرے مشروبات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرے۔ Paracetamol کی ضرورت پڑتی ہے۔

اگر مریض زیادہ کھاپی نہ رہا ہو تو Drip لگانی چاہیے۔ اگر platelets بہت کم ہو جائیں جس سے خون جاری ہونے کا احتمال ہو تو اس صورت میں platelets کی  Drip لگانا ضروری ہو جاتا ہے۔ مریض کو مسلسل زیر نگرانی رکھ کر اس کے خون کے دباؤ، درجہ حرارت اور خون کے نظام کو نارمل رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مریض کو دوا لگی مچھر دانی میں رکھنا چاہیے۔ شوکت خانم میموریل ہسپتال اور ریسرچ سنٹر میں اس مرض کی تشخیصی سہولیات علاج اور ڈاکٹر سے مل کر مشورہ کی سہولت موجود ہے، عوام الناس جس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

اس بیماری سے بچاو تبھی ممکن ہے جب ہم اس مخصوص مچھر کو پھلنے پھولنے سے روک دیں۔ ایسی جگہوں پر سپرے کریں جہاں مچھر پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح کھڑے پانی کو نکالنے کا انتظام کیا جائے۔ مچھر دانی کا استعمال کیا جائے، گھروں میں گملوں کا پانی روزانہ تبدیل کیا جائے۔ ڈینگی کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر مستند معالج سے رابطہ کیا جائے۔

لوگ اپنے طور پر احتیاط کریں کیونکہ صرف احتیاط ہی اس مرض کی روک تھام میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹھہرے ہوئے پانی کو گھر میں نہ رہنے دیں، پودوں اور گھاس کے قریب نہ جائیں، گھر میں مچھر مار اسپرے کا استعمال کریں اور کھانے پینے کا اشیاء کو ڈھانپ کر رکھیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی احتیاطوں سے ڈینگی جیسے بڑے مہلک مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

ابتدائی علامات

ڈینگی وائرس بخار کی علامات شروع میں اس طرح ہوتی ہیں۔

-1 تیز بخار -2 سر درد

-3 آنکھوں کے ڈھیلے میں شدید درد -4 تمام جسم کی ہڈیاں اور گوشت یہاں تک جوڑ جوڑ میں درد

-5 بھوک کا مر جانا اور متلی ہونا۔

بیماری کی شدت کی صورت مریض شاک میں جا سکتا ہے اور بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے۔ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ جسم کے اندونی اور بیرونی حصوں پر باریک دانے ہو جاتے ہیں۔ ڈینگی وائرس کا شکار ہونے والے افراد پر اگر یہ وائرس دوبارہ حملہ آور ہو تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ 1979-80 ء مین پہلی دفعہ اس بیماری کا پتہ چلا تھا، جب بیک وقت تین براعظموں میں یعنی ایشیا، افریقہ اور امریکہ میں یہ وبا پھیلی تھی۔ پاکستان میں 1994 ء میں پہلی مرتبہ اس سے متاثرہ افراد دیکھے گئے ۔

 علاج

اس بیماری کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔

-1 مریض کو Supporive therapy دی جاتی ہے۔

-2 مریض سے کہا جاتا ہے کہ وہ پانی اور دوسرے مشروبات کا ستعمال زیادہ سے زیادہ دور کھے۔

-3 اگر مریض زیادہ کھا پی نہ سکے تو پھر Drip لگانی چاہیے

-4 اگر platelets  بہت کم ہو جائیں جس سے خون جاری ہونے کا احتمال ہو تو اس صورت میں Platelets  کی Drip لگانا ضروری ہے۔ Platelets کی Drip بلڈ بینک سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

ڈینگی وائرس کا سبب بننے والا مچھر ایڈیز ایجپٹی لاطینی امریکہ سے مصر میں منتقل ہوا تھا، ڈینگی وائرس کی 1950  میں پہلی بار ایشیائی ممالک میں تشخیص کی گئی تھی، یہ وائرس سب سے پہلے فلپائن اور تھائی لینڈ میں حملہ آور ہوا تھا جس کے بعد ڈینگی وائرس تیزی سے بھارت، پاکستان، افریقہ،مشرق و سطی، جنوب مشرق ایشیا اور ویسٹرن پیسفک کے 100 سے زائد ممالک میں پھیل گیا، اس وقت یہ تمام ممالک ڈینگی وائرس کی لپیٹ میں ہیں۔ سب سے زیادہ جنوب مشرق ایشیائی مملک متاثر ہیں، ڈینگی وائرس1970 سے قبل صرف 9 ممالک میں پایا جاتا تھا۔ 1995 کے بعد اس وائرس کی شدت میں تیزی آگئی، عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال 2  کروڑ افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں،

دنیا بھر میں مچھروں کی 3 ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ ڈینگی وائرس ایڈیز ایجپٹی ہیں، ان خطرناک مچھروں کی تین اقسام ہوتی ہیں ان میںایڈیز ایجپٹی (AedesAgepti) اینو فلیز (Anophles) اور کیولیکس(Culex) ہے یہ تینوں اقسام کے مچھر ڈینگی وائرس ہیمریجک فیور اور ملیریا فلیریسز(Flarasis) ہے، ڈینگی وائرس کا سبب بننے وال مخصوص مادہ مچھر صاف پانی ، پانی اسٹور کرنے والے ٹینک، گملوں، نکاسی آب، بارش کے پانی، جھیل اور ساکن پانی میں انڈے دیتی ہے، یہ مچھر پانی کے جہاز اور ٹرینوں سے ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں، ڈینگی وائرس پھیلانے والی مادہ مچھر 22 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں انڈے نہیں دیتی جس کی وجہ سے ان مچھروں کی افزائش کا عمل رک جاتا ہے۔

تاہم ان مچھروں کے دیے جانے والے انڈے محفوظ رہتے ہیں اور اپنی نسل کی افزائش کے لیے بہترین موسم کا انتظار کرتے ہیں، جولائی سے دسمبر تک ان مچھروں کے انڈوں سے تیزی سے افزائش ہوتی ہے۔تاہم سردموسم میں ان کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

ڈینگی وائرس کا سبب بننے والی مادہ مچھر کو اپنے انڈے دینے کے لیے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے، مادہ مچھر پروٹین کی تلاش میں انڈے کے مقام سے 25 سے 30 کلومیٹر دور تک جا کر پالتوں جانوروں، بھینسوں کے باڑوں میں جانوروں کا کاٹ کر اپنی غذا اور پروٹین حاصل کرتی ہے تاہم جانور نہ ملنے کی صورت میں مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہے تو اپنی ڈنگ سے 8سے 10 سیکنڈ کے لیے اس جگہ کو سن کر دیتی ہے اور اس دوران جراثیم مچھر سے انسان سے منتقل ہو جاتا ہے

سوال یہ ہے کہ ڈینگی بخار کا شک ہونے پر ہمیں سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے۔ کیا ہر بخار زدہ فرد کو دوڑتے ہوئے ہسپتال کا رخ کرنا چاہیے۔ ڈینگی بخار کا درجہ حرارت عموماً 104 -105  فارن ہائیٹ ہوتا ہے۔ اس بات کا پتہ چلانا ضروری ہے کہ آیا متاثرہ شخص کہیں ڈینگی بخار میں مبتلا تو نہیں ہے۔

اس موقع پر باقاعدہ تصدیق کے لئے خون کا ٹیسٹ کرانا ضروری ہے۔ دو سے تین دن میں بخار اترنے کے بعد مریض اکثر سمجھتے ہیں کہ وہ صحت یاب ہو گئے ہیں لیکن اس دوران اچانک بلڈ پریشر کم ہو کر مریض ایک نئی مصیبت سے دو چار ہر سکتا ہے۔ اسی اثناء وائرس خون کے Platelets پر حملہ آور ہر کر انھیں نقصان پہنچاتا ہے یہی وہ کیفیت ہے جسے “ہیمرریجک فیور” کہا جاتا ہے۔ Platelets  مل کر خون کو بہنے سے روکتے ہیں۔ بدن میں Platelets  کی کمی بعض اوقات زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ملک میں سر اُٹھانے والی حالیہ ڈینگی کی وباء میں سرکاری سطح پر منصوبہ بندی، صفائی ستھرائی کے فقدان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ڈینگی مرض کی موجودہ لہر میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ستر سے اسی فیصد ڈینگی وارڈز مریضوں سے بھر چکے ہیں اورعوام و محکمہ صحت پر اضافی بوجھ ثابت ہو رہے ہیں۔

اس وقت ملک میں جاری کرونا وبا کی چوتھی لہر کی موجودگی میں ڈ ینگی جیسے خطرناک مرض میں اضافہ ایک پیچیدہ صورت حال ہے اور پاکستان جیسا پسماندہ ملک جہاں علاج معالجے کی سہولیات نہ صرف ناکافی ہیں بلکہ غر بت، بے روزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کی پہنچ سے دور ہیں، اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ڈینگی اور کرونا دونوں مہلک امراض ہیں حکومتی سرپرستی،موثر حکمت عملی اور جامع منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ احتیا ط و حفاظتی تدابیر ان سے بچاو میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔