کیپٹو پاور یا عوام؛ اہمیت کس کی ہے؟

راجہ کامران  جمعرات 6 اکتوبر 2022
گھروں پر کھانا پکانے کےلیے بھی گیس دستیاب نہیں۔ (فوٹو: فائل)

گھروں پر کھانا پکانے کےلیے بھی گیس دستیاب نہیں۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان میں ایک وقت تھا کہ قدرتی گیس اس قدر وافر دستیاب تھی کہ وہ ماچس کی تیلی سے بھی سستی پڑتی تھی۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں گھریلو استعمال کےلیے قدرتی گیس پائپ لائن کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی گیس کی طلب میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی فلیڈز سے پیداوار میں کمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دسمبر میں سابقہ وزیر پٹرولیم حماد اظہر کی دی گئی بریفنگ کے مطابق سالانہ مقامی گیس کے ذخائر میں 9 فیصد کی شرح سے کمی ہورہی ہے۔

گیس کی قلت جیسے جیسے بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے کراچی شہر میں صنعتوں کے درمیان تنازعہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ شہر کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت بعض صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس چلانے کےلیے گیس سستے داموں فروخت کررہی ہے، جبکہ انہیں مہنگی گیس مل رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ایک جیسی مصنوعات بنانے والی صنعتوں میں سے ایک کو گیس کم قیمت پر فراہم کرنے اور دوسری کو مہنگی بجلی فراہم کرنے کی وجہ سے عدم مسابقت پیدا ہورہی ہے۔

ماضی میں گرڈ کے ذریعے بجلی کی مستحکم اور مستقل فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے بڑی صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس لگانے کی اجازت دی۔ کیپٹو پاور یونٹس صنعتی اور تجارتی مقاصد کےلیے لگائے گئے چھوٹے بجلی گھر ہوتے ہیں۔ جو کہ اکثر گرڈ سے منسلک نہیں ہوتے۔ دستیاب ڈیٹا کے مطابق سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے مجموعی طور پر 1211 کیپٹو پاور یونٹس کو کنکشن دیے ہوئے ہیں۔ اور یومیہ 415 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جاتی ہے۔ جس میں سے 610 برآمدی یونٹس شامل ہیں، جبکہ 601 غیر برآمدی یونٹس ہیں۔ صرف سوئی سدرن کے نیٹ ورک پر موجود پاور پلانٹس کو 210 ایم ایم سی ایف ڈی گیس 857 روپے کی سبسڈی کے ساتھ فراہم کی جارہی ہے۔

گیس کی قلت کا یہ عالم ہوگیا ہے کہ اب تو گھروں پر بھی کھانا پکانے کےلیے گیس دستیاب نہیں۔ اور مستقبل قریب میں بھی گیس کی کسی بڑی دریافت کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ گیس کو اس ذریعے کی جانب منتقل کیا جائے جہاں وہ زیادہ بہتر طریقے سے استعمال ہوسکے۔

کراچی کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتی انجمنوں نے چند ہفتے قبل کراچی پریس کلب میں میڈیا بریفنگ دی، جس میں فیڈرل بی ایریا، بن قاسم، سرجانی، اسٹیل پروڈیوسرز، گاڑیوں کے پرزہ جات بنانے والے، ٹینری اور برف کے کارخانوں والوں نے مشترکہ موقف پیش کیا۔ ان صنعت کاروں کا کہنا تھا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کو کیپٹو پاور پلانٹس کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنا چاہیے کیونکہ وہ بڑے اور پیسے والے صنعت کاروں کو 857 روپے اور 1086 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر گیس فراہم کررہی ہے۔ جس سے پوری صنعت کو فائدہ پہنچنے کے بجائے چند بااثر افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جو کہ اس سستی گیس سے 13 روپے فی کلو واٹ پر بجلی تیار کررہے ہیں اور اس بجلی پر کسی قسم کا ٹیکس بھی عائد نہیں ہوتا۔ جبکہ وہ گرڈ سے بجلی لینے کی وجہ سے مہنگے داموں بجلی کی خریداری کررہے ہیں اور انہیں بجلی کا ایک یونٹ 50 روپے میں پڑ رہا ہے۔ اس طرح امیر صنعت کاروں کو 37 روپے فی یونٹ کی بچت ہورہی ہے۔ اس سستی اور سبسڈی والی بجلی کی وجہ سے بڑے صنعت کاروں کی بنائی گئی مصنوعات سستی ہیں اور عدم مسابقت پیدا ہورہی ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ کیپٹو پاور یونٹس کی پیداواری صلاحیت 30 فیصد یا اس سے کم ہے۔ اور ان سے نکلنے والی ہیٹ یعنی گرمی کو دوبارہ استعمال کرنے کےلیے بھی صنعتوں نے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ جس سے ایندھن کا درست استعمال بھی نہیں ہورہا۔

کیپٹو پاور یونٹس کو گیس کی سستی فراہمی پر صنعت کاروں کے علاوہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بھی میدان میں آگئی ہے۔ وزیراعظم کو لکھے گئے ایک مکتوب میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چیئرپرسن یاسمین لاری اور وائس جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال نے لکھا ہے کہ حکومت نے گیس کی فراہمی کے حوالے سے 2018 میں ایک پالیسی مرتب کی تھی اور اس بات کا تعین کیا تھا کہ گیس کس ترجیح پر فراہم کی جائے گی۔ اس ترجیحی فہرست میں بجلی کا پیداواری شعبہ دوسرے نمبر پر تھا۔ مگر سوئی سدرن گیس کمپنی نے نہ تو کابینہ سے منظوری لی اور نہ ہی اس نے حکومت سے منظوری لی، بلکہ ازخود ہی کیپٹو پاور پلانٹس کو تیسری ترجیح سے اٹھا کر دوسری بنادیا ہے اور بجلی کے پیداواری یونٹس کو تیسری ترجیح پر ڈال دیا ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے اس اقدام سے کراچی کے شہریوں کو بڑے پیمانے پر مہنگی بجلی فراہم ہورہی ہے۔ کیونکہ سوئی سدرن کے الیکٹرک کو بجلی کی تیاری کےلیے 70 ایم ایم سی ایف ڈی، درآمدی آر ایل این جی گیس فراہم کررہی ہے، جس کی قیمت 4656 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔ یعنی چند صنعتوں کو گیس 857 روپے اور عوام کی ضروریات کےلیے گیس 3799 روپے مہنگی مل رہی ہے۔

مکتوب میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت اپنی 2018 کی گیس کی پالیسی پر عملدرآمد کرے تو اس سے کراچی کے شہریوں کو فوری طور پر فائدہ ہوسکتا ہے۔ اور انہیں مہنگی گیس کی وجہ سے جو بھاری ایف سی اے کی مد مین 131 ارب روپے اضافی دینا پڑ رہے ہیں، وہ اس سے بچ سکتے ہیں۔ گھریلو صارفین کو جو بجلی کا یونٹ 35 روپے میں مل رہا ہے، وہ 17 روپے تک آسکتا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک طرف کراچی کی صنعتوں کو سستی گیس دی جارہی ہے تو دوسری طرف پنجاب کی صنعتوں کو گیس 9 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو گیس فراہم کی جارہی ہے جوکہ 1980 روپے ہے۔ جس سے بھی صنعتوں میں عدم مسابقت پیدا ہورہی ہے۔

کیپٹو پاور پلانٹس کو سبسڈی پر گیس فراہم کرنے کے حوالے سے سوئی سدرن گیس کمپنی کی چیئرپرسن اور سابقہ نگران وفاقی وزیر خزانہ سابقہ گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر بھی تحفظات کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چند صنعتوں کو بھاری سبسڈی پر گیس فراہم کرنے سے ملک میں عدم مسابقت پیدا ہوتی ہے اور صنعتوں میں توانائی کے استعمال میں بچت اور نتوع لانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ حکومت کو صنعتوں کےلیے لگائے گئے گرڈز کی غیر استعمال شدہ گنجائش کی ادائیگی بھی کرنا پڑتی ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ اگر صنعتوں کو متبادل توانائی پر متنقل کرنا ہے تو پھر انہیں کیپٹو پاور یونٹس پر سبسڈی کو ختم کرنا ہوگا اور تمام صنعتوں کو برابری کی سطح پر توانائی فراہمی کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

ملک میں اس وقت مہنگائی کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔ اگر انہیں ریلیف دینے کےلیے مقامی گیس بجلی کے پیداواری یونٹس کو فراہم کی جائے تو یہ مہنگا سودا نہیں ہوگا۔ اس عمل سے نہ صرف شہری بھاری ایف سی اے سے محفوظ رہیں گے بلکہ مہنگی درآمدی ایل این جی کا استعمال بھی کم ہوگا۔ اور سب سے اہم بات صنعتیں متبادل توانائی پر منتقل ہونے کی کوشش بھی کریں گی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راجہ کامران

راجہ کامران

بلاگر سینئر اکانومی جرنلسٹ ہیں۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہی۔ ان سے ٹوئٹر ہینڈل @rajajournalist پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔