سراج الحق کا ٹرانسجینڈر بل واپس نہ لینے پر اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان

ویب ڈیسک  جمعـء 7 اکتوبر 2022
مغربی ملک نے پاکستان میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کے لئے فنڈز مختص کیے ہیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان

مغربی ملک نے پاکستان میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کے لئے فنڈز مختص کیے ہیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان

 لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ٹرانسجینڈر بل واپس نہ لیا تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔

سراج الحق نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایکٹ پاس کیا ہے کہ جو چاہے اپنے آپ کو مرد یا عورت ظاہر کیا یہ قابل مذمت ہے، امریکہ میں بھی یہ قانون ہے جہاں خود 33 ریاستیں اس قانون کے خلاف ہیں اور اس میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ ہم خواجہ سراؤں اور ان کے حقوق کے خلاف نہیں، حقیقی خواجہ سراﺅں کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے زیادہ نہیں ہے، حکومت انہیں روزگار اور گھر دے ، سولہ، سترہ گریڈ کی ملازمت دے ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن حکمران مغربی ایجنڈے کو یہاں فروغ دینا چاہتے ہیں، مغربی ملک نے پاکستان میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کے لئے فنڈز مختص کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مغرب میں کوئی بھی شخص مرضی سے خود کو مرد اور عورت ظاہر کرسکتا ہے، ہاکستان میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق29 ہزار میں سے16 ہزار مردوں نے خود کو عورت ظاہر کیا، پی ڈی ایم میں شامل اسلامی جماعتیں اس بل کے خلاف آواز بلند کریں۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت قانون تبدیل کرلے، بل واپس نہ لیا گیا تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، حکومت اس قانون کو فی الفور واپس لے ورنہ قوم لانگ مارچ کے لئے تیار ہو جائے، سیاسی جماعتیں اس قانون کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں، سیاست کی دنیا میں پی ٹی آئی، پی پی پی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم ایک دوسری کی حریف ہیں لیکن بل ان سب جماعتوں نے مل کر پاس کیا ہے، آئین کے مطابق کوئی قانون قرآن اور حدیث کے خلاف نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے زور دیا کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے بل میں ترمیم کی قرار داد پیش کی ہے، اگر کوئی خود جنس تبدیلی چاہتا ہے تو اس پر میڈیکل بورڈ بننا چاہیے، اس کے لئے ڈاکٹر، ماہر نفسیات پر مشتمل بورڈ ہو۔

سراج الحق نے مزید کہا کہ حکومت صادق اور امین کے قانون کو واپس لینا چاہتی ہے جس کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت چوروں ڈاکوؤں کے لئے اقتدار کے راستے کھولنا چاہتی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔