شراب کا پرمٹ اور اقلیتیں

جاوید نذیر  جمعـء 7 اکتوبر 2022
کوئی بھی مذہب اپنے پیروکاروں کو شراب پینے کی اجازت نہیں دیتا۔ (فوٹو: فائل)

کوئی بھی مذہب اپنے پیروکاروں کو شراب پینے کی اجازت نہیں دیتا۔ (فوٹو: فائل)

حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے نے حکومت اور اقلیتی سیاسی ارکان کے درمیان اقلیتوں کو شراب کی اجازت کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر پرانی بحث کو تازہ کردیا ہے۔

حالیہ واقعے میں حکومتی وزیر راجہ بشارت نے صوبائی اسمبلی میں شراب کی اجازت کو اقلیتوں سے منسوب کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’وفاقی حکومت ٹیکس میں شراب کے پیسے کا ٹیکس حرام کے قطرے کی شکل میں شامل کررہی ہے‘‘۔

اسمبلی میں موجود ن لیگ کے سابق وزیر خلیل طاہر سندھو اور طارق مسیح گل نے راجہ بشارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ اب وقت آچکا ہے اقلیتوں کو شراب کے حصول کی اجازت ختم کی جائے اور اُن کے پرمٹ فوری طور پر منسوخ کیے جائیں۔

اقلیتوں کو شراب کی اجازت اور پرمٹ کے حصول کی بحث نئی نہیں ہے۔ ماضی میں سابق اقلیتی ممبر قومی اسمبلی ایم پی بھنڈارہ کے متعلق بھی اسی طرح کے الفاظ کہے جاتے رہے کہ ان کی رکنیت منسوخ کی جائے، کیونکہ یہ شراب بناتے ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ایم پی بھنڈارہ نے کہا تھا کہ میں تو مشروب بناتا ہوں اور اگر آپ میری رکنیت ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو پھر اسمبلی میں بیشتر ارکان کی رکنیت ختم کرنا پڑے گی، کیونکہ وہ مشروب اسمبلی کے ارکان کی اکثریت پیتی ہے۔

یہ بحث ایک عرصے سے چلی آرہی ہے کہ اقلیتوں کو ہی شراب کے حصول کے پرمٹ کیوں دیے جاتے ہیں؟ اقلیتیں سمجھتی ہیں کہ کوئی بھی مذہب اپنے پیروکاروں کو شراب پینے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی ان کی مقدس کتابوں میں ایسا لکھا گیا ہے تو پھر اس ضمن میں اقلیتوں کے حوالے سے ایسا فرض کیوں کرلیا گیا ہے؟ اگر آپ مجبوری میں اپنے غیرملکی سفارت خانوں کو شراب فراہم کرنا چاہتے ہیں تو اس کےلیے کوئی اور طریقہ وضع کریں، اس کو مذہب سے جوڑتے ہوئے ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو اس کلنک کے ٹیکے سے بری الذمہ کریں۔ اس حوالے سے چند سال قبل کراچی میں مسیحیوں کی ایک تنظیم کرسچن ایسوسی ایشن نے باقاعدہ طور پر کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کی اور جلوس بھی نکالا کہ اقلیتوں کے گلے سے بدنامی کے اس طوق کو اتارا جائے۔

اس معاملے پر جب کچھ مذہبی رہنماؤں سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا مذہب اس کی اجازت بالکل نہیں دیتا بلکہ وہ تو اس کی شدید مخالفت کرتا ہے اور اس حوالے سے ’’کتاب مقدس‘‘ میں سزاؤں کا ذکر بھی موجود ہے۔ لیکن کمیونٹی کے بار بار اصرار پر وہ انہیں اجازت دیتے ہیں کہ شاید اس طرح ان کی غربت دور ہوسکے اور ان کے مالی حالات بہتر ہوسکیں۔ لیکن شاید آج وہ مذہبی رہنما کف افسوس مل رہے ہوں گے کہ ان کی اُس وقت کی اجازت سے کمیونٹی کے بارے میں جو ایک عمومی تاثر بن چکا ہے اس کو دور کرنے کےلیے انہیں خاصی تگ و دو کرنا پڑے گی۔

شراب کے حصول کےلیے اجازت کے حوالے سے واضح کرتا چلوں کہ آپ ملک بھر میں اقلیتی بستیوں، کالونیوں اور سوسائٹیوں کا مشاہدہ کرلیجئے۔ آپ کو سیکڑوں اور ہزاروں کی آبادی میں چند افراد ہی یہ مذموم کام کرتے نظر آئیں گے۔ لیکن ان چند افراد کی وجہ سے پوری بستی اور کالونی کے بارے میں اکثریت نے یہ مفروضہ قائم کررکھا ہے کہ تمام اقلیت ہی شراب نوش اور شراب فروش ہے، جو کہ ایک غلط خیال ہے۔ اگر کوئی ان بستیوں اور کالونیوں کا مشاہدہ کرے تو وہاں آپ کو ٹیچرز، نرسز، ڈاکٹرز، انجینئر، چھوٹے کاروبار اور محنت مزدوری کرنے والے خاندان نظر آئیں گے، جنہوں نے صرف اور صرف محنت کو ہی اپنا شعار بنایا ہوا ہے لیکن کلنک کا جو ٹیکہ ان چند لوگوں کی وجہ سے اُن پر لگا دیا گیا ہے اس کو اتارنے کےلیے طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔

کسی بھی کام کا انتخاب کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے کہ اس کا فائدہ اور نقصانات کیا ہوں گے؟ اگر کوئی غیر جانبدار ہوکر شراب کے پینے اور بیچنے کے فائدے کی بات کرے تو وہ ایک فائدہ بھی اس کے بارے میں نہ بتا سکے گا۔ لیکن اگر اس کے نقصانات کی بات کی جائے تو ایک لمبی فہرست بنائی جاسکتی ہے۔

یہاں اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ اکثرلوگ مادی ترقی کو ہی ترقی سمجھ لیتے ہیں، مثال کے طور پر اچھا گھر بنا لینا، اچھی سواری کا ہونا، اچھی خوراک، اچھا لباس، بینک بیلنس کا ہونا وغیرہ۔ ان کی اس سوچ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ زمین پر بسنے والا ہر فرد اسی مادی ترقی کی تلاش میں جستجو کررہا ہے۔ لیکن میرا موقف ہے کہ مادی ترقی کے ساتھ شعوری ترقی بھی ضروری ہے۔ کیونکہ مادی ترقی سے آپ موجودہ دور میں اپنی زندگی کو تو بہتر بنا سکیں گے لیکن اپنے خاندان اور اپنی قوم کو باشعور بنانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکیں گے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ انسان اپنے خاندان کےلیے آسائشیں ڈھونڈنے کی تلاش میں اچھے اور برے کی تمیز بھول جاتا ہے اور ’’شارٹ کٹ‘‘ کے ذریعے وہ تمام آسائشیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔

شعوری ترقی کےلیے سب سے اہم تعلیم ہے، جو صحیح معنوں میں فرد کو باشعور اور طاقتور بناسکتی ہے۔ آپ کسی بھی کامیاب اور طاقتور خاندان کو دیکھیں تو آپ میری رائے سے ضرور اتفاق کریں گے کہ ان کی کامیابی اور طاقت کی اصل وجہ تعلیم ہی ہے۔ جبکہ عام مشاہدہ ہے کہ جو اقلیتی افراد شراب نوشی اور شراب فروشی کا کام کرتے ہیں، ان کی اولاد تعلیم حاصل نہیں کرسکی۔ چونکہ وہ خود شراب پیتے اور بیچتے تھے لہٰذا ان کی اولاد نے بھی وہی کام شروع کیے، حتیٰ کہ کچھ خاندانوں کی دوسری اور تیسری نسل بھی یہی کام کررہی ہے۔

آپ اقلیتی بستیوں میں جاکر دیکھیں تو بہت سے نوجوان آپ کو اس کے دلداہ نظر آئیں گے اور ہر عید اور شادی بیاہ کی تقریب کو وہ خراب کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ نہ جانے کتنی ہی اموات کی وجہ شراب بنی ہے لیکن عوام ہیں کہ ان کی موت کی وجہ شراب کو نہیں گردانتے بلکہ قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔ یہ کام کرنے والوں نے اس کو نہ چھوڑنے کے حوالے سے اپنے دفاع کےلیے مختلف دلیلیں اور تاویلیں گھڑ رکھی ہیں، اس لیے ان کو چھوڑنے پر آمادہ کرنا خاصا مشکل ہے۔ دوسرا یہ کہ زندگی کی عارضی آسائشوں اور محنت سے جی چرانے والوں کو تو قائل کرنے میں بہت زیادہ کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس ضمن میں ان کا دفاع کرنے والے اُن کے ہم خیال بھی بہت ہیں، جن کی وجہ سے وہ اس کام کو چھوڑنا بھی چاہیں تو چھوڑ نہیں سکتے۔

اُن چند لوگوں کی وجہ سے پوری کمیونٹی کے متعلق یہ مفروضہ قائم کرلیا گیا ہے کہ یہ پوری کمیونٹی یہی کام کرتی ہے۔ ان بستیوں میں بچیوں کی شادی کےلیے دوسرے علاقوں سے رشتے نہیں آتے، ان بستیوں میں کوئی شریف آدمی رہنے کو تیار نہیں ہوتا۔ جو اقلیتیں پوش علاقوں میں رہتی ہیں وہ ان بستیوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتیں۔ پولیس جب چاہے ان بستیوں میں دندناتی پھرتی ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو آپ کو ملک بھر میں اُن بستیوں اور کالونیوں میں نظر آئیں گی جہاں اس طرح کے چند افراد شراب نوشی اور شراب فروشی کا مذموم کام کررہے ہیں۔

ملک کو قائم ہوئے 75 سال ہوچکے ہیں، اس لیے ملک بھر میں اقلیتوں کو اپنا وتیرہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے اوپر سے اس کلنک کے ٹیکے کو اتارنے کی حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے۔ اپنے آپ کو مضبوط اور طاقتور کمیونٹی بنانے کےلیے بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے اور انہیں اعلیٰ تعلیم دلانے کےلیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔