سندھ حکومت کراچی کو صوبے کا حصہ نہیں سمجھتی، حافظ نعیم الرحمٰن

ویب ڈیسک  جمعـء 7 اکتوبر 2022
بلدیاتی انتخابات پر صوبائی حکومت دھوکے سے کام لے رہی ہے ، حافظ نعیم الرحمن (فوٹو فائل)

بلدیاتی انتخابات پر صوبائی حکومت دھوکے سے کام لے رہی ہے ، حافظ نعیم الرحمن (فوٹو فائل)

 کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کو صوبے کا حصہ نہیں سمجھتی۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم  کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات سے بچنے کے لی حیلے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ غلط بات کررہے ہیں، گزشتہ دنوں کرکٹ میچ ہوا اور تمام فورس اس میں موجود تھی۔ پولیس سرکاری ادارہ ہے، جسے یہ حکمران طبقہ اپنے لیے استعمال کررہا ہے۔ انہیں اپنی ناکامی نظر آ رہی ہے۔

امیر جماعت نے کہا کہ صوبائی حکومت دھوکا دہی سے کام لے رہی ہے۔ ایک سیاسی ایڈمنسٹریٹر کی صورت میں یہ لوگ بچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015ء میں بلدیاتی انتخابات ہوئے اور وہ بھی عدالت کی وجہ سے منعقد ہوئے تھے۔ 6سال انہوں نے ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے نظام چلایا اور ایم کیو ایم نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

انہوں نے صوبائی حکومت اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی وجہ سے عوام تکلیف سے دوچار ہیں۔ آپ کس منہ سے ناظم آباد کا نام لے رہے ہیں؟ آپ اس شہر کو سندھ کا حصہ ہی نہیں سمجھتے۔ آپ کو وفاق سے جو پیسہ ملتا ہے اس کا آدھا حصہ کراچی کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنی ہی پارٹی کے سپورٹرز سے خوفزدہ ہیں۔

حافظ نعیم نے کہا کہ پوری دنیا اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ جماعت اسلامی اور الخدمت سیلاب متاثرین کی خدمت کررہی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ صاحب آپ کا اپنا حلقہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اگر اس ملک میں این جی اوز نہ ہوتیں تو سب کو پتا چل جاتا کہ سندھ میں کیا حالات ہیں۔ اندرون سندھ میں سیلاب ہے تو ان کی خدمت کریں، ان کے نام پر پیسے نہ کھائیں۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر کا کہنا تھا کہ یہ لوگ خوفزدہ ہیں کیوں کہ اس بار پیپلز پارٹی جیت سکتی ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم۔ زرداری صاحب کی صحت کے لیے دعا گو ہوں،  مگر انہیں چاہیے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کروائیں۔ اس وقت جتنے اداروں کی ذمے داری ہے انہیں چاہیے کہ وہ الیکشن منعقد کروائیں۔یہ لوگ اربوں روپے بجٹ کھانے کا پروگرام لائے ہیں، لیکن جماعت اسلامی انہیں نہیں چھوڑے گی۔

حافظ نعیم الرحمنٰ نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم بڑھ رہا ہے۔ یہاں کی پولیس میں 80فیصد مقامی لوگ ہونے چاہییں۔  کب تک ہمارے بچے مرتے رہیں گے۔افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے بھاری اکثریت لے کر بھی اس شہر کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان کراچی اپنے لیے آواز اٹھائیں۔ جو لوگ کے الیکٹرک کے حامی ہیں وہ آپ کے ہمدرد نہیں ہوسکتے ۔ شہریوں سے درخواست کرتا ہوں کہ  ان لوگوں کو پہچانیں جو مافیاؤں کے ساتھ ہیں۔ سندھ میں سیلاب کے دوران حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔