فضل الرحمان کی ٹرانس جینڈر ایکٹ کی حمایت کی تردید

ویب ڈیسک  پير 3 اکتوبر 2022
ہمارے وکیل کامران مرتضیٰ سے متعلق خبریں حقائق کے منافی ہیں، سربراہ جے یو آئی

ہمارے وکیل کامران مرتضیٰ سے متعلق خبریں حقائق کے منافی ہیں، سربراہ جے یو آئی

ملتان: جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کی حمایت کی تردید کردی۔

ملتان میں مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وکیل سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں غلط ہیں، ٹرانس جینڈر ایکٹ میں بہت بڑے سقم کا سب جماعتوں نے اعتراف کرلیا ہے، شریعت اور معاشرتی اقدار کے حوالے سے اس قانون میں سقم ہے، ہم نے اس قانون میں جامع ترمیم جمع کرادی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک صحافی کی رپورٹ کی بنیاد پر خبریں چل رہی ہیں کہ ہمارے وکیل نے کہا کہ ہم نے یہ قانون پاس کیا تھا اور ووٹ دیا تھا، یہ خبریں غلط ہیں، ہم اس کی تردید کرتے ہیں، وکیل کامران مرتضیٰ سے متعلق خبریں حقائق کے منافی ہیں، غلط خبریں چلائی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی کا ٹرانس جینڈر ایکٹ کی حمایت کا اعتراف

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات اپنی جگہ کہ یہ بل کیسے پاس ہوا، اتنے عرصے میں اس پر اتنی توجہ کیوں نہیں دی گئی، آج انسانی حقوق کمیٹی میں زیر بحث آنے سے یہ دوبارہ اجاگر ہوا، ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اگر ہمارے کسی رکن کی اس میں کوتاہی ہوئی ہو تو اس کا ازالہ کریں، لیکن قانون کی منظوری کے وقت بھی جے یو آئی کی ایک رکن نے کہا تھا کہ یہ بل ہماری سمجھ میں نہیں آرہا، اسے کمیٹی میں بھیجو تاکہ ہم اسے سمجھ کر اس پر بات کریں لیکن ان کی اصولی بات نہیں مانی گئی، اور وہ بل پاس ہوگیا۔

فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ اس بل میں تھا کیا، لیکن اب اس کے مندرجات سامنے آئے ہیں، ہم پارلیمنٹ میں ہیں ہم اس کی اصلاح کرنے جارہے ہیں، اس کوتاہی کا ازالہ پارلیمانی رستے سے ہی ہوسکتا ہے، بندوقیں اٹھاکر اصلاح نہیں کررہے۔

یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ سینیٹ میں چیف وہب سلیم مانڈی والا نے کہا ہے اس حوالے سے الجھن ہے، آئین میں اسلام کیخلاف کوئی ترمیم نہیں ہوسکتی، غیر اسلامی ترمیم نہیں ہوسکتی، اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز بھی لی جائیں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔