اپنے لیے نہیں ٹیم کیلیے کھیلیں

سلیم خالق  منگل 4 اکتوبر 2022
آپ دیکھیں انگلینڈ کی وکٹیں گرتی رہیں مگر جو نیا بیٹر آتا وہ جارحانہ انداز ہی اپناتا اسی لیے ٹیم بڑا اسکور بنا لیتی۔ فوٹو : پی سی بی

آپ دیکھیں انگلینڈ کی وکٹیں گرتی رہیں مگر جو نیا بیٹر آتا وہ جارحانہ انداز ہی اپناتا اسی لیے ٹیم بڑا اسکور بنا لیتی۔ فوٹو : پی سی بی

دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کا منظر ہے، ہزاروں کی تعداد میں موجود بھارتی شائقین پاکستان سے اپنی شکست قریب دیکھ کر میچ ختم ہونے سے قبل ہی واپس جانے لگے،اس وقت پاکستانیوں کے چہروں پر موجود خوشی دیدنی تھی، مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشگوار احساس ہوا،البتہ میرے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ چند روز بعد ایسا ہوم گراؤنڈ پر ہماری ٹیم کے ساتھ بھی ہوگا۔

میں نے ٹی وی پر دیکھا اور لاہور کے دوستوں نے بھی بتایا کہ یقینی ناکامی کے پیش نظر ہزاروں افراد قبل از وقت ہی گھر واپس چلے گئے، اس سے بڑی شرمندگی کی بات کیا ہوگی مگر بدقسمتی سے ہمیں انگلینڈ کیخلاف سیریز میں اس رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، اگر میں ثقلین مشتاق کی زبان میں بات کروں تو یہ کھیل کا حصہ ہے کبھی آپ جیتتے تو کبھی ناکام رہتے ہیں، ہم ہار سے گھبراتے نہیں ہیں، گذشتہ سال ورلڈکپ کا سیمی فائنل گواہ ہے جب شکست کے باوجود شائقین اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے نظر آئے کیونکہ وہ لڑ کر ہاری تھی، بدقسمتی سے ابھی ایسا نہیں ہوا۔

انگلش ٹیم نے ہمیں آؤٹ کلاس کر دیا،زیادہ دور کیوں جائیں اسی سیریز کے دوسرے میچ میں بھی مہمان اسکواڈ نے 199رنز بنا لیے مگر بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ جوڑی نے 3 بالز قبل ہی ہدف تک رسائی دلا دی تھی،دراصل ہماری تمام تر توقعات اوپنرز سے وابستہ ہوتی ہیں، بدقسمتی سے ہماری مڈل آرڈر بیٹنگ کمزور ترین ہے، کبھی کبھارکوئی کچھ رنز بنا دے تو اگلے کئی میچز میں اسے ناکامی ہی ملتی ہے۔

نیٹ پر روز 150 چھکے لگاتا ہوں، ہور کوئی ساڈے لائق، اس قسم کی فضول ویڈیوز دباؤ مزید بڑھا دیتی ہیں، ہم کہتے رہ گئے کہ خوشدل شاہ،آصف علی،افتخار احمد اور حیدر علی تسلسل سے عمدہ پرفارم کرنے کے اہل نہیں ہیں مگر بورڈ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، اب یہ رمیز راجہ کی انا کا مسئلہ بن گیا ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں کرنی،اس لیے دعا کریں رضوان اور بابر اسکور کرتے رہیں ورنہ بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی جھلک ہم لاہور میں دیکھ چکے ہیں، شان مسعود کیلیے ہم سب نے بڑی آواز اٹھائی لیکن آخری میچ میں خوشدل کی طرح ان کا انداز بھی دفاعی تھا، پلیئرز کو اپنے نہیں ٹیم کیلیے سوچنا چاہیے۔

یقین مانیے یہی کھلاڑی اگر فتح کیلیے کوشش کرتے اور جارحانہ شاٹس کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو جاتے تو شائقین اتنے ناراض نہ ہوتے جتنے اب ہیں،اوپنرز کے آؤٹ ہونے پر کسی نے جیت کیلیے کوشش ہی نہیں کی، ایسا اسکور کسی کام کا نہیں جس سے ٹیم کو کوئی فائدہ نہ ہو، خود غرضانہ اپروچ خطرناک ہے، ٹیم مینجمنٹ کو بھی کھلاڑیوں کا عدم تحفظ ختم کرنا چاہیے ورنہ وہ ایسے ہی اپنی پوزیشن بچانے کیلیے کھیلتے رہیں گے۔

آپ دیکھیں انگلینڈ کی وکٹیں گرتی رہیں مگر جو نیا بیٹر آتا وہ جارحانہ انداز ہی اپناتا اسی لیے ٹیم بڑا اسکور بنا لیتی، ہم تو 20اوورز کے میچز میں اکثر 5،6اوورز ڈاٹ بالز سے ضائع کر دیتے ہیں، ربڑ اسٹیمپ چیف سلیکٹر کو کچھ کھلاڑیوں کے نام کپتان سے مل جاتے ہیں، چیئرمین جس کی تعریف کریں محمد حارث کی طرح وہ بھی ٹیم میں آ جاتا ہے، اپنے استادوں کے کہنے پر بھی وہ 1،2 پلیئرز کو شامل کر لیتے ہیں، میرٹ کو دیکھا جاتا تو ٹیم کا یہ حال نہیں ہوتا، کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ میرٹ پر بطور ریزرو وکٹ کیپر سرفراز احمد کا انتخاب نہیں ہوگا، یا شعیب ملک اور عماد وسیم جیسے آل راؤنڈرز کو نہیں کھلایا جائے گا؟ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ ذاتی پسند ناپسند کا معاملہ ہے۔

رمیز راجہ اپنی ذاتی تشہیر اور پی آر بنانے میں زیادہ مصروف نظر آئے، بطور یوٹیوبر وہ بڑی بڑی باتیں کیا کرتے تھے اب بہتری لانے کا موقع ملا تو کچھ نہ کر پائے ،آخری میچ کے بعد اپنی تقریر میں انھوں نے یہ کہہ کر جلتی پر تیل چھڑک دیا کہ ’’17 سال بعد انگلش ٹیم پاکستان آئی ہے بغیر ٹرافی کے خالی ہاتھ کیسے جانے دیتے‘‘ مذاق بھی ماحول دیکھ کر کیا جاتا ہے،پہلے وہ جارحانہ کرکٹ کا سبق پڑھایا کرتے تھے اب دفاعی کھیل کا دفاع کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق دن رات، صبح شام کی بقراطی جھاڑتے رہے، بیٹنگ کوچ محمد یوسف کیلیے ٹی وی پر بیٹھ کر تنقید کرنا ہی درست ہے کوچنگ ان کے بس کی بات نہیں ہے،ضروری نہیں کہ عظیم کرکٹر اچھا کوچ بھی ہو،بولنگ کوچ شان ٹیٹ کے ساتھ میڈیا منیجر کا رویہ توہین آمیز تھا، کوئی اور ملک ہوتا تو ایک سابق غیرملکی اسٹار کرکٹر سے اس بدتمیزی پر انھیں برطرف کر دیتا مگر پاکستان کرکٹ بورڈ میں آ کر تو ہر کوئی ایروگینٹ ہو جاتا ہے۔

ٹیٹ نے درست ہی تو کہا تھا کہ ’’جب بْری طرح ہاریں تو مجھے میڈیا کانفرنس میں بھیج دیتے ہیں‘‘۔جب پاکستان نے 166 اور145 رنز کا دفاع کیا تو ٹیٹ کو کیوں نہیں بھیجا تھا؟ اس واقعے کی خبریں غیرملکی ویب سائٹس پر بھی آئیں اور ہمارا خراب تاثر سامنے آیا کہ ایک جونیئر لیول کا آفیشل بھی کوچز کی عزت نہیں کرتا، ہمارا پیس اٹیک شاہین شاہ آفریدی کے بغیر ادھورا ہے، البتہ حارث رؤف نے عمدگی سے ذمہ داری سنبھالی،محمد وسیم جونیئر ،شاہنواز دھانی اور محمد حسنین وغیرہ کو بھی اپنی افادیت ثابت کرنا ہوگی،دھانی اپنی ترجیحات کا تعین کریں، ایکٹنگ کرنی ہے یا اچھا بولر بننا ہے فیصلہ خود کرلیں،اگر کارکردگی اچھی نہ ہو تو جو لوگ ابھی آگے پیچھے گھوم رہے ہیں وہ نظر بھی نہیں آئیں گے، فیلڈنگ کے شعبے میں بھی بہت بہتری کی ضرورت ہے۔

اگر حقیقت پسندانہ بات کریں تو ورلڈکپ میں اس ٹیم سے زیادہ امیدیں نہیں رکھیے گا ورنہ مایوسی ہوگی،آپ کے چیئرمین کی تمام تر توجہ جونیئر لیگ جیسے ڈیڈ پروجیکٹ پر ہے جس پر پانی کی طرح بورڈ کا پیسہ بہایا جا رہا ہے،حکومت کو بڑے مسائل سے فرصت ملے تو کرکٹ کی جانب دیکھے، اس وقت تو آوے کا آوا ہی بگڑا نظر آ رہا ہے بس دعا ہی کرنی چاہیے کہ ورلڈکپ میں کوئی معجزہ ہو جائے ورنہ آثار کچھ اچھے نہیں لگ رہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔