پاکستان کی کمزور مڈل آرڈر پر مدثر نذر کو تشویش

سلیم خالق  بدھ 5 اکتوبر 2022
شعیب کو شامل کریں، پرفارمنس میں تسلسل نہ ہوتو کھلاڑی اپنے لیے کھیلتے ہیں(فوٹو: ایکسپریس ویب)

شعیب کو شامل کریں، پرفارمنس میں تسلسل نہ ہوتو کھلاڑی اپنے لیے کھیلتے ہیں(فوٹو: ایکسپریس ویب)

ورلڈکپ کیلیے پاکستان کی کمزور مڈل آرڈر پر سابق ہیڈکوچ مدثر نذر نے تشویش کا اظہار کردیا۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pkکو خصوصی انٹرویو میں مدثر نذر نے کہا کہ گرین شرٹس نے دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ اچھا مقابلہ کرتے ہوئے 3 میچز جیتے، دوسری جانب انگلینڈ نے 1،2کھلاڑیوں کو چھوڑ کر اپنی مضبوط ٹیم میدان میں اتاری جس میں ہر شعبے کی ضرورت کے مطابق کھلاڑی موجود تھے۔

مدثر نذر نے کہا کہ ہماری ٹیم صرف 3یا 4کھلاڑیوں پر انحصار کررہی تھی،بڑی کمزوری مڈل آرڈر کی رہی جس سے پاکستان کیلیے مسائل پیدا ہوئے،اس حوالے سے آوازیں بھی اٹھتی رہیں کہ واضح خلا نظر آرہے ہیں مگر سلیکٹرز ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہی بیٹرز کو کھلانے پر بضد رہے۔

انھوں نے کہا کہ گرین شرٹس کا فارمیٹ یہ تھا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان 13اوورز تک کھیلیں اور آخر میں مار دھاڑ سے ٹیم اچھا ہدف دینے میں کامیاب ہوگی مگر ایسا ممکن نہیں ہوا،انگلینڈ کیخلاف آخری ٹی ٹوئنٹی میں یہی چیز دیکھنے میں آئی جس انداز میں پاکستان ٹیم کھیل رہی ہے مڈل آرڈر میں شعیب ملک کو شامل کرنا بہتر ہوگا،وہ جانتے ہیں کہ اننگز کے آخر میں کس انداز میں بیٹنگ کی جاسکتی ہے،فرنچائز کرکٹ میں وہ اس کا مظاہرہ بھی کرتے رہے ہیں،اگر کہا جائے تو شعیب ملک کا آسٹریلیا میں ریکارڈ اچھا نہیں تو صہیب مقصود جیسا کوئی لے آئیں،فخرزمان کو اوپنر بھیجیں،بابر اعظم اور محمد رضوان میں سے کوئی ایک تیسرے نمبر پر آجائے۔

مزید پڑھیں: دیگر ٹاپ ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان سے ایک قدم آگے ہیں،چیف سلیکٹر

مدثر نذر نے کہا کہ شان مسعود نے 2ففٹیز بنائیں مگر بیٹنگ آرڈر میں ردوبدل کے سبب ان کو خود سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کریں،آسٹریلیا میں گیند باؤنس ہوگی،ہر ٹیم حریفوں کا تجریہ کرتی ہیں۔

انھوں نے پاکستان کی حالیہ پرفارمنس دیکھ لی ہوگی،ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمارے بیٹرز شارٹ گیندوں پر جدوجہد کرتے ہیں،اگر ابتدائی وکٹیں جلد گر گئیں تو ٹیم 150سے زائد کا اسکور نہیں کرپائے گی،70یا 80تک محدود رہنے کا خدشہ موجود رہے گا۔

ایک سوال پر مدثر نذر نے کہا کہ پرفارمنس میں تسلسل نہ ہوتو کھلاڑی اپنے لیے کھیلتے ہیں،کپتان اور کوچز کا کام ہوتا ہے کہ ان کو حوصلہ اور اعتماد دیں تاکہ نکالے جانے کا خوف نہ ہو، اس کیلیے تکنیک کا درست ہونا بھی ضروری ہے، ہمارا تو انحصار ہی بابر اعظم اور محمد رضوان پر ہے، اللہ کرے ورلڈکپ میں دونوں فارم میں رہیں۔

فی الحال پاکستان ٹیم ورلڈکپ کاسیمی فائنل کھیلتی نظر نہیں آرہی

مدثر نذر نے کہا کہ پاکستانی پیسرز کے پاس اسپیڈ کا قدرتی ہتھیار موجود ہے مگر انگلش بولرز نے پاکستانی کنڈیشنز کا بہتر استعمال کیا،ہمارے پیسرز بھی اس معیار تک پہنچ سکتے ہیں مگر درست رہنمائی کرنے والا بولنگ کوچ ہونا چاہیے، خامیاں سامنے آرہی ہیں مگر ان کو دور کیا جاسکتا ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ فی الحال پاکستان ٹیم سیمی فائنل کھیلتی نظر نہیں آرہی مگر کوئی نہیں جانتا کہ پرفارم کرجائے، اوپنرز ہی اتنی اچھی فارم میں ہوں کہ اچھی بنیاد بنتی رہے، دیگر ٹیموں کی 2وکٹیں گر جائیں تو وہ پرواہ نہیں کرتیں،یہی ٹی ٹوئنٹی کی خوبصورتی ہے مگر ہمارے پاس ہیری بروک،معین علی اور بین ڈکٹ جیسے بیٹرز نہیں ہیں،نمبر 3،4،5اور 6کی وجہ سے ہم میچز ہارے ہیں۔

پاکستان بھارت کو ہرا سکتا ہےبمرا کے نہ ہونے کا فائدہ ہوگا

مدثر نذر نے کہا کہ بھارتی ٹیم مضبوط مگر پاکستان کے ہاتھوں تھوڑی پریشان بھی ہوئی ہے، گذشتہ ایونٹس میں گرین شرٹس نے ان سے اچھا مقابلہ کیا،مسلسل ہارنے کی روایت بھی اب ٹوٹ چکی، سراج اچھے بولر ہیں مگر بمرا کی غیر موجودگی کا بھی پاکستان کو فائدہ ہوگا، امید ہے کہ گرین شرٹس میچ میں فتح حاصل کرینگے۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈکپ بطور ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کیلیے بھی اہم ہے، اگر گرین شرٹس کی کارکردگی اچھی رہتی ہے تو بہتر دوسری صورت میں ان کیلیے بھی مشکلات ہوں گی۔

کم عمری میں ہی تینوں فارمیٹ کی قیادت،بابرکے ساتھ ناانصافی ہوئی

مدثر نذر نے کہا کہ بابر اعظم کو کم عمری میں ہی تینوں فارمیٹ میں قیادت سونپ دی گئی، ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے،میچ جیت جائیں تو بہتر دوسری صورت میں سارا دبائو کپتان پر آتا ہے،اسی پریشر میں انھوں نے انگلینڈ کیخلاف آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں کیچز ڈراپ کیے، وہ بہترین فیلڈر ہیں مگر یہ سب کچھ دبائو میں ہوا،بابر اعظم ایک ورلڈکلاس بیٹر ہیں مگر کپتانی کی وجہ سے اگر ان کی فارم خراب ہوجاتی ہے تو پاکستان ٹیم کا بھاری نقصان ہوگا،میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ان سے ٹی ٹوئنٹی کی قیادت واپس لے لیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔