سائفر کی ایک کاپی میرے پاس تھی جو کہیں غائب ہوگئی ہے، عمران خان

ویب ڈیسک  ہفتہ 1 اکتوبر 2022
(فائل: فوٹو)

(فائل: فوٹو)

 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تصدیق کی ہے کہ سائفر کی جو کاپی اُن کے پاس تھی معلوم نہیں وہ کہاں غائب ہوگئی ہے، گرفتاری کے لیے ہر وقت تیار ہوں۔

نجی ٹی وی دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ جب آخری بار مجھے اپنی گرفتاری کا علم ہوا تو میں نے اپنا بیگ بنا کر تیاری کرلی تھی، گرفتاری کے لیے میں ہر وقت تیار رہتا ہوں۔

’گرفتار ہوکر جیل جانے کے لیے تیار ہوں‘

انہوں نے کہا کہ شریفوں اور زرداری کی سیاست مافیاز کی طرز پر ہے، یہ لوگوں کو خرید لیتے ہیں یا ڈرا دھمکا کر قتل بھی کروا دیتے ہیں، انہوں نے مجھے گرفتار کرنے اور جیل میں ڈالنے کی کوشش کرنی ہے، جس کے لیے میں تیار ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے پتہ تھا یہ مجھے نا اہل کروانے کی کوشش کریں گے، یہ اس وقت الیکشن کروانا چاہتے ہیں جب مجھے نا اہل کروا دیں، میں ذہنی طور پر ہر چیز کے لیے تیار ہوں مگر ڈٹ کر مقابلہ کروں گا اور اپنی قوم کو حقیقی آزادی دلواؤں گا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مریم اور بلاول ہر بار کوئی ایسی بات کر دیتے ہیں جس سے ہمارا فائدہ ہو جاتا ہے، مجھے نہیں انہیں کوچ کی ضرورت ہے۔

’سائفر آڈیو لیک والی گفتگو تو جلسوں میں کرچکا ہوں‘

انہوں نے کہا کہ ’آڈیو لیک بہت بڑی سیکورٹی بریچ ہے، اعظم خان والی آڈیو لیک شاید اُس کے فون کی ریکارڈنگ ہے، جو بھی باتیں آڈیو لیک میں سائفر کے حوالے سے کیں وہ سب تو میں جلسوں میں کر چکا ہوں‘۔

’عام لوگ سائفر نہیں سمجھتے ان کے لیے خط کا لفظ استعمال کیا‘

پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ سائفر کی ایک کاپی میرے پاس تھی، پتا نہیں وہ کہاں غائب ہو گئی ہے، اسد مجید کے سائفر کے آخر میں لکھا تھا کہ ہمیں اسے ڈیمارچ کرنا چاہیے، عام لوگ سائفر کو نہیں سمجھتے، انکی زبان میں انہیں سمجھانے کے لیے لیٹر کا لفظ استعمال کیا۔

ایوان صدر میں ہونے والی حالیہ اہم ملاقات کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جھوٹ میں بولنا نہیں چاہتا، سچ میں بول نہیں سکتا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔