بجلی کا طویل بریک ڈاؤن؛ بنگلادیش تاریکی میں ڈوب گیا

ویب ڈیسک  منگل 4 اکتوبر 2022
بنگلادیش میں 14 کروڑ افراد بجلی سے محروم ہوگئے، فوٹو: فائل

بنگلادیش میں 14 کروڑ افراد بجلی سے محروم ہوگئے، فوٹو: فائل

ڈھاکا: بنگلادیش کے دارالحکومت سمیت تمام بڑے شہر اچانک تاریکی میں ڈوب گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بجلی پیدا کرنے کی استعداد میں کمی کے نتیجے میں تمام پاور پلانٹس ٹرپ کرگئے جس سے 14 کروڑ کی آبادی بجلی سے محروم ہوگئی ہے۔

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی بریک ڈاؤن کی وجہ نیشنل پاور گرڈ میں خرابی ہوسکتی ہے جب کہ ملک کے مشرقی حصے کی ٹرانسمیشن لائن میں بھی خرابی پیدا ہوئی۔

یہ خبر پڑھیں : بنگلادیش؛ پٹرولیم مصنوعات میں 52 فیصد اضافے پر ہنگامے پھوٹ پڑے

حکومت کی جانب سے ڈیزل کے پاور پلانٹس بند کرنے کے فیصلے کی وجہ سے بنگلادیش کو پہلے ہی 1500 میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کے سبب دارالحکومت سمیت تقریباً تمام ہی بڑے شہر تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں جب کہ پہلے ہی متعدد علاقوں میں 15 سے 20 گھنٹے  کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

قبل ازیں بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے بنگلادیش میں اسکول اور سرکاری دفاتر میں ہفتہ وار 3 دن چھٹیوں اور اوقات کار میں کمی کی گئی تھی۔ اسی طرح بینک بھی 10 سے 6 کے بجائے 9 سے 4 بجے تک کھلے رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : بجلی کا بحران؛ بنگلادیش کا اسکول اور دفتری اوقات کار میں کمی کا فیصلہ 

خیال رہے کہ درآمدی لاگت میں کمی لانے کے لیے حکومت نے ڈیزل پر چلنے والے تمام پاور پلانٹس بند کردیئے تھے جس سے پہلے ہی بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ معاشی مشکلات کو دور کرنے کے لیے بنگلادیش کی حکومت نے آئی ایم ایف کو بھی قرض پروگرام  شروع کرنے کی درخواست دی ہے جس پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔