ڈارک ویب

سرور منیر راؤ  اتوار 2 اکتوبر 2022
msmrao786@hotmail.com

[email protected]

ڈارک ویب پر لیک ہونے والی حالیہ وڈیوز اور آڈیوز نے پاکستان کی سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ڈارک ویب انٹرنیٹ کی ایک ایسی قسم ہے جس نے دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں پریشان کن تہلکہ مچایا ہوا ہے۔ ڈارک ویب اور انٹرنیٹ کا تاریخی جائزہ حیران کن حقائق لیے ہوئے ہے۔

آج کی دنیا کا سب سے موثر ہتھیار انٹر نیٹ ہے۔ انٹرنیٹ1991کے بعد سے کمرشل بنیادوں پر بتدریج دنیا بھر کی معیشت اور معاشرت کا ایک ایسا جزوبنا ،اب اس کے منفی اور مثبت پہلوئوں کے اثرات ہر معاشرت پر آشکار ہ ہو رہے ہیں ۔ بعض تجزیہ نگاروں کا یہ خیال بھی ہے کہ انٹرنیٹ یا Web Warایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔

وقت کی رفتار نے ثابت کیا ہے کہ جہاں ایک طرف انٹر نیٹ نے ابلاغ، طب اور اطلاعات کی رسائی کو ہر فرد تک پہنچا کر دنیا کو گلوبل معاشرت میں تبدیل کر دیا ہے، وہاں انٹرنیٹ نے انسانی معاشرت پر ایسے منفی اخلاقی اثرات مرتب کیے ہیں کہ روایتی ادب و احترام اور اخلاقی قدریں قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں۔

گزشتہ پندرہ سے بیس سال کے دوران پیدا ہونے والی نسل کو انٹر نیٹ کے بعدکی نسل یعنی “After internet generation”کا نام دیا گیا ہے۔ اس نسل کی سوچ سمجھ اور اطوار اس نسل سے کافی مختلف ہیں جو انٹر نیٹ عام ہونے سے پہلے معاشرت کا متحرک حصہ بنی۔ان دونوں نسلوں کے Generation Gap نے تیسری دنیا خاص طور پر پاکستان سمیت ایسے اسلامی ممالک جو دینی اقدار کو مقدم تر سمجھتے تھے کے لیے ایسے مسائل پیدا کیے ہیں کہ یہاں کی حکومتیں، دانشور اور معاشرتی اصلاح کے مبلغین اس چیلنج کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔

پاکستانی معاشرت انٹر نیٹ سے اطلاعات کے سیلاب کا مقابلہ کرنے میںتقریباً بے بس ہے۔ آج پاکستان کی تقریباًسو فی صدنوجوان نسل کے ہاتھ میں موبائل فون یا دوسرے ڈیجیٹل آلات ہیں جب کہ ستر فی صد سے زائد پرانی نسل بھی اس کی لت میں گرفتار ہو چکی ہے۔ قابل تشویش بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی معاشرت میں انٹر نیٹ کی ترویج سے پہلے عوام کو اس کے استعمال کے منفی اور مثبت پہلوئوں سے آگاہ نہ کیا جس وجہ سے معاشرتی برائیاں بڑھنے لگیں ان کی تفصیلات سے تقریباً ہر قاری پوری طرح واقف ہے۔ اس بحث میں پڑے بغیر آج میں کچھ ایسے حقائق پر گفتگو کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن کا ادراک پاکستان میں بہت کم لوگوں کو ہے۔

ابتدائی طور پر انٹر نیٹ کو امریکی آرمی نے پیغام رسانی کے لیے استعمال کرنا شروع کیا، بعد میں ایک واضح کنٹرول کے تابع امریکا اور پھر یورپ میںکمرشل بنیادوں پر اس کا آغاز ہوگیا، انٹر نیٹ کے مالی فوائد کو کثیر بنیادوں پر حاصل کرنے کے لیے WWW(ورلڈ وائیڈ ویب) کی ترویج ہوئی اور اس طرح دنیا انٹر نیٹ کے ذریعے ایک بین الاقوامی معاشرت بن گئی۔

جب ہر شخص کو انٹرنیٹ تک با آسانی رسائی ہوئی تو ’’اجتماعی دانش‘‘ نے انٹرنیٹ کو اچھائی اور برائی دونوں طرح کے ابلاغ کا ذریعہ بنانا شروع کر دیا۔ انٹر نیٹ کے اچھے اثرات تو کسی سے چھپے ہوئے نہیں لیکن انسانی ذہن کی شیطانی قوتوں نے انٹر نیٹ کو جس طرح استعمال کیا ہے اس پر پوری دنیا باالعموم اور اسلامی معاشرت باالخصوص انگشت بدندان ہے۔ انٹرنیٹ کا شیطانی عمل عام انسانی سوچ سے بہت بالا تر ہے۔

اس وقت دنیا بھر میںہم جتنے بھی سرچ انجن استعمال کر رہے ہیں، ان کا تناسب صرف چھ فی صد ہے جب کہ 94فی صد انٹر نیٹ منفی قوتوں کے ہاتھ میں ہے۔یہ قوتیں انٹر نیٹ کو Dark Net،Deep Wellیا ToRکے نام سے استعمال کر رہی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان نیٹ ورکس کو استعمال کرنے والے افراد یا ان نیٹ ورکس کو چلانے والے افراد کو ترقی پذیر ممالک تو کیا، امریکا اور یورپی ممالک کے صلاحیت کار بھی دریافت کرنے میںناکام ہو چکے ہیں۔ یہ شیطانی نیٹ ورکس پوری دنیا کے معاشروں میں خون کی ماند گھوم رہے ہیں۔

ڈارک نیٹ اور ڈیپ ویل کا نوے فی صد سے زائد مواد غیر اخلاقی و غیر قانونی ہے ۔اس کے باوجود اب تک یہ کسی کی بھی گرفت میں نہیں آ سکے ہیں۔ان نیٹ ورکس تک رسائی کے لیے عام سرچ انجن کے ذریعے “ToR”(The Onion Router)تک رسائی حاصل کی جاتی ہے، وہاں سے آپ “Duck Duck Goose”پر جائیں گے۔یہاں آپ کو فلٹر”Hidden Wiki”اورپھر اسپیشل ایریا پہنچایا جاتا ہے جہاں آپ کو cryptocurrencyیا Bitcoinکے ذریعے ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ کو ایک مخصوص کوڈ دیا جاتا ہے اور یوں آپ ایک گمنام دنیا (Virtual World)میں داخل ہو جاتے ہیں۔

اس دنیا میں آپ کوکمپیوٹر جرائم، غیر قانونی کاروبار،نیورو مارکیٹنگ، خواتین اور بچوں کے اغوا، ان سے زیادتی ، ان کی اسمگلنگ، انسانی گوشت اور اسلحے کی فروخت اور انسان کو تشدد سے نشانہ بنانے کی تربیت ،قتل و غارت، منشیات کے فروغ، پورنوگرافی اور انسانی معاشرت کی تباہی کے گُر بھی بتائے جاتے ہیں اس کے علاوہ ڈارک نیٹ پر دہشت گردی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

اس دنیا میں پہنچ کر آپ شناخت بتائے بغیر دنیا کے کسی بھی ملک یا حصے کے کسی بھی فرد یا معاشرت کو نقصان پہنچانے کے لیے مخصوص بلاگ کے ممبر بن کر اس شخص کو Traceکروانے اور نقصان پہنچانے کے لیے cryptocurrency کو استعمال کر کے اپنا ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔ اس عمل کو سر انجام دینے والوں کو Traceکرنا تقریبا نا ممکن ہے۔

ڈارک نیٹ تک رسائی حاصل کر کے TOR تک تو پہنچ جاتے ہیں۔ ToR پہنچنے کے بعد آپ کو کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے اس عمل کے دوران کوئی بھی چیزڈائون لوڈ کرنے کی کوشش کی تو آپ ٹریس ہو جائیں گے اور پھر حالات کی تمام تر ذمے داری آپ کی ہو گی جس میں آپ کی جان کو خطرہ سب سے پہلے ہو گا۔

ناسا کا ادارہ اب تک صرف ToRکی حد تک ڈارک نیٹ کو ٹریس کر سکا ہے، وہ ڈارک نیٹ کی ایک ویب تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے جو ڈارک نیٹ کا ایک فی صد حصہ بھی نہیں ہے۔ اس ویب کو بلاک کر دیا گیا ہے۔

وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اس حوالے سے ایک خصوصی سیل قائم کر کے”ڈارک نیٹ”کے شیطانی عمل سے پاکستانی معاشرت کو آیندہ ہونے والے نقصانات سے بچانے پر غو ر کرے۔ اگر انسان شیطانی خیالات اور عمل سے ڈارک نیٹ تشکیل دے سکتا ہے تو رحمانی خیالات اور عمل ان کو روکنے میں معاون ہوسکتے ہیں، شرط صرف یہ ہے کہ ہم اس بارے میں سنجیدہ ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔