ممنوعہ فنڈنگ کیس؛ پی ٹی آئی عہدیداران اور عارف نقوی کیخلاف مقدمہ درج

ویب ڈیسک  جمعرات 6 اکتوبر 2022
فوٹو فائل

فوٹو فائل

 کراچی: بیرون ممالک سے رقوم کی غیر قانونی طور پر منتقلی کے معاملے پر ایف آئی اے نے ابراج گروپ کے عارف نقوی اور پی ٹی آئی عہدیداران کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بیرون ممالک سے رقوم کی غیر قانونی طور پر منتقلی کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے عہدیدار سمیت دیگر کے خلاف ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی میں ایف آئی آر نمبر 14/2022 درج کرلی گئی۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمے میں جن افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں  ابراج گروپ کے عارف مسعود نقوی، پی ٹی آئی عہدیدار طارق شفیع اور محمد رفیع شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر محمد سرور اصغر کی مدعیت میں مقدمہ تحقیقات میں شواہد ملنے پر درج کیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ 9 ارب روپے کی رقم امن فاونڈیشن کے اکاؤنٹ میں فارن ٹیلی گرافک ٹرانسفر کے ذریعے منتقل کی گئیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق عارف مسعود نقوی کے قریبی ساتھی طارق شفیع پی ٹی آئی کے مرکزی مالیاتی بورڈ کے رکن ہیں اور والٹن کرکٹ لمیٹڈ کے اکاؤنٹ سے 5 لاکھ 57 ہزار امریکی ڈالر طارق شفیع کے کراچی میں نجی اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے۔۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ  رقم 7 مئی 2013 کو موصول اور 8 مئی کو پی ٹی آئی اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی گئی۔

مقدمے میں درج تفصیلات کے مطابق طارق شفیع نے اکاؤنٹ میں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹر کمپنیوں سے ایک اعشاریہ 84 ملین ڈالر وصول کئے اور تمام ٹرانزیکشنز مختلف کمپنیوں اور افراد کی ملی بھگت سے 1947 ایکٹ کی خلاف ورزی سے کی گئیں۔

ایف آئی اے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان پر فنڈز کی اصل نوعیت، مقام، نقل و حرکت اور ملکیت چھپانے کا الزام ہے۔

ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کا پی ٹی آئی رہنما کے گھر پر چھاپہ

غیرقانونی طور پررقوم کی پاکستان منتقلی کے معاملے پر ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی مالیاتی بورڈ کے رکن طارق شفیع کے گھر پر چھاپہ مارا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کی ٹیم نے ڈی اے اسکیم ون میں طارق شفیع کے گھر پر چھاپہ مارا لیکن وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ واضح رہے کہ طارق شفیع پاکستان تحریک انصاف کے لیے بیرون ممالک سے غیر قانونی طور پر رقم پاکستان منتقل کرنے کے مقدمے میں نامزد ہیں۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔