اقبال عظیم کا نعتیہ تغزل اور چند یادیں

صدام ساگر  جمعـء 7 اکتوبر 2022

نعت دراصل رسولِ پاک ﷺ سے دلی عقیدت اور روحانی محبت کا والہانہ اظہار ہے۔ قرینہ نعت اور سلیقہ مدحت ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتا۔ اُردو ادب میں کتنے قد آور شاعر ہو گزرے ہیں جن کے حصے میں مدحتِ سرکارِ دو عالم ﷺ کی سعادت آئی ہے، بہت کم ہیں۔

اس ضمن میں جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو جہاں ہمیں حضرت ابراہیم ذوق، امیر مینائی، بیدم وارثی، مولانا ظفر علی خاں اور حضرت علامہ اقبال کی قسمت میں حرفِ نعت کا معتبر حوالہ ملتا ہے۔ وہیں سید اقبال عظیم کا شمار بھی ایسے ہی خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہیں جو نعت گوئی، نعت کے اطراف اور اس کے معنوی و فنی پہلوؤں سے خوب آگہی رکھتے تھے۔

سید اقبال عظیم آٹھ جولائی 1913 کو ہندوستان کے شہر میرٹھ، یوپی میں پیدا ہوئے، انھوں نے ایسے دینی و علمی، ادبی ماحول میں آنکھیں کھولی جہاں انھیں ادبی ماحول ورثے میں میسر آیا۔ ان کے دادا سید فضل عظیم فضلؔ اردو، فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔

والد سید مقبول عظیم عرشؔ اردو کے مسلم الثبوت غزل گو شاعر تھے اور نانا ِ ادیب میرٹھیِ دیوان شاعر اور حضرت بیان ؔو یزدانیؔ میرٹھی کے مشہور تلامذہ میں سے ایک تھے، جب کہ برادرِ بزرگ سید وقار عظیم برصغیر کے بلند مرتبہ تنقید نگار اور ماہر تعلیم اور درجنوں یادگار تصانیف کے خالق تھے۔

سید اقبال عظیم نے اسکول کے زمانے میں ہی شاعری کی ابتدا کی۔ اُن کے کلام میں جیسے جیسے پختگی آتی گئی اسی قدر اُن کی شاعری اُن کی زندگی میں کامیابیاں اور کامرانیاں آتی گئی وہ شہرتوں کی بلندیوں کو چھوتے رہیں۔جس زمانے میں جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، فراق گورکھپوری، جگر مرادآبادی، احسان دانش، روش صدیقی، اثر لکھنوی و مجاز لکھنوی کی شمولیت سے کسی بڑے مشاعرے کی کامیاب ہونے کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔

اُسی زمانے میں سید اقبال عظیم کی غزلیںآج کل، ساقی، ادبِ لطیف، ہمایوں، نیرنگِ خیال اور زمانہ جیسے مشہور اخبارات و رسائل میں شایع ہونا شروع ہوئیں۔ سید اقبال عظیم اپنے کلیات ’’ماحصل‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’زندگی کے بیس قیمتی سال مشرقی پاکستان میں گزارنے کے بعد فروری 1970 میں پنشن لے کر میں بھائی کے پاس لاہور آ گیا۔

میری خاطر بھائی نے اپنے گھر پر ماہانہ نشستوں کا اہتمام کیا جس میں ناصر کاظمی، صوفی تبسم، احسان دانش، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی اور محبوب خزاںؔ سے قربت حاصل ہوتی رہی اور مقامی مشاعروں میں پنجاب کے دوسرے شعراء سے بھی ملاقاتیں ہوئیں جن میں ضمیر جعفری، مظفر وارثی اور کلیم عثمانی نمایاں تھے۔‘‘

میرے پاس ان کی حمدو نعت اور غزلوں پر مشتمل کلیات ’’ماحصل‘‘ موجود ہے جسے نئی دہلی کے معروف اشاعتی ادارے ’’بزمِ خدام الادب‘‘ نے چھاپا۔ اس ’’کلیات‘‘ کا جب بھی مطالعہ کریں گے تو آپ کے ذہن میں ان کی مشہور نعت کا مطلع ضرور گونجے گا۔

مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ

جبیں افسردہ افسردہ، قدم لغزیدہ لغزیدہ

اسی نعت کے مزید دو اشعار اور ملاحظہ کیجیے:

بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے

مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ

وہی اقبالؔ جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر

فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ

سید اقبال عظیم جدید لب و لہجہ کے شاعر تھے۔ اُن کی غزلیں روایتی ہرگز نہیں تھی، انھوں نے غزل کے اسلوب اور اشاروں میں اپنے دور اور اپنی ذات دونوں کا حق ادا کیا ان کی غزلوں کا پہلا شاعری مجموعہ ’’مضراب‘‘ کے نام سے شایع ہُوا کچھ ہی دنوں کے بعد ان کا نعتیہ مجموعہ ’’قابِ قوسین‘‘ بھی قارئین کے ہاتھ میں تھا جب کہ دیگر تصانیف میں غزلوں کا دوسرا مجموعہ ’’مضراب و رباب‘‘، حکیم ناطق لکھنوی کے دیوان کی ترتیب، تدوین اور اشاعتِ مع مقدمہ پر مشتمل ’’دیوانِ ناطقؔ‘‘، سات معمارانِ پاکستان کے سوانح سات ستارے، نعتوں اور غزلوں کا مجموعہ ’’لب کشا‘‘ و دیگر شامل ہیں جب کہ نثری کتب میں ’’مشرقی بنگال میں اردو، دو سو سالہ لسانی و ادبی تذکرہ‘‘، مشرقی پاکستان سے متعلق ادبی، لسانی، معاشرتی اور ثقافتی مضامین ’’مشرق‘‘، ’’انگریزی زبان میں انیس اضلاع مشرقی پاکستان سے متعلق ادبی اور لسانی، تحقیقی مقالات‘‘ اور ’’درجنوں نصابی کتابیں جو درجہ سوم تا بی۔ اے شاملِ نصاب رہیں‘‘، ’’آنکھوں دیکھی‘‘ یہ کتاب اُن شخصیات اور واقعات پر مبنی ہے جنھوں نے انھیں بہت متاثر کیا، جدید و قدیم شعراء کے غیر معروف اور منتخب اشعار پر ’’روح سخن‘‘ اور ’’رہنمائے تلفظ‘‘ جیسی شاہکار کتابیں منظرِ عام پر آئی جو آج بھی اُردو ادب کا قیمتی اثاثہ تصور کی جاتی ہیں۔

سید اقبال عظیم کا شمار اُردو کے نعتیہ روایت کے ایسے ہی شعرا میں ہوتا ہے جن کا کلام اس حقیقت کا خوب صورت اظہار بن کر آج بھی ذہنی سوچوں میں قلبی اور روحانی سکون عطا کر رہا ہے۔ سید اقبال عظیم زبان کے مزاج اور حسنِ بیان کی لطافتوں سے بخوبی آشنا تھے۔ وہ فکرِ غالب، خلوصِ اقبال اور غم کے میر میں نم دیدہ دکھائی دیتے ہیں۔

شعر میں اقبالؔ لازم ہے زبان و فن کے ساتھ

فکر غالبؔ کی، خلوص اقبالؔ کا، غم میرؔ کا

اسی غزل کا ایک اور شعر دیکھیے جس میں روایت سے جڑے کس قدر وہ دکھائی دیتے ہیں :

آپ کی سنجیدگی کے ہم بھی قائل ہو گئے

سر سے پا تک ہو بہو انداز ہے تصویر کا

سید اقبال عظیم کی نعتیہ اور غزلیہ شاعری کی سلاست، روانی اور فصاحت و بلاغت سے میں پہلے ہی متاثر ہو چکا تھا۔ سید اقبال عظیم وہ شاعر تھے، جو انسان کے فکری اور تخلیقی رجحانات کی ترجمانی کرتے۔ میرے خیال میں سید اقبال عظیم ایک خوش فکر غزل گو کے روپ میں اُبھرے اور اُن کی غزل ’’با وضو‘‘ ہو کر نعت کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ اُن کے نزدیک جب آنسو حرفِ دعا تک پہنچے، دعا، بابِ اثر تک گئی اور دعا کی قبولیت جب ہوئی تو سید اقبال عظیم کے دل کا بیاباںسحر آثار ہو گیا، زندگی پھول کے مانند نکھر گئی، حرفوں کو زبان مل گئی، لفظوں کو کمال نصیب ہُوا اور سید اقبال عظیم کو نقشِ پا مل گیا اور سید اقبال عظیم زندگی بھر سرورِ کونین حضرت محمد ﷺ کی بارگاہ میں عقیدت نعت کے گلدستے پیش کرنے لگے۔

’’زبورِ حرم‘‘ یہ سید اقبال عظیم کا کلیاتِ نعت ہے جس کا اہتمام ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے شاہین اقبال نے کیا اور اس کلیاتِ نعت کی اشاعت کا ذمے کراچی کے معروف شاعر، تنقیدی سوچ کے حامل نثر نگار شاعر علی شاعر نے اُٹھایا۔ اس کلیاتِ نعت میں سید اقبال عظیم کی دیگر کتب میں سے دیگر اہلِ دانش کی رائے کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کلیاتِ نعت میں حمد، مناجات، نعت، مناقب اور سلام کے علاوہ آخر میں تعارفِ شاعر شامل کیے گئے ہیں۔

سید اقبال عظیم اپنے دوسرے مجموعہ غزل کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ ’’یہ احسانِ عظیم بھی میری غزل ہی کا ہے کہ اس کی بدولت مجھے سرزمینِ حجاز تک پہنچنے اور آستانہء رسولؐ پر حاضری دینے کی سعادت حاصل ہوئی، میری بجھی ہوئی آنکھوں کے باجود میدنے کی گلیوں تک میری محفوظ اور معتبر رہنمائی کی، مجھ پر غزل کا اتنا بڑا احسان ہے کہ اب میں غزل کا احترام کرنے پر مجبور ہوں۔ دیارِ رسولؐ تک رسائی کو میں اپنی زندگی کا حاصل اور ذوقِ غزل گوئی کا سب سے بڑا انعام جانتا ہوں جس کے لیے میرے بدن کارواں کارواں اللہ تعالیٰ کے کرم کا بے حد شکر گزار ہے۔‘‘

عشقِ آقاؐ کا تقدس دل میں جو محفوظ ہے

نعت میں ڈھل کر مرے حسنِ بیاں تک آ گیا

کلیاتِ نعت ’’زبورِ حرم‘‘ سید اقبال عظیم کے کوچ کرنے کے بعد اس کا نیا ایڈیشن شایع ہو رہا ہے وہ نعت کو ساری عمر وسیلہ نجات لکھتے رہے اور اپنی عقیدت، محبت اور دل و جاں کو ذکرِ اسمِ محمد ﷺ سے مہکاتے اور جگمگاتے رہے۔ آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ ’’زبورِ حرم‘‘ میں شامل ہر اک شعر عرفان و سرمستی کا ایسا جامِ نور ہے جس میں اہلِ عشق و محبت کی سیرابی کے ہزار ہا پیمانے موجود ہیں۔

ڈوبتی جاتی ہیں نبضیں اور نظر بے نور ہے

اک مسافر ہے حرم کا جو تھکن سے چُور ہے

چند سانسیں اور باقی ہیں، ذرا جلدی کرو

قافلے والو!مدینہ اور کتنی دور ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔