اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلیے عمران خان نے صدر مملکت کے ہاتھ پیغام بھجوایا، خواجہ آصف

ویب ڈیسک  بدھ 5 اکتوبر 2022
(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

 اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کرنے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ہاتھ پیغام بھجوایا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان اب منتیں ترلے کر رہا ہے جبکہ اسکو نومبر کے ہول بھی اٹھ رہے ہیں، نومبر کے خوف نے عمران خان کا دماغی توازن بگاڑ دیا ہے لیکن نومبر آئین و قانون کے مطابق گزر جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کا عمل ماہ رواں کے آخر یا نومبر کے شروع میں ہوگا، سبکدوش آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اتنا وقت ملنا چاہیے کہ وہ احترام کے ساتھ اپنے جوانوں کے پاس وقت گزار سکے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ آرمی چیف کے بیان سے ابہام دور ہوا ہے لیکن آرمی چیف کون ہوگا اس کا فیصلہ نہیں ہوا البتہ روایت کے مطابق پانچ افراد کے نام جاتے ہیں جن میں سے کسی کو بھی تعینات کیا جاسکتا ہے۔ انہوں کہا کہ ماضی میں پانچ نمبر سے باہر سے بھی لوگ تعینات کیے گئے اور سب تھری اسٹارز جنرل اس کے لیے اہل ہیں۔

مزید پڑھیں؛ عمران خان ایوان صدر میں خفیہ ملاقات کرکے این آر او مانگ رہا ہے، مریم نواز

عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کیسز معاف کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن کیسز تو اس خاتون کے معاف ہوئے جو عمران خان اور انکی اہلیہ کے ساتھ تیسری ٹرسٹی ہے، عمران خان منافقت سے کام لیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سے متعلق جھوٹ بولتا ہے لیکن فوج کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا فرض ہے، فوجی افسران کی ہیلی کاپٹر میں شہادت پر پی ٹی آئی نے غلط زبان استعمال کی۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہماری فوج آج بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ آج بھی جاری ہے، پاکستان کو سیلابی صورتحال کا سامنا ہے جہاں افواجِ پاکستان اور ساری قوم سیلاب زدگان کی مدد کے کام میں لگی ہوئی ہے۔ انتخابات اپنے وقت پر منعقد ہوں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے الزام لگایا تھا کہ ایوان صدر میں خفیہ ملاقات کرنے والا عمران خان این آر او مانگ رہا ہے اور این آر او نہیں ملتا تو باہر آکر شور کرتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔