جامعہ کراچی کا ایریا اسٹڈی سینٹر بے قاعدگیوں کا شکار

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 22 مارچ 2014
بورڈ آف گورنرز کا اجلاس نہیں ہورہا، قائم مقام ڈائریکٹر نے اشتہار منسوخ کرادیا۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

بورڈ آف گورنرز کا اجلاس نہیں ہورہا، قائم مقام ڈائریکٹر نے اشتہار منسوخ کرادیا۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

کراچی: جامعہ کراچی کی انتظامی نااہلی کے سبب ایریا اسٹڈی سینٹر برائے یورپ انتظامی بے قاعدگیوں سے دوچار ہے ایریا اسٹڈی سینٹر میں بورڈ آف گورنرزکے فیصلوں سے انحراف کیا جارہا ہے جبکہ بے قاعدگیوں کو چھپانے کیلیے بورڈ آف گورنرزکا اجلاس نہیں بلایا جارہا۔

شعبہ ایک سال سے زائد عرصے سے قائم مقام ڈائریکٹر کے ماتحت کام کررہاہے، تفصیلات کے مطابق 2 برس گزرنے کے باوجود ایریا اسٹڈی سینٹر برائے یورپ میں مستقل ڈائریکٹرکا تقرر نہیں ہوسکا ہے2 سال میں صرف ایک بار بورڈ آف گورنرزکا اجلاس ہوا جو پونے 2 سال قبل سابق ڈائریکٹر کے دور میں ہوا تھا موجودہ قائم مقام ڈائریکٹر نے انسٹیٹیوٹ کا چارج لینے کے بعد بورڈ آف گورنرزکا اجلاس نہیں بلایا ہے، قائم مقام ڈائریکٹرشپ جاری رکھنے کے لیے مستقل ڈائریکٹر کا تقرر نہیں کیا جارہا اس سلسلے میں ماضی میں دیاگیا اشتہار بھی منسوخ کردیا گیا ہے، یاد رہے کہ فروری 2012 میں سابق ڈائریکٹر نوین طاہر ریٹائر ہوگئی تھیں جس کے بعد اس وقت اسسٹنٹ پروفیسرعظمیٰ شجاعت کوقائم مقام ڈائریکٹر کاچارج دے دیاگیا جبکہ اسسٹنٹ پروفیسرکو ڈائریکٹرکے عہدے کاچارج نہیں دیا جاسکتا۔

کچھ عرصے بعد شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسرمونس احمر کو انسٹی ٹیوٹ کاقائم مقام ڈائریکٹر بنایا گیا جنھوں نے جون 2012 میں بورڈآف گورنرزکااجلاس منعقدکیا جس میں طے کیاگیاکہ فوری طورپر ڈائریکٹر اور سینئرریسرچ فیلوکی اسامیاں مشتہرکی جائیں گی اس فیصلے کے بعد اشتہار بھی جاری ہوا لیکن اسی دوران پروفیسرمونس احمرکے خلاف احتجاج شروع ہوا انتظامیہ نے انھیں عہدے سے ہٹادیا اورایک بارپھراسسٹنٹ پروفیسرعظمیٰ شجاعت کو عہدے کا چارج دیا گیا جنھوں نے قائم مقام ڈائریکٹرشپ کوطول دینے کے لیے چارج لیتے ہی بھرتی کا اشتہار منسوخ کرادیا اور نیا اشتہار دیا گیا جس میں ڈائریکٹرکاتذکرہ نہیں تھا اس طرح بورڈ آف گورنرز کے فیصلے سے انحراف کیا گیا اس تمام صورتحال سے یونیورسٹی انتظامیہ نہ صرف واقف ہے بلکہ نئے اشتہارکی اشاعت میں بھی اس کی منظوری لی گئی ہے، یونیورسٹی انتظامیہ بعض حلقوں کے دبائو پر بے بس ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔