جان ہے تو جہان ہے

شکیل فاروقی  جمعـء 7 اکتوبر 2022
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

انسان کو دنیا میں سب سے زیادہ اگر کوئی چیز عزیز ہے تو وہ جان ہے اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ جسم اور روح کا رشتہ قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی صحت کا خیال رکھا جائے۔ انگریزی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ health is wealth جس کا مطلب ہے کہ صحت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔

صحت کو برقرار رکھنے کے لیے اچھی خوراک اور صاف ستھرا ماحول ناگزیر ہیں لیکن وطن عزیز کا حال تو یہ ہے کہ یہاں کی غالب اکثریت کو اچھی خوراک تو درکنار روٹی تک کے لالے ہیں۔ ملک کی حالیہ بھاری اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جب کہ اشرافیہ اور حکمرانوں کو اپنے اللے تللوں اور لوٹ مار سے ہی فرصت نہیں۔اس میں ہر طرح کے حکمران شامل ہیں، وہ بھی جو طاقت کے بل بو تے پر برسرِ اقتدار آتے ہیں اور وہ بھی جو جمہوریت کا چولا پہن کر عوامی نمایندوں کا روپ دھار کر نام نہاد انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے کرسی اقتدار سنبھالتے ہیں۔

جہاں تک عوامی نمایندگی کا سوال ہے تو یہ محض ایک فریب ہے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ جہاں سارا کھیل روپے پیسے کا ہو تو وہاں عوامی نمایندے کا یہ امکان ہی نہیں کہ وہ انتخابات میں امیدوار کے طور پر حصہ لے سکے کیونکہ اُسے تو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔اُس کے لیے تو الیکشن میں حصہ لینے کے لیے امیدوار کے طور پر کھڑا ہونے تک کے اخراجات کے لیے مطلوبہ رقم کا بندوبست کرنا بھی مہال ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا نظام ایک بہت بڑا فراڈ ہے جو مسلسل جاری ہے اور نہ معلوم کب تک یونہی چلتا رہے گا۔تبدیلی کے نام پر محض چہرے تبدیل ہوتے ہیں اور نظام جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔

برسوں سے یہی ہوتا چلا آرہا ہے اور شاید یہی ہوتا رہے گا۔نئے نئے لیبل لگتے رہتے ہیں اور بوتل کا شربت ویسے کا ویسی ہی رہتا ہے۔شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جو بے توجہی سے بچا ہوا ہو۔ حالت یہ ہے کہ تَن ہمہ داغ داغ شُد پَنبہ کُجا کُجا نہم یعنی پورا جسم داغ داغ ہے، پھایا کہاں کہاں رکھا جائے۔

سب سے برا حال صحت کے شعبہ کا ہے، پرائیویٹ اسپتالوں کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں اور سرکاری اور پبلک اسپتالوں کا حال یہ ہے کہ دوائیں ناپید، جعلی یا ایکسپائر شدہ اور ڈاکٹر ڈیوٹی سے غیر حاضر۔ دواؤں کی قیمتیں روز بروز آسمان کو چھو رہی ہیں اور غریب آدمی کی خرید سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ آیا تو کدھر جائیں گے

حالیہ سیلابوں کے نتیجہ میں لوگ گھروں سے بے گھر ہوگئے ہیں جن کی حالت ناقابل بیان ہے۔ طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں جن کی وجہ سے زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ اِن بیماریوں میں ڈائریا، جلدی امراض، سانس کی نالی کے انفیکشن، ملیریا، ڈنگی، ٹائی فائیڈ، کَولرا، ایچ آئی وی اور پولیو شامل ہیں۔ سیلاب کے ساتھ صحت کا بنیادی ڈھانچہ بھی بہہ گیا ہے جس کے باعث سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی ناممکن ہوگئی ہے۔

پاکستان وہ ملک ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے اور یہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آنے والا ملک ہے۔انسانی ترقی کی انڈیکس کے 194 ممالک میں پاکستان کا نمبر 161 ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ ممالک جنھوں نے ماحولیاتی بحران میں سب سے کم حصہ ڈالا ہے اور جو خط غربت سے نیچے ہیں وہ سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے 2030 سے 2050 کے دوران اضافی 250,000 سالانہ ماحولیاتی اموات کی پیشگوئی کی ہے جن میں قابل انسداد بیماریاں جیسے ناقص غذا، ملیریا، ڈائریا اور گرمی لگ جانا شامل ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیاں زرعی پیداواری صلاحیت اور پانی کی دستیابی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ایک مطالعاتی تجزیہ کے مطابق موسمیاتی تغیرات اور کم ہوتے ہوئے پروٹین اور غذائی اجزاء جو کہ اہم خوراک یعنی گندم اور چاول کی فصل میں پائے جاتے ہیں اُن کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

غذائیت کی کمی شیر خوار بچوں کی نشونما اور کارکردگی کو مکمل طور پر متاثر کرسکتی ہے۔ بچے کیونکہ بہت حساس ہوتے ہیں لہٰذا وہ آسانی سے ڈائیریا اور ڈنگی کی زد میں آسکتے ہیں۔بدلتے موسموں کی وجہ سے ڈنگی کے دورانیہ اور پھیلاؤ میں کثرت سے اضافہ ہورہا ہے۔

شدید درجہ حرارت کی وجہ سے محنت کشوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور بزرگ شہری گرمی کی شدت سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ایک تخمینہ کے مطابق 2100 تک پاکستان کا اوسط درجہ حرارت 3اور 5 کے درمیان پہنچ جائے گا جو کہ عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔لہذٰا حکومت وقت کے لیے لازم ہے کہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔