کیپ خطرہ اوئے

سعد اللہ جان برق  بدھ 5 اکتوبر 2022
barq@email.com

[email protected]

چند مشہورومعروف فقرے اورالفاظ ہمارے ہاں اکثرگونجنے رہتے ہیں، جیسے ہم کہاں کھڑے ہیں یا بیٹھے ہیں یا لیٹے ہیں ، ان ہی میں ایک فقرہ ہے،یہ وقت سیاست کا نہیں، ملک کو بچانے کا ہے ۔

یادش بخیر حضرت علامہ ڈاکٹرپروفیسر طاہر القادری نے بھی جب اسلام آباد پر ’’کنٹینرمارچ اور دھرنا‘‘ کیاتھا تو یہی بولاتھا کہ وہ سیاست نہیں کرتے بلکہ ریاست بچانے آئے ہیں، اب تو بہت عرصہ ہوا ہے، موصوف خاموش ہیں، شاید ’’چپ شاہ‘‘ کاروزہ رکھا ہوا ہو یا کینیڈا میں اسلام پھیلانے میں کچھ زیادہ مصروف ہوگئے ہوں۔لیکن اس فقرے کی گونج یہاں وہاں سے سنائی دینے لگی، یہ وقت سیاست کا نہیں ریاست بچانے کاہے حالانکہ ایک اطلاع کے مطابق ’’ریاست مدینہ‘‘ بن جانے کے بعد خطرے کاخطرہ نہیں ہوناچاہیے۔

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہواکرے

وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خداکرے

اس سلسلے میں لوگ خطرے کی بات کرتے رہتے ہیں لیکن خطرے کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا کہ ملک کو خطرہ کس سے ہے یاکس جانب سے ہے اوروہ خطرہ کتنا بڑا اورکیسا ہے ۔

ہم نے بہت سارے لوگوں کے بیانات غور سے پڑھے ،دانا دانشورں کے کالموں میں ڈھونڈا لیکن خطرے کاذکر تو ہوتا ہے لیکن کوئی بھی یہ نہیں بتاتاکہ خطرہ ہے کیا، کہاں سے ہے اورکس سے ہے اورظاہر ہے کہ جب خطرے کے ویئر اباوٹ کا پتہ نہ ہو تو بچنایا بچاناممکن نہیں ہوتا۔

کہتے ہیں کہ ایک شخص حجام کی دکان میں بیٹھاتھا، حجام اس کے بال بنارہاتھا کہ اتنے میں باہرسے آوازآئی گل محمد تمہارے گھر کو آگ لگی ہوئی ہے، وہ شخص  سارے کپڑے جو حجام نے اس کے گرد لپیٹے تھے، ادھر ادھر گراکر دوڑ پڑا ، تھوڑی دیر دوڑتے رہنے کے بعد وہ رک گیا اوربولنے لگا مگرمیرا نام تو گل محمد ہے ہی نہیں۔

پشتو اور پنجابی میں اس کاذکریوں ہے کہ کسی کوکسی نے کہاکہ کتا تمہاراکان لے گیا،اوراپنا کان دیکھے بغیرکتے کے پیچھے دوڑ پڑا۔ہم نے بھی سوچا کہ لوگ ملک کے لیے خطرہ تو بتاتے ہیں، ملک بچانے کے لیے دوڑتے بھی ہیں لیکن یہ کوئی نہیں بتاتاکہ خطرہ کیاہے، کہاں ہے اورکس طرف سے ہے ۔

سنا ہے یہ کہ ان کی بھی کمرہے

کہاں ہے کس طرف ہے اورکدھرہے

تب ہم نے سوچا کہ خود ہی تحقیق کرکے اس خطرے کاپتہ لگائیں جس کا ہروقت ذکر ہوتارہتا ہے۔ تحقیق کا ٹٹو پہلے ہم نے شمال مغرب کی طرف دوڑایا، وہاں افغانستان بیچارا خود ہی اپنے خون پسینے میں ڈوبا ہوا بے سد پڑا ہے تو وہ کسی اورکے لیے کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟ ایران تو ہمارا جنم جنم کادوست ہے۔

اس سے ہمیشہ کا بھائی چارہ رہاہے، درمیان میں کوئی جھگڑا بھی نہیں ہے اورنہ ہی کوئی آثارایسے نظر آتے ہیں کہ ہمیں اس سے خطرہ ہو،رہاچین تو اس کے ساتھ توہماری چینی بلکہ شہد سے بھی زیادہ میٹھی دوستی ہے، ہرآڑے وقت میں ہمارے کام آتاہے ۔ہاں یہ مشرق کی طرف جو موذی ہے، اس سے خطرہ ہوسکتاہے لیکن وہ بھی ہمارے بازوآزمائے ہوئے ہے جب بھی اس نے کچھ شرارت کرنے کی کوشش کی، ہماری طرف سے اینٹ کاجواب پتھر سے ملاہے۔

اس لیے وہ بھی کسی حماقت کا نہیں سوچے گا، ویسے بھی پاکستان کی جو حالت ہے، کوئی پاگل ہی ہوگا جو اس پر قبضہ کرے گا ،قرضوں کاانبار، ہائی فائی غربت، ہوشربامہنگائی ، دہشت گردی، جرائم مطلب یہ کہ باہرسے تو کوئی بھی خطرہ ہمیں دکھائی نہیں دیاہے۔ گویاخطرہ اگر ہے تو وہ اندر سے ہے اوراندر عوام تو خطرہ ہونہیں سکتے کہ خود عوام ہی تو ’’ملک ‘‘ ہے تو کوئی خود اپنے لیے خطرہ کیسے بن سکتاہے۔ ہرطرف سے ہرقسم کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ خطرہ لیڈروں سے ہے کیوں کہ وہ جو کچھ کرتے رہے ہیں، وہ ہمارے سامنے ہے جو سراسردشمنی کے سوا اورکچھ نہیں ہے۔

اب ان اندرونی دشمنوں اور خطرے کاسدباب کرنے کے لیے ایک ہی چارہ رہ جاتاہے کہ اگر صبح، دوپہر،شام نہیں تو کم ازکم ایک وقت تو ایک لیڈرکو ’’اوئے‘‘کرناچاہیے۔

ایک انگریزی کہاوت ہے، ون ایپل فاردا ڈے،کیپ ڈاکٹر اوے۔اس کہاوت میں اگرتھوڑی سی ترمیم کرکے یوں کردیاجائے تو خطرہ کم ہوسکتا۔ ون لیڈرفارداڈے ،کیپ خطرہ اوئے۔۔

اگرعوام جلد سے جلد اس پر عمل پیراہوجائیں اورروزانہ ایک لیڈرکو بھی ’’کیفرکردار‘‘ تک پہنچائیں تو بہت کم عرصے میں ہم ملک کو ’’خطروں‘‘ سے بچاسکتے ہیں، اگرچہ یہ بظاہرآسان نظرآنے والا کام حقیقت میں بہت مشکل ہے کیوں کہ سناہے یہ لیڈرلوگ بچپن میں بلی کادودھ پیتے ہیں اوربلی کی نوجانیں ہوتی ہیں ۔

ویسے ایک اورآسان طریقہ بھی ان ’’خطروں‘‘ سے بچنے کاہے، یہ سب کچھ عوام ہی کے بل پر کرتے ہیں اوراگر عوام ان کو صرف ووٹ دینے سے انکار کردیں تو یہ تڑپ تڑپ کرخودہی فناہوجائیں ۔

لیڈرفارداڈے،کیپ’’خطرہ‘‘اوئے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔