صدائے احتجاج جرم کیوں؟

صدف آصف  اتوار 23 مارچ 2014
قوانین سے زیادہ لوگوں کی ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

قوانین سے زیادہ لوگوں کی ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

فی زمانہ لوگوں میں شعور اور آگہی کے باوجود آج بھی بہت سے گھرانے ایسے ہیں، جہاں لڑکی اور لڑکے میں فرق برتا جاتا ہے۔

کسی بھی کام یابی پر لڑکیوں کی اس نہج پر جا کر حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، جتنی لڑکوں کی کی جاتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے، جو لڑکیوں کو معاشرتی طور پر کمزور بنا دیتی ہے اور وہ گھر سے باہر بھی دبتی چلی جاتی ہیں۔ آج بھی بس کا انتظار کرنے والی لڑکیوں پر فقرے اچھالے جاتے ہیں۔۔۔ دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو قسم قسم کے تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔ کہیں نظر انداز کرنے پر ان کے خلاف من گھڑت باتیں پھیلا کر انہیں ذہنی اذیت دی جاتی ہے اور یہ مشکل کی ماری لڑکی بدنامی کے ڈر سے دبی رہتی ہے، کیوں کہ اسے گھر میں ہی اس کا عادی بنا دیا گیا ہوتا ہے۔

کتنی ہی ایسی خواتین ہیں، جو مالی حالات سے مجبور ہو کر گھر سے نکلتی ہیں، تو انہیں باہر سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی عورت گھبرا کر ان باتوں کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتی ہے، تو اسے بدنام کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائی جاتی۔ اسی لیے وہ خود ہی اس کا حل نکالتی ہے، اپنا راستہ بدل لیتی ہے یا نوکری چھوڑ دیتی ہے، مگر یہ مسئلے کا حل نہیں۔ اس کے بہ جائے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کو ایک طرف قلیل تنخواہ اور غیر صحت مندانہ ماحول کا سامنا ہوتا ہے، تو دوسری طرف  انہیں اپنی ہتک کو بھی خاموشی سے سہنا ہوتا ہے۔ شہروں میں گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں اور نوکرانیوںکو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کھیتوں میں کام کرنے والے غریب کسانوں کی بیویاں، ظالم جاگیرداروں اور وڈیروں کے ستم سے عاجز رہتی ہیں تو، کہیں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے اور وہ ڈرتی رہتی ہیں کہ اگر زبان کھولی تو پورے ادارے میں بدنام ہو کر رہ جائیں گی۔ ساتھ ہی انہیں اس کے بدلے میں سختیوں اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی ملازمت بھی چھوڑنا پڑ سکتی ہے۔

ہمارے ہاں تو عام طور پر باہر نکلنے والی خواتین کو بھی تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ رویہ اتنا عام ہے کہ لڑکیاں یا عورتیں اسے اپنے معاشرے کی روایات کا حصہ سمجھ کر سہتی رہتی ہیں۔ ایک عورت کے اندر بھلا  کہاں ایسی جرات اور طاقت کے  وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف قانونی تحفظ حاصل کرے۔ قانونی چارہ جوئی تو بہت دور کی بات ہے وہ تو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت بھی نہیں رکھتی۔ ایسا کرنے کی صورت میں اس کے گھر والے بھی اپنی بد نامی محسوس کرتے ہیں، لہٰذا وہ اندر ہی اندر گھٹ کر رہ جاتی ہے۔

اس صورت حال کی ایک بڑی وجہ ہمارا معاشرے کی پس ماندہ اور محدود سوچ ہے، جو ظالم کی جگہ مظلوم کو قصور وار ٹہراتی ہے۔  قوانین تو بہتیرے موجود ہیں، لیکن کس میں ہمت ہوگی کہ وہ اس قانون سے فیض یاب ہو سکے۔ پہلے مرحلے میں اسے اپنے گھر اور ارد گرد تو تحفظ ملے۔ جب وہ کسی کے خلاف بولے تو اسے اور اس کے گھر والوں کو ہی معتوب نہ کیا جائے۔

تعلیم کی کمی، تربیت کا فقدان، نفسیاتی عوارض، ناہم وار اور غیر متوازن معاشرتی نظام، مذہب سے دوری وغیرہ کے ساتھ ہماری معاشرتی سوچ بھی اس ضمن میں بیمار ذہن کے حامل لوگوں کا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ یہ جانب داری ختم ہونی چاہیے۔ معاشرے میں غلط اور صحیح پیمانے کی درستگی کی ذمہ داری دونوں اصناف پر ہے۔

صنف نازک کا مزاج، شرم و حیا، نرمی، دھیما پن اورمحبت جیسے جذبوں سے گندھا ہوتا ہے۔ وہ صنف کرخت کے مقابلے میں جذباتی اور زود رنج بھی کہلاتی ہے۔ تاہم اس کی باتوں سے چھلکتی شفقت و محبت کو اس کی کمزوری سمجھ لینا کسی بھی طور جائز نہیں۔ اسے بھی وہ ہی انسانی حقوق حاصل ہیں، جسے مرد اپنی معراج سمجھتا ہے۔ اگر صنف نازک کو حقیر درجہ پر فائز کیا تو پھر ہمارا معاشرتی ڈھانچا منہدم ہو جائے گا۔ عورت کو یہ حق دینا ضروری ہے کہ وہ بغیر کسی ڈر و خوف کے آزادی کی فضا میں سانس لے سکے اور خود پر ظلم کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کا حق ہے اور سماج کو اس کا یہ حق کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔